Voice of Asia News

بھارتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ ،حریت کا نفرنس کی ہڑتال اور بائیکاٹ

سرینگر+جموں(وائس آف ایشیا )بھارتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ (آج) ،حریت کا نفرنس کی ہڑتال اور بائیکاٹ کی اپیل،وادی میں سکیورٹی سخت،فوج الرٹ،سرینگر اوراودھمپورنشستوں کیلئے میدان سج گیا ، 25امیدوار میدان میں دونوں نشستوں پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور بھارت مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نمایاں امیدوار ہیں ۔تفصیلات کے مطابق بھارت کے پارلیمانی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں18اپریل کو سرینگر اور اودہمپورپارلیمانی نشستوں کیلئے منگل کو انتخابی مہم کا اختتام ہوا۔وسطی کشمیر کی نشست پر13امیدوار جبکہ اودہمپور نشست پر 12امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہے۔ان دونوں نشستوں پر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور بھارت مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نمایاں امیدوار ہیں۔ اس نشست پر نیشنل کانفرنس کے ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، پی ڈی پی کے آغا محسن ،پیپلز کانفرنس کے عرفان انصاری،بی جے پی کے خالد جہانگیر اور عوامی اتحاد پارٹی کے ایڈوکیٹ بلال سلطان سمیت دیگر13امیدوار میدان میں ہیں۔ الیکشن حکام کے مطابق سرینگر ضلع میں46جلسے منعقد ہوئے،جس دوران انتخابی مہم مجموعی طور پر خوشگوار رہی۔ ذرائع نے بتایا کہ اس دوران انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی16 شکایتیں بھی موصول ہوئیں،جن میں سے9شکایتوں پرکارروائی بھی عمل میں لائی گئی۔ سرینگر پارلیمانی نشست پر2017کے ضمنی انتخابات کے دوران7.2فیصد ووٹ ڈالے گئے تھے،جبکہ اس دوران9انسانی جانیں بھی تلف ہوئیں تھی،اور بیسوں زخمی ہوئے تھے۔اس دوران خانصاحب علاقے میں ایک نوجوان فاروق احمد ڈار کو فوجی آفسر نے گاڑی کے آگے باندھا تھا،اور سنگبازی سے بچنے کیلئے اپنا راستہ ہموار کیا تھا۔ سرینگر پارلیمانی نشست پر12لاکھ90ہزار318رائے دہندگان کو ووٹ ڈالنے کا حق حاصل ہے،جن کیلئے1716پولنگ مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے۔وسطی کشمیر کی نشست سے نقل مکانی کرنے والے ووٹروں کیلئے جموں میں21اور ادھمپور و دہلی میں ایک،ایک پولنگ مرکز کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔جغرافیائی طور پر سب سے طویل اودھمپور۔ ڈوڈہ حلقہ6اضلاع کشتواڑ، ڈوڈہ، رام بن،ریاسی، اودھمپور اور کٹھوعہ جبکہ17اسمبلی نشستوں کشتواڑ، اندروال، ڈوڈہ، بھدرواہ، رام بن، بانہال، اودھمپور، رام نگر، چنینی، کٹھوعہ، ہیرا نگر، بنی، بسوہلی، بلاور، ریاسی، گول ارناس اور گلاب گڑھ پر مشتمل ہے ۔اس حلقہ میں رائے دہندگان کی کل تعداد16لاکھ85ہزار779ہے جن میں سے 8لاکھ76ہزار319مرد جبکہ 7لاکھ،89ہزاراور105خواتین ووٹر ہیں ۔اودھمپور۔ڈوڈہ حلقہ سے بی جے پی ڈاکٹر جتیندر سنگھ، کانگریس کے وکرم ادتیہ سنگھ، ڈوگرہ سوابھی مان سنگٹھن کے چوہدری لعل سنگھ اور پنتھرز پارٹی کے چیئرمین ہرش دیو سنگھ سمیت 12امیدوار میدان میں ہیں۔اس اہم نشست پر2014کے انتخابات میں بی جے پی امیدوار ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کامیابی حاصل کی تھی۔واضح رہے کہ 2014کے انتخابات میں 14لاکھ 69ہزار72رائے دہندگان میں سے 10لاکھ، 42ہزاراور375ووٹروں نے حصہ لیا اور مجموعی طور پر پولنگ کی شرح 70.95فیصد رہی ۔اس الیکشن میں جتیندر سنگھ نے 4لاکھ، 87ہزاراور369ووٹ لیتے ہوئے کانگریس کے غلام نبی آزاد کو ہرایاتھا ۔آزاد کو اس الیکشن میں 4لاکھ،26ہزاراور393ووٹ ملے تھے ۔دلچسپ امر ہے کہ 2009سے 2014تک کانگریس کی طرف سے اس نشست پر ممبر پارلیمنٹ رہنے والے چوہدری لعل سنگھ نے آزاد کے حق میں مہم نہیں چلائی اور انہوں نے انتخابات کے بعد بی جے پی میں شمولیت کرلی تھی تاہم اس مرتبہ وہ خود اپنی جماعت سے بی جے پی اور کانگریس کے خلاف الیکشن لڑ رہے ہیں ۔