Breaking News
Voice of Asia News

کپتان کی حمایت کیوں,حسنین جمیل

راقم سے اکثر یار لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ بایاں بازو کے نظریات کا ہونے کے باوجود عمران خان کی حمایت کیوں کرتے ہو۔ اکثر فیس بک پر عمران خان کی حمایت میں کیوں لکھتے ہو۔ اکثر کالموں میں بھی عمران خان کی بے جا تعریف کیوں کرتے ہو۔ میں نے دوستوں کو مختصر جواب بھی دیئے مگر اب فیصلہ کیا ہے کہ کالم کی صورت میں جواب دیا جائے۔ پہلے تو میں سب سے پہلے ایک بات واضح کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ میرا تحریک انصاف بحیثیت ایک جماعت دفاع کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ میری دلچسپی کا محور صرف عمران خان کی ذات ہے۔ عمران خان سے عشق بہت پرانا ہے۔ اس کے فلش بیک میں جانا ضروری سمجھتا ہوں۔ پاکستانی کرکٹ میں میری دو رومانس تھے ایک عمران خان دوسرا جاوید میاں داد۔ دونوں کی خدمات پاکستانی کرکٹ کے لیے ناقابل فراموش ہیں۔ 1992ء کا عالمی کپ ان دونوں کی شراکت سے ہی جیتا گیا۔ اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو وسیم اکرم،انضمام الحق، عاقب جاوید، رمیز راجہ، عامر سہیل بھی کچھ نہیں کر سکتے تھے۔ اس کی مثال 1996، 1999،2003اور 2007کے عالمی کپ میں کرکٹ سے فراغت کے بعد کپتان نے شوکت خانم لاہور پشاور جسے عظیم ادارے بنائے اب کراچی کا ہسپتال بھی زیر تعمیر ہے۔ نمل یونیورسٹی میانوالی ایک بہت بڑی کاوش ہے۔
1996ء میں ایک سیاسی جماعت تحریک انصاف کی بنیاد رکھی یہ وہ وقت تھا جب پاکستانی سیاست میں بے نظیر بھٹو جیسی قد آور سیاسی شخصیت اپنے جوبن پر تھی۔ اس کے بعد نوازشریف آتے تھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستانی ہیت مقتدرہ کا پاکستانی سیاست میں فیصلہ کن کردار ہے۔ بے نظیر بھٹو کو ناکام کرنے کے لیے ہیت مقتدرہ نے نوازشریف کو پروان چڑھایا اور نوازشریف کے خلاف عمران خان کو تیار کیا گیا۔ کوئی بھی ذی شعور اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ پاکستان کی مسند اقتدار پر کوئی بھی شخص آبیارہ کی منظور کے بغیر نہیں بیٹھ سکتا۔ کپتان22سال سیاسی دشت میں پھرتا رہا کہیں سے بھی اسے کامیابی نہ ملی۔ سیاسی جماعت میں نئے لوگ نظر آئے نوجوانوں کی بہت بڑی تعداد آئی۔ کپتان نے چن چن کر اہل ،ایماندار، نیک نام افراد کو الیکشن میں اتار دیا مگر ہربار ناکام ہوتا گیا۔ 2013ء کے الیکشن میں کپتان کے مختلف ثابت ہوئے اس نے روایتی سیاسی چہروں کو ٹکٹ دیئے اور خیبرپختونخواہ میں حکومت بنائی۔ پہلی بار روایتی سیاسی چہروں کے ساتھ حکومت بنانے میں کامیاب ہوا۔ یعنی جب کپتان نے روایتی سیاسی چہرے اپنائے اسے کامیابی ملی۔
اس سے پہلے کہ 3الیکشن نیک نام لوگوں کے ساتھ لڑے اور ناکام رہا۔ عمرنا خان کا اپنا ذاتی کردار بے داغ ہے۔ کرکٹ میں بھی اسے دلیر اور ایماندار کھلاڑی کے طور پر جانا جاتا ہے جس کی گواہی کپتان کے ہم عصر کھلاڑی دیتے ہیں۔ شاید ہی اس کے کسی ہم عصر کھلاڑی کو اتنی مقبولیت ملی ہو جس قدر کپتان کو ملی ہے۔ اگر سیاسی طور پر دیکھا جائے تو کپتان کو اور اس کی جماعت کو دایاں بازو کی سیاسی جماعت سمجھا جاتاہے۔ ویسے کپتان نے کبھی بایاں بازو کا ہونے کے دعویٰ بھی نہیں کیا۔ وہ پاکستان کو مدینے کی ریاست بنانے کا خواہاں ہے۔ میرے ذاتی خیال میں آج کے حالات میں اس کی گنجائش نہیں بنتی ہے۔ کپتان کرپشن کے خلاف ہے۔ درحقیقت پاکستانی عاوم کو کرپشن کے خلاف اگر کسی نے گھڑا کیا ہے وہ کپتان ہی ہے۔ کپتان کا سب سے بڑا کارنامہ دو سیاسی جماعتوں پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی ساجھے داری توