Voice of Asia News

طالبان کی افغان حکومت وفد کے ارکان کی تعداد پر شدید تنقید

کابل( وائس آف ایشیا ) طالبان نے افغان حکومت کے وفد کے ارکان کی تعداد پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ کانفرنس ہے شادی کی تقریب یا دعوت نہیں، افغان حکومت اور طالبان میں مذاکرات قطر میں ہوں گے۔افغان میڈیا کے مطابق طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات کیلئے افغان وفد پرتنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کانفرنس ہے شادی کی تقریب یا دعوت نہیں۔یاد رہے طالبان سے ملاقات کیلئے افغان حکام نے 250 رکنی وفد کی فہرست جاری کر دی کی تھی ، جس میں افغان صدر اشرف غنی، چیف آف اسٹاف عبدالسلام رحیمی اور انتخابات میں ہارنے والے رہنما امراللہ صالح سمیت افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ سمیت 52خواتین بھی شامل تھیں۔اس سے قبل 2015 میں طالبان کی افغان حکومت سے ملاقات خفیہ طور پر پاکستان میں ہوئی تھی، جو افغان طالبان کے رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کے ساتھ فوری ختم ہوگئی تھی۔خیال رہے 18 سالہ امریکی مداخلت کے بعد واشنگٹن کے طویل عرصے سے زور دینے پر قطر میں ہونے والی 3 روزہ مذاکرات کا آغاز جمعے سے ہوگا۔رپورٹ کے مطابق طالبان کی جانب سے دوحہ میں مذاکرات کی سربراہی کرنے والے افراد کی حتمی فہرست کا تاحال اعلان نہیں کیا گیا ۔طالبان نے رواں سال فروری کے مہینے میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات میں افغان نمائندوں سے ملاقات کی تھی تاہم اس میں اشرف غنی حکومت کا کوئی بھی فرد شامل نہیں تھا، سابق صدر حامد کرزئی کے ترجمان جو ماسکو مذاکرات میں موجود تھے۔رواں ماہ اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے طالبان کے وفد کے 11 افراد پر سے سفری پابندی ختم کردی ہے تاکہ وہ مذاکرات کا حصہ بن سکیں۔واضح رہے افغان حکام اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود طالبان نے افغانستان میں دہشت گرد حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا تھا۔

image_pdfimage_print