Voice of Asia News

تبدیلی چہرے نہیں ،کرپٹ استحصالی نظام بدلنے سے آئے گی قوت عوام پارٹی کے بانی وصدر شہباز ابن علی کا ’’وائس آف ایشیا ‘‘ کو خصوصی انٹر ویو محمد قیصر چوہان

پاکستان کی سیاست میں شہباز ابن علی کا نام جہد مسلسل، محنت، لگن اور بلند حوصلے کا نام ہے۔ مجاہدانہ کردار کے مالک درد دل رکھنے والے انتہائی سادہ عاجزی پسند مستقل مزاج سیاستدان ہیں۔قوت عوام پارٹی کے صدر شہباز ابن علی کا شمار ملکی سیاست کے ان راہنماؤں کی صف میں ہوتا ہے جنہوں نے سیاست کو تجارت نہیں عبادت سمجھاہے، شہباز ابن علی ملکی سیاست کی تاریخ میں ایک زیرک، راست باز، باوقار، بلند قامت اور نیک نام سیاست دان کے طور پرجانے جاتے ہیں۔ ایک سیلف میڈ انسان کے طور پر ان کی حیثیت ایک اعلیٰ کردار کے حامل راہنما کی بھی ہے۔ وہ زندگی میں اپنے اصول اور نظریات کی خاطر ایثار و قربانی کی اعلیٰ مثال اپنے عملی کردار سے رقم کررہے ہیں۔ اپنے قرابت داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرنے کے معاملہ میں قرآنِ حکیم کے اس حکم پر عمل پیرا ہیں کہ اس سے کسی کی عزتِ نفس مجروح نہ ہو۔ ان کا دامن ہر طرح کی حرص و ہوس اور دْنیا کی طمع و لالچ سے پاک ہے۔بلاشبہ ان کا شمار ان ایثار اور وفاکیش لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاکستان اور پاکستانی معاشرہ کو دیا بہت کچھ، مگر لیا کچھ نہیں۔شہباز ابن علی اپنی آمدن کا ایک حصہ غریب رشتہ داروں کی کفالت اور ایک حصہ قوت عوام پارٹی اور دیگر مستحق لوگوں کی ضروریات پوری کرنے پر خرچ کرتے ہیں۔ وہ ایک درد مند دل رکھنے والے ایسے انسان ہیں جو اختلاف رائے کو کھلے دل کے ساتھ برداشت کرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ اس وجہ سے ہر مکتبہ فکر کے سیاسی لوگوں میں ان کا بے حد احترام کیا جاتا تھا۔بلاشبہ وہ شرافت، دیانت، قناعت، رواداری، تحمل و برداشت اور قربانی کا پیکر ہیں۔ گزشتہ دنوں نمائندہ ’’وائس آف ایشیا ‘‘ نے قوت عوام پارٹی کے بانی وصدر شہباز ابن علی سے ایک ملاقات کی جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال :وزیر اعظم عمران خان نے اپنی کابینہ میں جو تبدیلی کی ہے اس بارے میں آپ کیا کہیں گے؟
شہباز ابن علی :کپتان نے خود ہی اپنے 6 کھلاڑیوں کو بولڈ کر کے ثابت کردیا ہے کہ ان کی حکومت ملکی نظام چلانے اور عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔ملک کی غرب عوام کو وفاقی کابینہ میں ہونے والی تبدیلی سے کوئی غرض نہیں ہے ،عوام تومہنگائی کے عذاب اور موجودہ کرپٹ اور استحصالی نظام سے نجات چاہتے ہیں۔نئے پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ عمران خان کی کابینہ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے وزیر اعظم یوسف رضاگیلانی کی کابینہ کے پانچ وزراء شامل ہیں جن میں شاہ محمود قریشی، فردوس عاشق اعوان ، اعظم سواتی ، حفیظ شیخ اور نورالحق قادری گیلانی شامل ہیں۔عمران خان حکومت کی کارکردگی کا اندازہ اسد عمر کی کارکردگی سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ اسد عمر کی کارکردگی یہ رہی کہ انہوں نے 8 ماہ کی قلیل مدت میں 4 بجٹ پیش کئے۔ اس عرصے میں ملک پر 3489 ارب روپے کا قرض مزید چڑھادیا۔ ان کی بہترین کارکردگی کی بناء پر اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس 52ہزار پوائنٹ سے گر کر 34 ہزارپر پہنچ گیا ۔ ترقی کی شرح 6 فیصد سے گر کر 3فیصد پر آگئی ہے۔ ڈالر ایک سو روپے سے اُڑ کر 144 روپے پر پہنچ گیا اور اس کی پرواز جاری ہے۔ پٹرول تقریبا 100 روپے فی لیٹر پر اور ڈیزل 120 روپے پر پہنچادیا۔ اس سے بھی بڑا کمال یہ رہا کہ آئی ایم ایف کی تمام شرائط پر تسلیم کر کے قرض ملنے سے قبل ہی ان پرعملدرآمد شروع کردیا گیا جن میں گیس اور بجلی کے نرخوں میں زبردست اضافہ بھی شامل ہے۔ آئی ایم ایف کی ان شرائط پر عملدرآمد کی وجہ سے ملک کا اقتصادی ڈھانچا ہی تباہ و برباد ہو کر رہ گیا۔ اب جبکہ سارے ہی کام تمام ہوگئے تو اسد عمر کو پویلین کی راہ دکھا دی گئی۔ اس سے سب سے بڑا فائدہ عمران خان کو تو یہ پہنچا کہ سارا الزام اسد عمر کے سر منڈھ دیا گیا اور عمران خان ہر بے قاعدگی سے بری الذمہ ہوگئے اور اب کابینہ میں تبدیلی سے ان کی واہ وا بھی ہوگئی۔ عمران خان ٹیم کے کپتان ہیں ، وہ کیسے اس تمام صورتحال سے اپنے آپ کو مبرا قرار دے سکتے ہیں۔ اسد عمر کی جگہ پر عبدالحفیظ شیخ کو خزانہ و مالیات کی ذمہ داری دے دی گئی ہے۔ عبدالحفیظ شیخ کی تعیناتی ہی بہت کچھ بتانے کیلئے کافی ہے۔ ان کی تعیناتی سے ٹیکنوکریٹ حکومت کے قیام کی افواہوں کو صداقت مل گئی ہے اور ملک میں کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی اور جمہوریت کے تسلسل کی اُمیدیں دم توڑ گئی ہیں۔عبدالحفیظ شیخ کے بارے میں شروع سے یہ تاثر رہا ہے کہ وہ آئی ایم ایف کے خاص آدمی ہیں اور آئی ایم ایف کی منشا کے مطابق پاکستان کی اقتصادیات کو پہلے بھی وہ ترتیب دے چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسد عمر کے جانے سے پاکستان کی معیشت کی سمت پر کوئی مثبت اثر پڑنے کی امید نہیں ہے۔ حفیظ شیخ کی تعیناتی آئی ایم ایف کی منشا کے مطابق کی گئی ہے تاکہ آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدوں پر عملدرآمد کیا جاسکے۔ اب عبدالحفیظ شیخ ہر معاملے پر کندھے اچکا کر یہی جواب دیں گے کہ جو کچھ طے پاچکا ہے وہ اس پر عملدرآمد کیلئے مجبور ہیں۔ بجٹ سے محض ایک ماہ قبل ہی عبدالحفیظ شیخ کو مالیات کا نگراں بنانے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ بجٹ مکمل طور پر آئی ایم ایف کے دیے گئے املا کی روشنی میں پیش کیا جائے گا۔ اور اب ملک میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کے تحت پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی۔ عمران خان کو سمجھنا چاہیے کہ پاکستان کے اقتصادی حالات میں نیا موڑ اسی وقت آیا ہے جب کوئی ٹیکنوکریٹ مالیا ت کا نگران رہا ،چاہے اس ٹیکنوکریٹ کا نام ڈاکٹرمحبوب الحق رہا ہو یا معین قریشی ، شوکت عزیز ہو یا شوکت ترین ، عبدالحفیظ شیخ ہو یا سلمان شاہ ، ان سب کے دور میں پاکستان کی اقتصادی پالیسیاں عوام کے مفاد کے بجائے غیرملکی ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفاد کو پورا کرنے کیلئے بنائی گئیں۔اور اب عالمی ایجنڈے کے تحت پاکستان میں ٹیکنو کریٹس سے حکومت چلانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔
سوال : تحریک انصاف حکومت کی اب تک کی کار کردگی پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
شہباز ابن علی : 75 گز کی باؤنڈری والے کرکٹ کے میدان میں عمران خان دس کھلاڑیوں کو کنٹرول کرتے تھے ۔انہوں نے جاوید میاں داد،عامر سہیل،انضمام الحق ، سلیم ملک ، وسیم اکرم ،عاقب جاوید اور مشتاق احمد جیسے بہترین کھلاڑیوں کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان کو 1992 کا ورلڈ کپ جتوایا ۔کرکٹ کے کھیل میں ہمیشہ اپنی من مانی کرنے والے عمران خان نے کنٹینر پر چڑھ کر قوم کو ترقی وخوشحالی،آئی ایم ایف اور کرپشن کے ناسور سے نجات دلانے کے سہانے خواب دکھائے۔ پاکستان تحریک انصاف اْن جماعتوں میں شامل ہے جس نے انتخابات میں عوام کو پیغام دیا تھا کہ وہ ’’آزمائی ہوئی‘‘ جماعتوں کو ووٹ نہ دیں، اور عوام کی ایک بڑی تعداد نے اس آواز پر لبیک کہتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف اور عمران خان کو ’’تبدیلی‘‘ کی علامت قرار دے کر اقتدار کے ایوان تک پہنچایا۔ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ تھاکہ وہ عوام کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ سے محفوظ رکھنے کیلئے اقدامات کرتی لیکن تبدیلی سرکار نے عوام کو ’’مہنگائی کے سونامی‘‘ ڈبو دیا ہے۔تحریک انصاف کی حکومت نے عوام پر مہنگائی کا عذاب مسلط کر دیا ہے۔پاکستان کو ریاست مدینہ کا ماڈل بنانے والے حکمران صبح شام عوام پر مہنگائی کے کوڑے برسا رہے ہیں،عمران خان کی حکومت غربت کے بجائے غریب مکاؤپالیسی پر عمل پیراہے۔ پاکستان کے حکمران غریب عوام کو علاج معالجے کی بنیادی سہولتیں دینے میں ناکام ہوگئے ہیں،سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات اوربیڈ تک دستیاب نہیں ہیں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹنے پر مجبور ہیں،سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال دیکھ کر اندازہ ہوتاہے کہ حکمرانوں کے نزدیک تعلیم اور صحت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ لینڈ، شوگر اور ڈر گ مافیا کا یہ نظام عام آدمی کا استحصال کر رہاہے،کرپشن اور ناجائز طریقے سے دولت بنانے والوں نے انتخابی نظام کو یرغمال بنا کر اقتدار کے ایوانوں میں پہنچ کر جمہوریت کو یرغمال بنا لیا ہے۔مہنگائی کے سونامی نے غریب عوام کی چیخیں نکلوادی ہیں ،پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان عمران خان اور ان کی ٹیم غریب عوام کو ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو گئی ہے۔گزشتہ برس عام انتخابات میں بڑے جوش وخروش کے ساتھ تحریک انصاف کو ووٹ دینے والے لوگ بڑھتی ہوئی مہنگائی سے تنگ آکر اب تحریک انصاف کی حکومت کو بددعائیں دینے لگے ہیں ۔ عمران خان میں سیاست میں سچ بولنے اورسچ سننے کی جرات وہمت نہیں ہے،اس نے الیکشن میں عوام کے ساتھ جو بھی وعدے کئے ان سب سے یو ٹرن لے لیا اور مکرہ گیا۔
سوال: کیا آئی ایم ایف یا ورلڈ بینک سے قرض لے کر پاکستان کی معیشت مضبوط ہو سکتی ہے؟
