Voice of Asia News

قومی سلیکشن کمیٹی اب تک میچ فنشر نہیں ڈھونڈ سکی ،عامر سہیل کی سلیکٹر پر تنقید

لاہور (وائس آف ایشیا)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عامر سہیل نے قومی سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ابھی تک میچ فنشرز ڈھونڈنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ کھلاڑیوں، سلیکٹرز اور ٹیم مینجمنٹ میں رابطے کا فقدان نظر آتا ہے جس کی وجہ سے اچھے اور معیاری کھلاڑی تیار نہیں ہو سکے۔ایک سوال پر عامر سہیل کا کہنا تھا کہ سب سے تشویش ناک بات یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم جدید کرکٹ کے تقاضوں پر پوری نہیں اتر رہی جبکہ دوسری بڑی ٹیمیں اپنی اننگز کے دوران زیادہ خطرہ مول لئے بغیر بھی 350 رنز کے آس پاس پہنچنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک سلیکشن کمیٹی اس امر کو یقینی بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ میچ میں پاکستانی ٹیم 300 پلس سکور کس طرح کرے گی۔اس وقت ٹیم کو میچ فنشرز کی ضرورت ہے ، اس لئے سلیکشن کمیٹی کو ایسے بیٹسمین تیار کرنے چاہئے تھے جو دس مقابلوں میں سے کم از کم 7 میچوں میں اچھا کھیل پیش کر سکیں۔سابق اوپنر کے مطابق انگلینڈ، بھارت ، نیوزی لینڈ ایسی ٹیمیں ہیں جو ون ڈے فارمیٹ میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اننگز میں 300سے زائد رنز بنا رہی ہیں۔ عامر سہیل کا کہنا تھا کہ زیادہ تر ٹیموں میں دو سے تین ایسے بیٹسمین موجود ہیں جن کا سٹرائیک ریٹ 100 پلس ہے جبکہ گرین شرٹس میں اس طرز کے کھلاڑیوں کی کمی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر100 سے کم سٹرائیک ریٹ پر ففٹی یا سنچری سکور کی جائے تو اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ عامر سہیل کے مطابق کپتان سرفراز احمد کو چھٹی یاساتویں جبکہ بابر اعظم کو چوتھی پوزیشن پر بھیجنا چاہئے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ احمد شہزاد اور احسان علی کو ورلڈ کپ میں کھیلنے کا موقع دینا چاہئے۔

image_pdfimage_print