Voice of Asia News

پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کے شکنجے میں: محمد قیصر چوہان

عالمی مالیاتی ادارے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ یا آئی ایم ایف جس کو انٹرنیشنل مانیٹری فنڈبھی کہتے ہیں کے ساتھ پاکستانی حکومت کاپروگرام پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اور جلد ہی آئی ایم ایف اورحکومت کے ساتھ تکنیکی تفصیلات طے ہوجانے کے بعد معاہدے پر دستخط بھی ہوجائیں گے، اور یہ ملکی تاریخ کا سب سے بڑا معاشی پیکیج ہوگا۔اور اس پیکیج کا قرض اگلی نسل اُتارے گی۔ حکومت آئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط پر آئندہ ملکی معیشت استوار کرے گی۔ اس معاہدے کے باعث حکومت بجلی، گیس اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل ردو بدل کرتی رہے گی تاکہ عالمی ادائیگیاں کسی طرح بھی متاثر نہ ہوں۔ اپنے قرض کی مع سود محفوظ واپسی کیلئے آئی ایم ایف نے ملکی معیشت کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کی شرط رکھی ہے تاکہ پاکستان قرض کی واپسی اور عالمی ادائیگیوں کے بحران میں مبتلا نہ ہو۔ معاہدے سے قبل اس ادارے نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں پاکستان کے معاشی حالات کا نقشہ کھینچا گیا اور خوف میں مبتلا کرکے حکومت کو اپنی کڑی شرائط قبول کرنے پر آمادہ کیا گیا ہے۔ وزیر خزانہ آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر پیکیج لینے کی نوید بھی سناتے رہے ہیں، لیکن اب عقدہ کھلا کہ آئی ایم ایف اپنی شرائط پر معاہدہ کررہا ہے۔
عمران خان نے تبدیلی، نیا پاکستان، کرپشن فری معاشرے کی تشکیل اور سیاسی و اقتصادی نظام میں اصلاحات کے ایجنڈے کی بنیاد پر عوام میں پذیرائی حاصل کی۔ اپنے اقتدار کے پہلے سو دن کا ایجنڈا عوام کے سامنے رکھا اور ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا، تب کہیں جاکر انہیں ووٹ دلائے گئے۔ لیکن اقتدار کے بعد ضمنی بجٹ دینے کے باوجود حکومت ہانک کر عوام کو آئی ایم ایف کی دہلیز پر لے گئی۔ وہ آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کیلئے بجلی، گیس، پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے سے متعلق اْس کی پیش کردہ تجاویز کو اقتصادی اصلاحات کا نام دے رہی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اپنے قیام کے اوّل روز سے یہ تاثر دینے کی کوشش کررہی تھی کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس جانے سے گریز کرے گی۔ اس مقصد کیلئے وزیراعظم عمران خان نے دوست ممالک کی مدد حاصل کرنے کیلئے کئی غیر ملکی دورے کئے جن میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور ملائشیا خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے باوجود پاکستان کی سیاست اور اقتصادیات پر نظر رکھنے والے تمام اہل نظر کو یقین تھا کہ پاکستان آئی ایم ایف کے چنگل سے اتنی آسانی سے اپنی جان نہیں چھڑا سکتا۔ اس سلسلے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کی حکمران اشرافیہ کی سطح پر عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی سے آزادی کا کوئی ارادہ بھی پایا جاتا ہے؟ پاکستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ابتدا میں سیاست دانوں اور افسر شاہی میں ایسے نسبتاً آزاد ذہن افراد موجود تھے جو اس بات کا شعور رکھتے تھے کہ اپنی سیاسی آزادی کو برقرار رکھنے کیلئے اقتصادی آزادی بھی لازمی ہے۔ اس وجہ سے ابتدائی سیاسی حکومتوں نے اپنی آزادی برقرار رکھنے کیلئے ٹوٹی پھوٹی مزاحمت کی، لیکن بالآخر عالمی مالیاتی اداروں کی ملازمت اور کنسلٹنسی کرنے والے ماہرین معیشت پاکستان کی اقتصادی پالیسی سازی کے ذمہ دار بن گئے۔ پاکستان میں امریکی اشارے پر قائم ہونے والی فوجی حکومتوں نے پاکستان کو امریکا اور عالمی سرمایہ داری کے جال میں جکڑ دیا۔ ان فیصلوں نے پاکستان میں ایک ایسے طبقے کو طاقتور کیا جس نے اپنی دولت میں اضافہ کیا۔ عام آدمی کے حالات بد سے بدتر ہوتے چلے گئے۔ چھوٹی اور درمیانی صنعتیں جو پاکستان کی اقتصادیات کی ریڑھ کی ہڈی تھیں، تباہ ہوگئیں۔ ذرائع روزگار محدود سے محدود تر ہوتے گئے۔ البتہ دولت مندوں کا ایک ایسا طبقہ وجود میں آگیا جس نے آکاس بیل کی طرح قومی وسائل کو چوس کر غربت اور افلاس میں اضافہ کیا۔ ان مسائل کی شدت میں اْس وقت اضافہ ہوا جب نائن الیون کے پراسرار واقعے کے بعد جنرل (ر) پرویزمشرف نے پاکستان کو امریکی کرائے کی فوج بنادیا۔ اس وجہ سے پاکستان میں حکومت سازی میں امریکا کی عریاں مداخلت بھی سامنے آئی۔ امریکی مداخلت کے نتیجے میں پاکستان کو ایک بار پھر آئی ایم ایف کے شکنجے میں جکڑ دیا گیا۔ یہ کام ایک غیر مقبول حکومت کے ذریعے کرایا گیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان اقدامات کے خلاف کسی سیاسی جماعت نے مزاحمت نہیں کی، حالانکہ ہر آزاد ذہن آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدوں کو کبھی بھی ملک کے حق میں نہیں سمجھتا تھا۔ پاکستان میں تبدیلی کی جس ضرورت کا احساس پیدا ہوا اس کا اصل سبب امریکا اور آئی ایم ایف کی غلامی کے تحت بنائی جانے والی پالیسیوں کی وجہ سے پیدا ہونے والا فساد ہے۔ اس مقصد کیلئے امریکی سامراجی آقاؤں اور پاکستان میں اْن کے نمائندوں کو ضمیر فروش اور کند ذہن اور بدعنوان عناصر کی ضرورت تھی۔ پاکستان میں بد عنوانی کا کلچر پیدا ہی امریکا نے کیا۔ اس وجہ سے پاکستان میں اقتصادی مسائل کا کوئی حقیقی تجزیہ بھی موجود نہیں ہے۔ اب ہر سطح پر ایسے ماہرین ہی دستیاب ہیں جو عالمی اقتصادی نظام سے آزاد ہو کر سوچ ہی نہیں سکتے۔ سیاسی حکومتوں کا مسئلہ یہ ہے کہ انہیں حقیقی ماہرین معیشت بھی دستیاب نہیں ہیں۔ کسی نے بینکر کو، کسی نے ملٹی نیشنل کمپنی کے سربراہ کو معاشی ماہر سمجھ لیا ہے۔ ان لوگوں کے اندر اتنی بھی صلاحیت نہیں ہے کہ وہ مفید اور مضر کا فرق جان سکیں۔ جہاں تک آئی ایم ایف کے موجودہ معاہدے کا تعلق ہے، امریکا نے اس بات کو چھپانے کی کوئی کوشش نہیں کی کہ آئی ایم ایف کا قرض امریکی مرضی کے بعد ملے گا۔ امریکا اس وقت افغانستان کی ناکام جنگ سے آبرومندانہ طریقے سے نکلنے کی کوشش کررہا ہے۔ امریکا نے وار آن ٹیرر کے نام پر افغان طالبان کے خلاف جنگ کا اعلان کیا تھا جو دنیا کی سب سے پسماندہ اور جنگ زدہ ملک کی حکومت تھی، لیکن اب اسے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا پڑا ہے۔ اس صورتِ حال نے جہاں ایک طرف عالمی سیاست کو یک قطبی دنیا سے کثیر قطبی دنیا میں بدل دیا ہے، وہیں دوسری طرف روس اور چین امریکی بالادستی کو چیلنج کررہے ہیں۔ اس بدلتی صورت حال نے پاکستان کیلئے خطرات بڑھا دیے ہیں۔ اس وجہ سے امریکا نے پاکستان کے سر پر ’’دہشت گردی‘‘ کا سرپرست اور مالی معاون قرار دینے کی تلوار لٹکا دی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات ایف اے ٹی ایف مذاکرات کے ساتھ منسلک ہیں۔ اس لیے امریکا آئی ایم ایف کے شکنجے سے آزادی حاصل کرنے کی اجازت پاکستان کے حکمرانوں کو دینے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اس دوران میں تمام شرائط منظور کرائی گئی ہیں اور اصلاحات کے نام پر ایسا نظام قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے جس کے تحت پاکستان کی غلامی کسی بھی صورت میں آزادی نہ بن سکے۔ خاص طور پر چین امریکا کش مکش محکوم اور مظلوم قوموں، بالخصوص عالم اسلام کیلئے عافیت کا سبب بن سکتی ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کا مقصد یہ بھی ہے کہ چین پاکستان تعلقات اور سی پیک کے فوائد سے پاکستان کو محروم رکھا جائے۔ اس صورتِ حال میں سیاسی و اقتصادی آزادی کے بغیر غربت و افلاس کا خاتمہ بھی ممکن نہیں۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print