شہباز ابن علی :آئی ایم ایف ہو یا ورلڈ بینک یا پھر کوئی بھی عالمی مالیاتی ادارہ کسی بھی ملک کو قرض دیتے وقت اس پر اپنی مرضی کی شرائط عائد کرتا ہے جن کا مقصد دراصل قرض کیلئے دی گئی رقم کی سود سمیت وصولی کو بھی یقینی بنایا ہوتا ہے۔ اس لئے پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ترقی پذیر ملک اگر وہ اپنی معیشت میں بہتری کے نام پر آئی ایم ایف جیسے اداروں سے رجوع کرتا ہے تو وہاں کے عوام، سیاسی اشرافیہ، سماجی ماہرین یا کسی بھی شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں کو حیرت نہیں ہونی چاہیے کہ قرض کے عو ض اس ملک کو اپنی معاشی پالیسیاں قرض دینے والے ادارے کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق ترتیب دینا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے جب بھی آئی ایم ایف کے معاشی پروگرام میں شمولت کی تو اسے اس عالمی ادارے کی شرائط اور قواعد و ضوابط کو بھی تسلیم کرنا پڑا۔ پاکستان ہی نہیں دنیا کا کوئی بھی ملک اس عالمی ادارے کے معاشی پروگرام کے ذریعے اپنی معیشت کو بحال نہیں کر سکا۔ جہاں بھی آئی ایم ایف سے قرض لینے کی پالیسی کو اپنایا گیا وہاں ٹیکسوں کے بے ہنگم نظام نے عام آدمی کی زندگی کو عذاب بنا کر رکھ دیاہے،پاکستان کے حکمرانوں نے قائد اعظم کے پاکستان کو عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کے شکنجے میں پھنسا دیا ہے۔ لہٰذا جتنی جلدی ممکن ہو سکے قرض کے سودی نظام سے چھٹکارہ حاصل کر کے معیشت کو خود انحصاری کے اصول پر استوار کرنے کی منصوبہ بندی کی جائے اور پارلیمنٹ سے قانون سازی کرائی جائے کے آئندہ کوئی بھی حکومت آئی ایم ایف اورورلڈ بینک سے قرض نہیں لے گی۔
سوال:آپ کے خیال میں پاکستان میں کن لوگوں کی حکمرانی ہے؟
شہباز ابن علی :قائد اعظم محمد علی جناح کے پاکستان پر آج اُن جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کا قبضہ ہے جو ’’دین اسلام‘‘ کا پیغام بھول کر’’خودغرض‘‘ ہوگئے ہیں اور جن کی رگوں میں ’’استحصال‘‘ خون بن کر دوڑ رہا ہے، پارلیمنٹ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے ہاتھوں یرغمال ہے جبکہ غریب عوام کا استحصال بے ضمیر اور خود غرض جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خون میں شامل ہو گیا ہے اور یہ لوگ دین اسلام کا سکھایا ہوا سبق بھول گئے ہیں،رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم سے پہلے بہت سی قومیں اسی لیے ہلاک کی گئیں کہ وہ اپنے طاقت ور لوگوں کے جرائم سے صرفِ نظر کرتی تھیں اور کمزور لوگوں کو اُن کے جرائم پر سزا دیتی تھیں،بدقسمتی سے قائداعظم محمد علی جناح کے ’’اسلامی‘‘ اور ’’عوامی‘‘ پاکستان پر قابض بے ضمیر ،بے حس اور خود غرض جاگیرداروں اور سرمایہ داروں نے پاکستان کو ایک ایسی ریاست بنادیا ہے ،جہاں طاقت ور لوگ بڑے سے بڑا جرم کرکے سزا سے بچ جاتے ہیں جبکہ غریب اور کمزور لوگ معمولی جرائم میں بھیانک سزاؤں سے گزرتے ہیں۔
سوال : آپ ملک کے موجودہ سیاسی نظام بارے کیا کہیں گے؟
شہباز ابن علی : پاکستان کاموجودہ سیاسی اور معاشی نظام باکل ناکارہ ،گلا سڑا ،فرسو دہ اور عوام دُشمن ہے یہ استحصالی نظام ہے جس میں نہ انصاف ،نہ مساوات ،نہ انسانی حقوق کی آزادی اور نہ ہی پاسداری ،نہ عوام کا احترام ،نہ قانون کی حکمرانی ،نہ آئین کی بالادستی ، ہر طرف پریشانی اور اضطراب ،افراتفری ،کرپشن ،بدعنوانی اور عوام دُشمن پالیسیوں کا راج ہے ۔ آئین وقانون کی بالا دستی اور احترام نہ ہونے سے ہی مارشل لا لگے اور وی آئی پی کلچر پروان چڑھا ہے ،ملک کا آئین قرآن و سنت کو سپریم لاء قرار دیتا ہے اور یہ آئین ملک میں اسلامی قوانین کے نفاز کا حکم دیتا ہے لیکن بد قسمتی سے کسی حکمران نے پاکستان کے آئین پر اس کی روح کے مطابق عمل نہیں کیا ،پاکستان میں آئین وقانون کی بالا دستی اور عوام کی خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ شخصیت پرستی پر مبنی سیاست ہے۔ قومی مسائل صرف اسی صورت حل ہو ں گے جب تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں ،مزدوروں کی تنظمیں ،میڈیا سے وابستہ لوگ، وکلاء برادری ،سول سوسائٹی کے لوگوں سمیت ملک کے ہرمکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے لوگ اپنے ذاتی مفادات اور اختلافات سے بالا تر ہو کر ایک ایسے منشور پر متفق ہو جائیں جس کی بنیاد ان ستونوں پر ہو جس میں قومی مفاد کی نگہبانی ،سماجی ومعاشی انصاف ،اسٹیٹس کو کا خاتمہ، ہمہ جہت ترقی پسندانہ رویہ ،عوام دوستی پر مبنی قوانین اور عوام کی بے لوث خدمت شامل ہے۔انتخابی نظام کی خرابیاں دور کئے بغیر ایماندار اور دیانتدار قیا دت کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔جمہوری نظام کی بقاء کیلئے کرپشن کا خاتمہ ،بد عنوان سیاستدانوں اور استحصالی نظام سے نجات ضروری ہے۔پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے ایک انقلاب کی ضرورت ہے اور انقلاب چہرے نہیں بلکہ موجودہ کرپٹ اور استحصالی نظام بدلنے سے ہی آئے گا۔
سوال: پاکستان کی غریب عوام کو مہنگائی کے عفریت سے کس طرح نجات مل سکتی ہے؟
