Voice of Asia News

عمران خان مفاد پرست مصاحبین کے نرغے میں اور ملکی معیشت تباہی کے دھانے پر:تحریر : محمد قیصر چوہان

جب سے تحریک انصاف برسراقتدار آئی ہے ملک مسلسل تبدیلیوں ہی کی زد میں ہے۔ مہنگائی کے سونامی سے اچھے خاصے خوشحال لوگ بھی اب خط غربت کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جو غریب تھے وہ خط غربت سے بہت نیچے چلے گئے ہیں۔ عمران خان صاحب عوام صرف چہروں کی تبدیلی نہیں حقیقی مثبت تبدیلی چاہتے ہیں۔ عالمی مالیاتی اداروں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کے معاشی حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال اتنی ناگفتہ بہ ہے کہ اس سے خطہ بھی متاثر ہوگا اور یہ خطے کی معاشی ترقی پر بوجھ بن جائے گی۔ آئی ایم ایف کے ڈائریکٹر جہاد آزور نے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جن سے کاروباری ماحول اور انتظامی امور کو بہتر بنایا جاسکے۔ کچھ اسی طرح کے خیالات کا اظہار ایشیائی ترقیاتی بینک نے بھی کیا ہے۔ پاکستان کے حوالے سے جاری کردہ حقائق نامہ میں کہا گیا ہے کہ سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے کاروباری اور ریگولیٹری ماحول بہتر کرنا ہوگا۔ پاکستان کے بارے میں ان خیالات کا اظہا رپہلی مرتبہ نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ سفارشات پہلی مرتبہ پیش کی گئی ہیں۔ جب سے تحریک انصاف اقتدار میں آئی ہے ، اس دن سے ہی پاکستان کی معیشت روبہ زوال ہے۔ مہنگائی کا طوفان پھٹ پڑا ہے جس میں ملک کی ساری معاشی سرگرمیاں بہ گئی ہیں۔ صنعتیں اسی وقت چلتی ہیں جب مصنوعات کے خریدار موجود ہوں اور صنعتیں چلیں گی تو ملک کو محاصل کی مد میں آمدنی ہوگی جس سے سرکار اپنے اخراجات پورے کرسکے گی۔ عمران خان کی حکومت نے آتے ہی سب سے پہلا وار ہی یہ کیا کہ تمام تر بنیادی اجزاء کی قیمتوں میں بلاجواز اور لامحدود اضافوں کی راہ کھول دی ہے۔ پتا نہیں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرانے کا احمقانہ مشورہ حکومت کو کس نے دیا تھا۔ صرف اسی ایک بے قدری نے وہ تباہی مچائی ہے کہ ابھی تک اس سے ہونے والے نقصانات کا مکمل تخمینہ بھی نہیں لگایا جاسکا ہے۔ ایک ہی ہلّے میں روپے کی قیمت چالیس فیصد گرادی گئی۔ پھر اس کی آڑ میں گیس کی قیمتوں میں 141 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ اب مزید 80 فیصد اضافے کا بم گرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کچھ ایسی ہی صورتحال بجلی کی ہے۔ پٹرول کے نرخ بھی ہر ماہ بڑھادیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی احسان بھی جتایا جاتا ہے کہ اضافہ کرنا تو 12 روپے فی لیٹر تھا مگر رحم کھاتے ہوئے صرف 6 روپے فی لیٹر کیا گیا ہے۔ اس سب کا عام زندگی پر کیا اثر پڑا ہے ، اسے دواؤں کی قیمت میں اضافے سے دیکھا جاسکتا ہے کہ بعض ادویہ کی قیمتوں میں اضافہ سو فیصد سے زاید ہے۔ اب کوئی سمجھائے کہ ایک عام آدمی جو پہلے ہی اپنی زندگی کے دن بہ مشکل کاٹ رہا تھا کس طرح سے سو فیصد سے زاید مہنگائی کا اپنی محدود آمدنی میں مقابلہ کرپائے گا۔ تنخواہ دار طبقہ تو بری طرح سے پس ہی رہا ہے مگر چھوٹے اوردرمیانے درجے کے تاجر بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔ جب کاروبار ہی نہیں ہوگا تو منافع کہاں سے ملے گا۔ شہریوں کی قوت خرید میں کمی کا نتیجہ کاروبار میں کمی کی صورت میں نکلا ہے اور اس نے فروخت کرنے والے تاجروں اور مصنوعات تیار کرنے والے صنعت کاروں ، سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بھیانک صورتحال سب کے سامنے ہے کہ کارخانے بند ہورہے ہیں اور مزدور بے روزگار۔ زندگی کا کون سا شعبہ ہے جوتحریک انصاف حکومت کی نااہلی سے متاثر نہیں ہو ا۔ میڈیا جو پاکستان بننے کے بعد سے کبھی بحران کا شکار نہیں ہوا، اب وہ بھی اپنے حجم کو مختصر کرنے اور کارکنان کو فارغ کرنے پر مجبور ہے۔ اس پوری صورتحال کا مزید افسوسناک پہلو حکومت کا حقیقت سے منہ چھپانا ہے۔ روز عمران خان بھی اور ان کے مصاحبین یہی بیانات دیتے ہیں کہ اب صورتحال بدلنے والی ہے۔چند روز پہلے بھی یہی تسلی دی ہے کہ قوم گھبرائے نہیں۔کوئی وزیر نوکریوں کی بارش برسانے لگتا ہے تو کوئی ملک کو تیل میں نہلانے کی بات کرتا ہے۔ خیالی پلاؤ پکانے والوں کے بیانات نے عوام کو مشتعل کرنے کیلئے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ جب تک صورتحال کا درست ادراک نہیں کیا جائے گا اور مرض کی درست تشخیص نہیں کی جائے گی تو کس طرح سے درست علاج ممکن ہے۔ جناب عمران خان خوشامدی اور مفاد پرست مصاحبین کے نرغے سے باہر نکلیں اور حقائق سے نظریں چرانے کے بجائے اس کا مشاہدہ کریں۔ اپنے ان خاص مصاحبین سے جو سب کچھ بہتر ہونے کی قوالی گارہے ہیں ، ذرا ایک عام آدمی کی تنخواہ میں گھریلو بجٹ ہی بنوا کر دیکھ لیں۔ جب بجلی اور گیس کے بل ہی تنخواہ کا 50 فیصد کھا جائیں تو بقیہ امور کیلئے بندہ کیا کرے گا۔ گھر کا کرایہ ، دودھ والے کا بل ، بچوں کے سکولوں کی فیس کا کہاں سے بندوبست کرے گا۔ روز مہنگی ہوتی ہوئی اشیائے خورد و نوش کے حصول کیلئے کہاں سے رقم لائے گا۔ اس پر بجلی کمپنیوں کی دہشت گردی کہ جسے چاہیں لاکھوں روپے کا جعلی بل بھیج دیں اور کہیں پر کوئی شنوائی نہیں۔ اب گیس کمپنی نے بھی بجلی کمپنیوں کے رنگ ڈھنگ اپنانے شروع کردیے ہیں۔ اب تو یہ مسائل کئی گنا بڑھ چکے ہیں۔ اگر عمران خان آئی ایم ایف کے ایجنٹ کا روپ نہیں دھار چکے تو سب سے پہلے مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والے اقدامات کو واپس لیں۔ ڈالر کی قیمت دوبارہ سے ایک سو روپے پر لاکر منجمد کی جائے۔ اسی طرح پٹرول اور گیس کی قیمتیں بھی پرانی سطح پر لاکر منجمد کی جائیں۔ قبل از انتخابات لگائے گئے اپنے نعروں پر عمل کریں اور ملک سے لوٹی گئی رقم سرکاری خزانے میں واپس لائی جائے۔ محاصل کی چوری کا سدباب کیا جائے۔ لارج ٹیکس پیئر یونٹ میں اربو ں روپے کی چوری ہورہی ہے۔ اگر یہی چوری روک دی جائے تو صورتحال بہت بہتر ہوسکتی ہے۔ ریاست کے اندر ریاست کا درجہ اختیار کرنے والے اداروں سوئی ناردن اور سوئی سدرن ، بجلی کی کمپنیوں ،دوا ساز کمپنیوں اور پٹرول کے نرخ مقرر کرنے والے اداروں کو لگام دی جائے۔ مہنگائی کا خاتمہ کرکے عوام کو جینے کا حق دیا جائے۔ اگر عمران خان نے مہنگائی کے خاتمے کیلئے بنیادی اقدامات نہیں کئے تو انہیں سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی حکومت کے خاتمے کیلئے حزب اختلاف کو کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑے گی۔عوام کے احتجاجی ریلے چہار طرف نکلے ہوئے ہوں گے اور ان کی حکومت خود ہی کسی کوشش کے بغیر زمیں بوس ہوچکی ہوگی۔ عمران خان کو پاکستانی عوام کی گردنوں پر مسلط کرنے والے نادیدہ ہاتھوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اہم وزارتوں پر لائق اور اہل افراد کا تقرر ممکن بنائیں۔ خارجہ امور، داخلہ ، معاشی امورکی وزارتیں اور صوبوں کی وزارت اعلیٰ نو آموزوں کے حوالے کرنے کی چیزیں نہیں ہیں۔نہ صرف ان وزارتوں میں اہل افراد کا تقرر کیا جائے بلکہ ان وزراء کے ساتھ پیشہ ورانہ اہلیت کے حامل افراد کی پوری ٹیم بھی ہونی چاہیے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے وزارت خزانہ پوری کی پوری آئی ایم ایف کے املا پر چل رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کوشامدی اور مفاد پرست مصاحبین کے نرغے میں ہیں جبکہ پاکستان کی معیشت تباہی کے دھانے پر پہنچ چکی ہے۔کپتان کی ٹیم کے اہم رکن اسد عمر مستعفی ہوگئے ہیں تاہم ساتھ ہی وہ خبردار بھی کرگئے ہیں کہ کوئی حالات کی بہتری کی اُمید نہ رکھے۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print