Voice of Asia News

لبریشن فرنٹ کا یاسین ملک کی مسلسل غیر قانونی نظربندی پر اظہار تشویش

سرینگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ نے بھارت کے بد نام زمانہ تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک کونامعلوم مقام پرمسلسل نظر بندرکھنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت کو ان اوچھے ہتھکنڈوں سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق لبریشن فرنٹ کے نائب چیئرمین سلیم ہارون نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہاکہ بھارت اپنے جارحانہ اور جابرانہ اقدامات سے کشمیری عوام اورقیادت کو زیر نہیں کر سکتا اور بھارت جتنی جلدیہ نوشتہ دیوار پڑھ لے گا اتنا ہی اس کے لئے بہتر ہوگا ۔انہوں نے کہاکہ لازوال قربانیوں سے مزین ہماری تحریک آزادی منزل مقصود پر پہنچ کر ہی دم لے گی۔ انہوں نے پارٹی چیئرمین محمد یاسین ملک ،امیرِ جماعت اسلامی ڈاکٹر حمید فیاض اور جمعیت اہلحدیث کے نائب صدر مولانا مشتاق احمد ویری سمیت حریت رہنماؤں کو بھارت کی مختلف جیلوں میں منتقل کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت گذشتہ تین دہائیوں سے یہ حربے استعمال کر چکا ہے لیکن کشمیریوں کے آزادی کے موقف کو تبدیل کرنے میں ناکام رہا اور آئندہ بھی ناکام رہے گا۔سلیم ہارون نے کہاکہ جموں وکشمیرمیں رچایا جانے والا انتخابی ڈرامہ کسی صورت میں تحریک آزادی کے مفاد میں نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقومی برادری بالخصوص اقوام متحدہ بھی اس عمل کو حق خود ارادیت کا نعم البدل نہیں مانتی۔ انہوں نے کشمیری عوام سے اپیل کی کہ وہ بھارتی آئین کے تحت ہونے والے نام نہاد انتخابات سے دور رہیں۔انہوں نے انتخابی ڈرامے میں شرکت کرنے والے بھارت نواز رہنماؤں پر زوردیاکہ بھارتی ظلم و جبر و ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کے خلاف بھارتی عزائم کی تکمیل میں بھارت کے سہولت کار بننے اور مگر مچھ کے آنسو بہانے سے بہتر ہے کہ وہ قوم سے معافی مانگ کر کشمیریوں کے حق خود ارادیت اور آزادی کی حمایت کریں جس کے لئے کشمیری قوم نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔a

image_pdfimage_print