Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں85 فیصد پیلٹ متاثرین نفسیاتی بیماریوں کا شکار : تحقیقی رپورٹ

سرینگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر کے نفسیاتی امراض کے ڈیپارٹمنٹ کی طر ف سے کی گئی ایک تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ 85فیصد پیلٹ متاثرین نفسیاتی امراض کا شکار ہوچکے ہیں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ’’ پیلٹ متاثرین میں نفسیاتی امراض‘‘کے زیر عنوان تحقیق میں کہاگیا ہے کہ 2016ء میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران پیلٹ سے متاثرہ 325افراد گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر سے منسلک مختلف ہسپتالوں میں نفسیاتی امراض کا علاج کروارہے ہیں۔ تحقیق میں کہاگیا کہ2016ء کی عوامی احتجاجی تحریک کے دوران پیلٹ سے متاثرہ 380افراد کامعائنہ کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان میں 85فیصد متاثرین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ تحقیق میں کہاگیا کہ پیلٹ سے متاثرہ افراد کی اکثریت یعنی 68.4فیصدکی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں اور ان میں سے42.37فیصدکی آنکھیں شدید متاثر ہیں۔آنکھوں کے متاثرین میں سے92.92فیصدنفسیاتی امراض کے شکار ہوچکے ہیں جبکہ آنکھوں کے علاوہ پیلٹ متاثرین میں سے 70فیصدافراد نفسیاتی امراض کے شکارہیں۔کل پیلٹ متاثرین میں سے 85فیصد نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوچکے ہیں اوروہ مختلف ہسپتالوں میں علاج کروارہے ہیں۔زیادہ ترمتاثرین یعنی 25.79فیصد ذہنی دباؤکا شکار ہیں جبکہ15.79فیصد ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر،9.21فیصد پی ٹی ایس ڈی اور سب سے کم یعنی 2.11فیصد Hypomaniaکے شکار ہیں۔یہ تحقیق ڈاکٹر سلیم یوسف کی سربراہی میں کی گئی۔ قابض بھارتی انتظامیہ نے مقبوضہ کشمیر میں 2010ء میں پیلٹ گن متعارف کرائے۔ پیلٹ گن سے ایک ہی وقت پر دھات سے بنے چھوٹے چھوٹے گول پیلٹز کی بڑی تعداد فائر کی جاسکتی ہے جو مختلف سمتوں میں جاکر لوگوں کو شدید زخمی کرتے ہیں اورکئی دفعہ زخمی شخص کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔

image_pdfimage_print