شہباز ابن علی : ملک کی غریب عوام کو مہنگائی کے عفریت سے بچانے کیلئے کارٹلوں پر پابندی عائد کرنا ہو گی۔ Competition Commission of Pakistan Lawمیں ایک آرٹیکل شامل کرایاجائے کہ ’’پاکستان میں کارٹل سازی ثابت ہونے پر کارٹل میں شامل کارخانہ داروں، مینوفیکچررز، کمرشل اداروں کے مالک اور منیجرز کو کم از کم دو سال جیل میں گزارنے ہوں گے‘‘ امریکا، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوی لینڈ، جاپان، سنگاپور، جنوبی کوریا، چین، ملائیشیا، ترکی سمیت دنیا کے مہذب ممالک میں کارٹل اور اجارہ داری کو پیدا ہونے سے روکنے کیلئے بھاری جرمانوں کے علاوہ لازمی قید کی سزا دینے کی شقیں موجود ہیں۔ پاکستان میں بد قسمتی سے آج تک کسی بھی حکومت نے کارٹل ثابت ہونے پر کارٹل کے ممبر اداروں کے مالکان کو جیلوں میں ڈالنے کا قانون نہیں بنایا۔اگر مسابقتی کمیشن قانون میں مذکورہ شق شامل کر کے اسے عملی جامہ پہنایا جائے تو پاکستان کی غریب عوام کو مہنگائی کے ’’جن‘‘ سے نجات مل جائے گی۔ کیونکہ اس اقدام سے ملک کے اندر موجود مرغی، انڈے، چینی، ددودھ، دہی، چاول، دالوں، گھی، تیل، سیمنٹ اور سریے سمیت عام استعمال اشیا کی من مانی قیمتیں مقرر کرنے والوں کو سزا ملے گی۔ اس کے بعد وہ صارفین سے من پسند قیمت وصول کرنا چھوڑ دیں گے جس سے مہنگائی، قلت اور ذخیرہ اندوزی ختم ہو کر رہ جائے گی۔
سوال :قومی احتساب بیورو (نیب) کی کار کردگی پر اُنگلیاں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں ،کیا آپ سمجھتے ہیں کہ نیب درست سمت میں کام کر رہا ہے؟
شہباز ابن علی :قومی دولت لوٹنے والے حکمرانوں، سیاستدانوں، نوکر شاہی کے کارندوں، سرمایہ داروں سمیت ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والوں کا بلا امتیاز احتساب ہونا چاہئے۔قومی احتساب بیورو (نیب) کا ادارہ کوئی دباؤ، سفارش اور جانبداری قبول نہ کرے بلکہ دیانتداری کے ساتھ قومی دولت کے تمام لٹیروں کو احتساب اور قانون کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزاؤں کے منطقی انجام تک پہنچائے۔ لوٹی گئی قومی دولت جلد از جلد پاکستان واپس لائی جائے تاکہ قومی معیشت کو بیرونی قرضوں سے نجات دلا کر عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کئے جا سکیں کیونکہ وہ گزشتہ 71برسوں سے کسمپری کی زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں زندگی کی بنیادی سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔ اس کے برعکس بددیانت حکمران، سیاستدان، سرمایہ دار اور نوکر شاہی سمیت بد عنوان افسران و حکام انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے ہیں۔میرے نزدیک اس ناگفتہ بہ صورتحال کا موثر اور واحد علاج یہ ہے کہ مملکت خدا داد پاکستان میں ایک بے لاگ ، شفاف اور ہر قسم کے امتیاز سے بالا احتساب کا نظام قائم کیا جائے ،جس میں بد عنوانی کے مرتکبین کو خواہ وہ صدر، وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر، بڑے سے بڑا جنرل، صنعت کار یا اربوں میں کھیلنے والا تاجر ہو یا اعلیٰ ترین عدالت کا جج ہو ،یہ سب اپنے جرائم کا حساب کتاب دیں سکیں۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟
شہباز ابن علی : ملک میں سماجی برائیوں،معاشی ناہمواری، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں طبقاتی تقسیم اور سب سے بڑھ کر اقتصادی اور انتخابی شعبوں اور ریاست اور جمہوریت کی ناکامیوں کی تجزیاتی رپورٹوں میں کرپشن اور کرپٹ مافیاز کو ہی ان کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، لیکن 71 سال کی ناکامیوں سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان ناکامیوں کے اصل سبب ’’کرپشن‘‘ کے خاتمے اور سدباب کی طرف کوئی توجہ دی گئی ہے۔ پاکستان تیل،گیس، کوئلہ سمیت دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر بد قسمتی سے ملک میں غربت و افلاس کے ساتھ صحت و تعلیم ، بلدیات سمیت ہر ادارے میں کرپشن کا راج ہے۔ کرپشن و رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا۔ کرپشن ایک ناسور کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ کرپشن کے سبب ہی مہنگائی، غربت اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک طرف غریب عوام کو زندگی گزارنے کی بنیادی سہولتیں دستیاب نہیں اور دوسری طرف کرپٹ اشرافیہ بیورو کریسی اور حکمران کرپشن کی دولت سے محل اور عالیشان بنگلے تعمیر کر رہے ہیں، ان کی ایک الگ دنیا ہے۔ انہیں دیکھ کر عام آدمی سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ رہتے تو یہ بھی اسی ملک میں ہیں مگر لگتے ایسے ہیں جیسے پرستان سے آئے ہوں۔ اس طبقاتی اور استحصالی نظام کے خاتمے کی ایک ہی صورت ہے کہ اس جڑ کو کاٹ کر پھینک دیا جائے جس پر یہ کانٹے دار درخت پھل پھول رہا ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں بنیادی رکاوٹ کیا ہے؟