اودھمپور حلقہ کانگریس کا گڑ رہاہے اور اس پر بی جے پی کی طرف سے پہلے چمن لعل گپتا اور پھر 2014میں جتیندر سنگھ کامیاب ہوئے ہیں ۔ اس حلقہ کیلئے حکام کی طرف سے 2ہزار710پولنگ مراکز قائم کئے گئے ہیں ۔دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئر مین سید علی گیلانی نے(آج) 18اپریل کو انتخابات کا بائیکاٹ اور بڈگام، گاندربل اور سرینگر اضلاع میں مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف کشمیریوں کا قتل عام جاری ہے، آزادی پسند لیڈران،کارکنان اور سینکڑوں نوجوانوں کو بلا جواز قید کیا گیا ہے ، ریاست کو اقتصادی طور مفلوج بنانے کے لیے آئے روز تاناشاہی فرمان جاری کئے جاتے ہیں اور یہاں کی مسلم آبادی کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے لیے عدالتوں کو استعمال کیا جاتا ہے اور دوسری طرف بھارتی حکمران الیکشن سے لوگوں سے اس ظلم وجبر اور بربریت کی تائید حاصل کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندنواز تنظیمیں اور ان کے افراد کو عام لوگوں کے جینے مرنے سے کوئی مطلب نہیں ہے اور وہ ہر صورت میں الیکشن ڈرامے میں کامیابی حاصل کرکے بھارت کے فوجی قبضے کو مضبوط تر بنانے کا کارنامہ انجام دینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لینا چاہتے ہیں۔گیلانی نے کہا کہ یہ لوگوں کی آزمائش کا موقعہ ہے کہ وہ 2017کے سرینگر پارلیمانی انتخابات کی طرح غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مکمل بائیکاٹ کریں۔گیلانی نے کہا کہ الیکشن میں حصہ لینا اور ووٹ ڈالنا نہ صرف ان قربانیوں کے ساتھ غداری اور سودابازی ہے، بلکہ اس طرح سے ہم بھارت کے جبری فوجی قبضہ کو مضبوط بنانے کے مجرم بن جاتے ہیں۔ گیلانی نے کہا کہ 35-A، 370کو بچانے، سنگ بازوں کے کیس واپس لینے، یا تبدیلی کے کھوکھلے اور فریب کارانہ نعروں سے اس لٹی پٹی اور مجروح قوم کو ایک بار پھر دھوکہ کھانے کی متحمل نہیں ہوسکتی ۔ سرینگر پارلیمانی حلقے میں منگل کو دوسر ے روز بھی شہر میں پولیس اور نیم فوجی دستے الرٹ نظر آ ئے۔ جمعرات کو ہونے والی ووٹنگ کے پیش نظر امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کیلئے شہر سرینگر میں چندروز قبل چوکسی جا ری کر کے پو لیس اور نیم فوجی دستوں نے جگہ جگہ نا کے لگا کرگاڑیوں اور راہگیروں کی تلاشی کا روائیاں شروع کیں۔بیشتر مقامات پرپولیس اور فورسز کے ہزاروں اہلکا ر تعینات رہے ۔سرینگر اور دیگر حساس قصبہ جات میں نصب کلوز سرکٹ کیمروں کے ذریعے ہر لمحہ نظر گذر کو مزید فعال بنایاگیا ہے ا ور اس مقصد کیلئے سخت حفاظتی انتظاما ت کے تحت سرینگر اور اس کے گرد نواح میں پولیس اور نیم فوجی دستوں نے گاڑیوں کی چیکنگ اور راہ گیروں کی پوچھ تاچھ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے دوران لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے جبکہ مصروف بازاروں میں گشت کے لئے عام کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کی تعیناتی بھی عمل میں لائی گئی۔ بڈ شاہ چوک ۔ امیراکدل ،نیو سکریٹریٹ ، نوگام حیدر پور ہ، چھانہ پور، مولانا آزاد روڑ، بٹہ مالو ، جہانگیر چوک ، بمنہ ، رام باغ ، نشاط ، مگھر مل باغ ، خانیار ، قمرواری ، پارم پورہ اور سیمنٹ کدل میں وقفے وقفے سے سکوٹر و موٹر سائیکل سواروں ، آٹو رکھشا ، نجی گاڑیوں و مسافر گاڑیوں میں سوار لوگوں کے شناختی کارڈ چیک کئے گئے بلکہ ان سے پوچھ تاچھ بھی کی گئی ۔ اس موقعہ پر اسکوٹر وں اورگاڑیوں کی رجسٹریشن سے متعلق دستاویزات کی جانچ پڑتال کا عمل بھی تیز کردیا گیا ۔اس کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں خصوصی ناکے بٹھائے گئے جہاں گاڑیوں اور مسافروں کی چیکنگ کی جارہی تھی۔ سرینگر کے تجارتی مرکز لالچوک اور بڈشاہ میں صبح پولیس وفورسز اہلکا روں نے ایک ناکہ لگا دیا تھا جہاں گا ڑیوں کی تلاشی لے جا رہی تھی جبکہ کئی مقامات پر مسافروں اور راہگیروں کو قطاروں میں کھڑا کر کے ان کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے علاوہ ان سے پوچھ تاچھ کی گئی۔

image_pdfimage_print