شہباز ابن علی : قائد اعظم کا پاکستان کرپٹ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں کی بدولت آج دہشت گردی، توانائی کے بحران، کرپشن،مہنگائی، بے روزگاری اور غربت سمیت دیگر بے شمار مسائل کا شکار ہے۔نا اہل اورکرپٹ سیاستدانوں نے ملک کے اہم ترین اداروں کو ترقی کی سمت میں کام کرنے کی صلاحیت سے عاری کردیا ہے۔ پاکستان کو لوٹنے والوں نے گروپ بنا رکھے ہیں جس طرح ڈرگ مافیا، کلاشنکوف مافیا، کرکٹ مافیا، بھتہ مافیا، پولیٹیکل مافیا، امپورٹر مافیا، کارٹل مافیا اور بیورو کریسی مافیا ہیں جو ایک دوسرے کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اسی طرح کرپٹ سیاستدانوں کا مافیا بھی ایک دوسرے کا تحفظ کرتا چلا آرہا ہے۔ بھتہ مافیا کی سرپرستی بعض کرپٹ سیاستدان کر رہے ہیں۔ بعض کلیدی عہدوں پر وہ بیورو کریٹ براجمان ہیں جو حکمرانوں کو کرپشن کے داؤ پیچ سکھاتے ہیں۔ اسی لئے دیانتدار بیوروکریٹس کو ہر حکومت کھڈے لائن لگا کر اپنے چہیتے اور فرمانبردار عہدیدار لگاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بیورو کریسی کے باصلاحیت، دیانتدار، محب وطن افسران سائیڈ لائن میں بیٹھ کر اپنی ریٹائرمنٹ کے دن پورے کررہے ہیں۔ پاکستان میں لبرل ازم کے نام پر بے راہ روی، فحاشی، عریانی، اخلاق سوز سرگرمیوں کی حمایت کرنے والے امریکا اور یورپ کے ایجنٹ اپنے اثر و رسوخ کی بدولت ملک میں اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور وہ جی بھر کر پاکستان کی نوجوان نسل کو امریکا یورپ کی طرح مادر پدر آزاد بنارہے ہیں۔ پاکستان میں ناجائز منافع خوری، ذخیرہ اندوزی، بد عنوانی کے خاتمے، ٹیکس چوری، انسداد چور بازاری اور بلیک مارکیٹنگ کے قوانین روز اول سے کتابوں میں موجود ہیں مگر ان قوانین پر ایمانداری کے ساتھ عملدرآمد کوئی حکومت نہیں کر پائی جس کا خمیازہ ملک کے غریب عوام ایک عرصہ سے بھگت رہے ہیں۔ پاکستانی قوم کی ستم ظریفی یہ ہے کہ اس کے جو بھی حکمران ہوں وہ سبھی پاکستانی عوام کے ٹیکسوں سے جمع خزانے کی لوٹ مار قومی اداروں پر اربوں نہیں کھربوں روپے ہتھیا کر بیرون ملک خفیہ یا بے نامی اکاؤنٹس میں جمع کرانے والوں پاکستان کے باہر کروڑوں، اربوں کے منقولہ و غیر منقولہ اثاثے بنا نے والے سیاستدانوں میں شامل شخصیات انصاف کے کٹہرے میں لانے کے عزم میں کمزوری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں تاکہ جب وہ بھی اپنی معیاد پوری کر کے چلتے بنیں تو ان کی جگہ اقتدار میں آنے والے ان سے بھی پوچھ گچھ نہ کرنے کی روایت برقرار رکھیں۔
سوال: آپ نے جن مسائل کی نشاندہی کی ہے ان سے عوام کو نجات کس طرح مل سکتی ہے؟
شہباز ابن علی :دیانتدار، با صلاحیت، مخلص اور محب وطن حکمران ملک کو گھٹا ٹوپ تاریکیوں، جہالت، غربت اور افلاس کی چکی سے نکال کر عوام کو ترکی، سنگاپور، ملائیشیا، کے برابرمعیار زندگی مہیا کر سکتے ہیں۔ پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والی بیورو کریسی، ٹیکس چوروں، موجودہ و سابق ارکان اسمبلی سے ہڑپ کردہ قومی دولت کو سپریم کورٹ نکلوانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ قومی اداروں میں اربوں روپے کی کرپشن کر کے بنائے گئے اثاثوں کو بحق سرکار ضبط کیا جائے۔ سیاسی رشوت کے طور پر مقرر کئے گئے عہدیداروں کو نکال کر ان کی جگہ میرٹ پر نئی بھرتیاں کی جائیں۔ عوام کو انصاف ان کے گھر کی دہلیز پر دیا جائے۔
سوال : آپ کے نزدیک ملک کو نئے ڈیمز کی ضرورت ہے؟
شہباز ابن علی : پاکستان کو بنے 71 برس گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک ہمارے سیاستدان کالا باغ ڈیم بنانے پر متفق نہیں ہو سکے۔ پاکستان اللہ کا ایک انمول تحفہ ہے یہاں پر بے شمار معدنیات ہیں، سرسبزو شاداب ملک ہے چار موسم ہیں لیکن ہمارے مفاد پرست حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی بدولت پاکستان تباہی کی طرف گامزن ہے۔ زراعت کے شعبے میں خود کفیل ملک میں آٹے اور چینی کا بحران رہاہے۔پاکستان کا کسان، محنت کش طبقہ دن رات محنت کرتا ہے لیکن اس کی محنت پر اس وقت پانی پھر جاتا ہے جب اس کو کھاد میسر نہیں آتی۔ پانی نہیں ملتا، کھاد اور پانی کے بغیر تو زراعت ترقی نہیں کر سکتی۔ پاکستان کے حکمرانوں نے بھی مصلحت کے تحت حکومتیں کی ہیں۔ امریکی اشاروں پر کٹھ پتلوں کی طرح رقص کرتے رہے ہیں۔ اگر پاکستان کو سرسبز اور شاداب، خوشحال اور ترقی یافتہ بناناہے تو پھرنئے ڈیمز بنانا پڑیں گے۔ پانی پاکستان کی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے نئے ڈیمز کی تعمیر بہت ہی ضروری ہے۔
سوال :مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے ظلم وستم پرآپ کیا کہیں گے؟
شہباز ابن علی:بھارت برسوں سے مظلوم کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے جبکہ امن کے ٹھیکیداروں نے کشمیریوں کے قتل عام پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجائے تو خطے کے کروڑوں لوگ غربت کی دلدل سے باہر نکل آئیں گے۔جنوبی ایشیاء میں امن کا خواب دیکھنے والے مسئلہ کشمیر حل کروائیں اورمسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اقوام متحدہ کی قرار دادیں بہترین روڈ میپ ہیں ان پر عمل کیا جائے کیونکہ کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت دئیے بغیر اقوام متحدہ کا امن مشن ادھورا ہی رہے گا ۔قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ،کشمیری عوام تکمیل پاکستان کی جنگ لڑ رہے ہیں،بھارت کا ظلم و ستم کشمیریوں کو آزادی کی نعمت سے نہیں روک سکتا ، کشمیری شہدا کا خون ایک دن ضرور رنگ لائے گااور مقبوضہ کشمیر پاکستان کا حصہ بنے گا۔ ہماری سیاسی جماعت قوت عوام پارٹی کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو سلام پیش کرتی ہے اورہر فورم پر کشمیریوں کے حق خودارایت کے موقف کو اُجاگرکرنے میں اپنا کردار ادا کر تی رہے گی۔
سوال : آپ کے خیال میں پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے کون سی قوتوں کا ہاتھ ہے؟
شہباز ابن علی : امریکا،اسرائیل اور انڈیا داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کار ہیں دہشت گردتنظیمیں انہی ممالک کی خفیہ ایجنسیوں’’سی آئی اے‘‘ ’’موساد‘‘ اور ’’را‘‘ کے ساتھ مل کردہشت گردی کی کارروائیو ں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کر کے پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان بالخصوص بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی کے واقعات میں بھارت کی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ ملوث ہے جو بلوچستان کی علیحدگی پسند تنظیموں بلوچستان لبریشن فرنٹ، بلوچستان لبریشن آرمی اور بلوچستان گارڈزکو بھاری فنڈنگ کے ذریعے دہشت گردی کی کارروائیاں کروا کر پا ک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام کرنا چاہتی ہے۔ امریکا اور اسرائیل جیسے عالمی دہشت گرد ممالک بھارت کے سرپرست ہیں یہی تینوں ممالک دہشت گرد تنظیموں کے سہولت کار ہیں ،گوادربندرگاہ کے فعال ہونے سے امریکا ،اسرائیل اور بھارت کی نیندیں اڑگئیں ہیں اس لئے یہ تینوں ممالک گوادربندرگاہ اورپاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو سبوتاژکرنے کیلئے بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کروا رہے ہیں ۔
سوال : کیا آپ سمجھتے ہیں کہ بھارتی الیکشن کے بعد اگر کانگرس کی حکومت بن جاتی ہے تو پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں بہتری آجائے گی؟
شہباز ابن علی : بھارت نے پاکستان کے وجود کو آج تک تسلیم ہی نہیں کیا ہے اس لئے بھارت میں حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی آئے،اس سے کوئیفرق نہیں پڑتااور نہ ہی اس سے دونوں ممالک کے مابین تعلقات بہتر نہیں ہو سکتے ۔البتہ عالمی اسٹیبشمنٹ کو جب ضرورت ہو گی تو وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے دونوں ممالک کے درمیان وقتی طور پر حالات بہتر بنا دیں گے ۔میں بھارت ،امریکا اور اسرائیل کو عالمی دہشت گرد سمجھتا ہوں یہ تینوں ممالک اپنے مفادات کے علاوہ کسی کے بھی دوست نہیں ہو سکتے،یہ تینوں ممالک دین اسلام اور مسلمانوں کے سب سے بڑے دُشمن ہیں۔ بھارت میں جب سے سیکولرازم کے لبادے سے ہندوازم برآمد ہوا ہے بھارت اقلیتوں کیلئے جہنم بن چکا ہے، نریندرمودی کی سرپرستی میں انتہا پسند ہندوتنظیم شیوسینا کے دہشت گردوں نے مذہب کی آڑمیں مسلمانوں ،سکھوں اورعیسائیوں کوکھلے عام قتل کیا ،گائے ذبح کرنے اوراس کا گوشت کھانے پرمسلمانوں کوسرعام تشدد کرکے ہلاک کیا گیا ۔اس قسم کے واقعات انسانی حقوق کے علمبردارممالک کے منہ پرتمانچہ کے مترادف ہیں۔ فن وثقافت اورکھیل بھائی چارے اورامن کا درس دیتے ہیں مگربھارتی انتہاپسندہندوؤں نے اس شعبے کوبھی نہیں بخشا ،بھارت کا سیکولرازم کا نعرہ بھارت کے انتہا پسندوں کے کردارسے دفن ہوچکا ہے ۔بھارت امن کا سب سے بڑادشمن ہے ،اقلیتوں کیلئے جہنم اورانسانیت کے ماتھے پرکلنک کا ٹیکہ ہے ۔
سوال : اسرائیل کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ بارے آپ کیا کہیں گے؟
شہباز ابن علی :یہودیوں نے پوری دُنیا پر راج کرنے کا پلان ترتیب دے رکھا ہے اس حوالے سے انہوں نے فری میسن اور ایلیو مینٹیس نامی دو انتہائی خفیہ اور طاقتور تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔جو شیطانی منصوبے ون ورلڈ گورنمنٹ نامی عالمی اقتدار کے حصول کے منصوبے کے پس پردہ کام کر رہی ہیں اور اقوام متحدہ کی نکیل ان کے خفیہ ہاتھوں میں ہے۔ فری میسن تنظیم خدمت خلق کی آڑ میں اور ایلیو مینٹیس تنظیم روحانیت کی آڑ میں شیطانی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم ترین اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر 73 یہودی فائز ہیں ،اقوام متحدہ کے صرف نیو یارک والے آفس میں 22 شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں ،یہ انتہائی حساس ترین شعبے ہیں جو اس بین الا قوامی تنظیم کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔یونیسکو میں 9 شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں،آئی ایل او کی 3 شاخیں یہودی حکام کی تحویل میں ہیں۔ایف او کے 11 شعبوں کی سربراہی یہودیوں کے پاس ہے ۔عالمی بینک میں 6 اور انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف )میں9 انتہائی اہم اور حساس ترین شعبوں کے سربراہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق یہودیوں کی تنظیم فری میسن سے ہے یہ تمام عہدے یہودیوں کے پاس ہیں۔اور یہ لوگ ان کے ذریعے تمام بین الاقوامی امور پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔اس کے علاوہ بے شمار یہودی اور ان کے ایجنٹ دُنیا کے ہر ملک اور ہر شعبے میں موجود ہیں۔
سوال :اچھا یہ بتائیں کہ پاکستان میں تو سیاست تھانے، کچہری اور عدالت کے بعد جیل جانے کی ریاضت کا نام ہے، آپ نے مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے کے باوجود سیاست کرنے کا رسک کیوں لیا؟
شہباز ابن علی : آپ کے سوال کا تعلق میری زندگی کے نازک ترین گوشوں سے ہے میں تسلیم کرتا ہوں کہ پاکستان کی سیاست میں نچلے طبقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی جگہ کم رہی ہے لیکن باوجود اس کے میں نے اپنے ضمیر کی آواز پر ملکی سیاست میں آنے کوضروری سمجھا ہے مجھے معلوم تھا کہ مجھے جیلوں، تھانوں اور کچہریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن جب میں ملکی سیاست پر وڈیروں، جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو قابض دیکھتا تو دل کڑھتا کہ یہ لوگ تو ہمارے معاشرے کے ترجمان نہیں ہیں یہ تو غریب کے مسائل سے واقف ہی نہیں۔ رات کو اے سی والے کمرے میں شان سے سونے والا گرمی میں بھٹے پر اینٹیں پکانے والے مزدور کے مسائل کیونکر جان سکتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ مجھے یہ بھی خبر تھی کہ اصل جمہوری طاقت اسی طبقے کے پاس ہے جس سے میرا تعلق ہے۔ اب میں آپ کوتھوڑا اپنے متعلق بتاتا ہوں کہ جب میں پڑھ رہا تھا تو اسی وقت میں نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کر دی میرے دوست نے بھی مجھ سے آپ والا سوال کیا تھا کہ پاکستان کی سیاست میں تم جیسے لوگوں کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے مجھے سمجھایا کہ تمہارا جس طبقے سے تعلق ہے اسے ہمیشہ استعمال کیا جاتا ہے کوئی نہیں چاہے گا تم اوپر آؤ پھر میں نے محسوس بھی کیا کہ ہماری سیاست میں اس قدر مسائل کا سامنا کرناپڑ تا ہے کہ اگر انسان کے ارادے مضبوط پہاڑوں جیسے نہ ہوں تو وہ کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ سو میرے ارادے بھی مضبوط تھے اور میں اس وقت آپ کے سامنے ہوں میں یہ بتانا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ طبقاتی کشمکش نہ صرف سیاسی جماعتوں میں ہے بلکہ ہمارے معاشرے کی رگوں میں سرایت کر چکی ہے حتیٰ کہ معذرت کے ساتھ آپ کے شعبہ صحافت میں بھی کئی لوگ ایسے موجود ہیں جو ضمیر کی آواز کی بجائے سرمایہ داروں کی آواز پر کان دھرتے ہیں۔ جاگیر دار طبقہ کسی صورت کارکن کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا یہ لوگ یہی چاہتے ہیں کہ کارکن گلیوں میں دھکے کھائے، الیکشن کے دوران نعرے لگائے، ووٹ مانگے اور لڑائی جھگڑے کرے اور ان نام نہاد سیاستدانوں کو کندھوں پر اٹھائے۔ میں قوت عوام پارٹی کے ذریعے عام لوگوں کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچانا چاہتا ہوں ۔
سوال: پاکستان کے معاشرے میں نئی سیاسی جماعت بنا کر غریب لوگوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے کام کرنا کانٹوں کی راہ پر چلنے کا نام ہے،آپ کو کیا مشکلات پیش آئی ہیں؟
شہباز ابن علی :ہمارے معاشرے میں غریب لوگوں بالخصوص محنت کش طبقے کو برابر کا شہری نہیں سمجھا جاتا اور اس کے ساتھ شروع دن سے ہی امتیازی سلوک ہو رہا ہے۔ مزدور طبقے کی انتھک محنت کی بدولت ہی ملکی صنعتیں، کارخانے، انڈسٹریز چلتی ہیں۔ محنت کش طبقے کی وجہ سے ہی سرمایہ دار صنعت کار اور اس کے بچے خوشحال زندگی بسر کرتے ہیں۔غریب لوگوں اور محنت کش طبقے کا استحصال دیکھ کر میں نے یہ فیصلہ کیا محنت کش طبقے کو سرمایہ دار، جاگیردار اور صنعت کار کے استحصال سے نجات دلاؤں گا۔ اور یوں میں نے قوت عوام پارٹی کی بنیاد رکھی۔غریب عوام بالخصوص محنت کش طبقے کو اُن کے بنیادی حقوق دلانا میری زندگی کا نصب العین ہے ۔عام آدمی کے حقوق کا تحفظ کرنا پاکستان کے معاشرے میں بہت ہی مشکل کام ہے۔
سوال: پاکستان کے حکمرانوں نے محنت کش طبقے کیلئے اب تک جو اقدامات کئے ہیں آپ ان سے کس حد تک مطمئن ہیں؟
شہباز ابن علی : پاکستان کے حکمرانوں نے شروع دن سے ہی محنت کش طبقے کو خوشحال بنانے کے سہانے خواب دکھا کر اپنی سیاست چمکائی اور محنت کشوں کو بدحال بلکہ فاقہ کشی کا شکار کیا ہے ۔پاکستان میں برسر اقتدار آنے والی حکومتوں کی پالیسیاں مزدوروں کے حق میں کبھی نہیں رہیں، ان حکومتوں نے نیشنل و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تنخواہیں ڈبل کر دی ان کے علاوہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا جبکہ نجی شعبے کا جو 80 فیصد محنت کش طبقہ ہے اس کی تنخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ پاکستان میں حکمران طبقہ صنعتی بقاء و استحکام اور مزدوروں کے حقوق سے پہلوتہی کرتے ہوئے صرف لوٹ مار میں مصروف عمل ہے۔ محنت کش طبقے کے حقوق کے تحفظ کا پر چار کرنے والی سیاسی جماعتیں جب اقتدار میں آتی ہیں تو محنت کشوں کی صورتحال مزید خراب ہوتی ہے پاکستان کے حکمرانوں اورسیاسی جماعتوں کی پالیساں مزدور دشمن ہیں۔
سوال: پاکستان میں برسراقتدار میں آنے والی حکومتیں مزدوروں کی بنیادی تنخواہیں مقرر کرنے کے اعلانات کرتی ہیں، آپ کے خیال میں اس پر کس حد تک عمل ہو ا ؟
شہباز ابن علی:اس کا اطلاق صرف اعلانات تک ہوتا ہے۔ ایسا کوئی سسٹم نہیں ہے جو اس پر عمل کرائے۔ اس پر عمل کرانے کی حکومت کی نیت بھی نہیں ہوتی ۔ملک بھر میں مزدوروں کی کل تعداد کم و بیش ساڑھے 6 کروڑ ہے جن میں 82فی صد خواتین اور مرد مزدور ایسے ہیں جب کھیتوں، بھٹوں اور گھروں میں کام کرتے ہیں اور ان کی کوئی رجسٹریشن نہیں ہوتی نہ ان کیلئے کوئی قانون سازی کی گئی ہے اور انہیں انجمن سازی کا حق نہیں ہے ان کی تنخواہوں کے تعین کا کوئی ضابطہ نہیں ہے‘ اور انہیں ملازمت کا بھی تحفظ نہیں ہے۔ یہ لوگ سوشل سیکورٹی سے بھی محروم ہیں قانون میں سقم موجود ہے جس کی وجہ سے یہ تمام مزدور حاصل تمام قانونی مراعات سے محروم رہتے ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت نے محنت کش طبقے کی بنیادی تنخواہ ساڑھے پندرہ ہزار روپے مقرر کی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی میں یہ تنخواہ مزدوروں کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے۔محنت کش طبقہ موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کے جبرو استحصال کاسب سے زیادہ شکار ہے لہٰذابلا امتیاز تمام غیر ہنر مند محنت کشوں کارکنوں کی کم از کم تنخواہ30ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جائے اور افراط زر سے منسلک کیا جائے ،محنت کشوں کے اوقات کار میں کمی کی جائے اور ان کیلئے رہائشی کالونیاں تعمیر کی جائیں، 60سال سے زائد عمر کے شہریوں کو کم از کم15ہزار روپے ماہانہ بڑھاپا الاؤنس دیا جائے۔
سوال :پاکستان کے تعلیمی نظام پر آپ کیا تبصرہ کریں گے؟
شہباز ابن علی :تعلیم ہی ایک ایسا زیو ر ہے جس سے آراستہ قومیں دنیا کے افق پر بام عروج حاصل کرتی ہیں۔ہر ذی شعور انسان اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی اورقوموں کی ترقی اور خوشحالی کوالٹی ایجوکیشن ہی میں مضمر ہے ۔ترقی یافتہ ممالک تعلیمی شرح بڑھانے اور عوام میں اجتماعی شعور اُجاگر کرنے اور لوگوں کو تمام بنیادی ضروریات اور سہولیات فراہم کرتے ہیں ۔کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ دنیا میں انہی معاشروں کو باوقار مقام حاصل ہوا ہے جنہوں نے تعلیم کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اسے ہم اپنی بدقسمتی ہی قرار دے سکتے ہیں کہ قیام پاکستان کے معجزے کو رونما ہوئے 71برس سے زائد بیت چکے ہیں مگر آج تک ہم یہ طے نہیں کرپائے کہ ہمیں کس نوعیت کا نظام تعلیم اختیار کرنا ہے، جس کا نتیجہ ہے کہ اس وقت ملک میں کئی قسم کے نظام تعلیم رائج ہیں۔ ضرورت تھی کہ قیامِ پاکستان کے فوری بعد ملک کی نظریاتی بنیادوں اور جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیمی نظام تیار کرکے اسے پورے ملک میں رائج کردیا جاتا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بہتری کے لیے ضروری اقدامات کیے جاتے رہتے، لیکن ہمارے حکمرانوں اور پالیسی سازوں نے یکساں طور پر اس اہم ترین شعبے کو مسلسل نظرانداز کیا۔ جس کے باعث ملک میں آج کل رنگا رنگ تعلیمی نظام رواج پا چکے ہیں جو شتر بے مہار کی طرح اپنا دائرہ کار بڑھاتے چلے جارہے ہیں، اور قومی سطح پر ان کے چیک اینڈ بیلنس کا کوئی نظام موجود نہیں۔ پاکستان میں تعلیم سماجی خدمت کا شعبہ نہیں بن سکا بلکہ کاروبار بن گیا ہے۔پاکستان کے تمام حکمرانوں کی جانب سے تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنے اور پھر سر کاری تعلیمی اداروں میں سہولتوں کے فقدان اور ناقص معیارِ تعلیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے معیاری تعلیم فراہم کرنے کے نام پر دونوں ہاتھوں سے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔ یہ تعلیمی ادارے معیار اور میڈیم کے نام پر ایک جانب بھاری فیسیں وصول کرتے ہیں اور دوسری جانب من پسند نصاب پر مبنی مہنگی کتب اور مخصوص یونیفارم لازمی قرار دے کر والدین کا مالی استحصال کرتے ہیں، اسی طرح آئے روز مختلف فنڈز کے نام پر بھی والدین کی جیبیں خالی کی جاتی رہتی ہیں۔ پیپر منی، اینول فیس، رجسٹریشن فیس، پروموشن فیس، ایڈمیشن فیس، ٹیوشن فیس، ٹرپ فیس، عمارت فنڈ، سپورٹس فنڈ، سکیورٹی فیس اور متفرق اخراجات سمیت پیسے بٹورنے کے کئی دوسرے راستے کھول لئے گئے ہیں۔ اسی طرح سکول و کالج کے اندر ہی سکول مالکان نے سٹیشنری اور کنٹین کا کاروبار بھی شروع کر رکھا ہے۔
کتابوں، کاپیوں، یونیفارم اور کھانے پینے کی اشیاء بھی طالب علموں پر انتہائی مہنگے داموں فروخت کی جاتی ہیں۔ اب تو فن فیئر، مینا بازار، سالانہ دن، یوم والدین، سمر کیمپ اور دوسری تقریبات کیلئے بھی طلبہ سے وصولی کی جاتی ہے۔ ملک بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے نئے تعلیمی سال کے آغاز اور میٹرک کے سالانہ امتحانات کے نتائج کے بعد طلباء کی فیسوں کے نام پر والدین کی چمڑی ادھیڑ دیتے ہیں۔

image_pdfimage_print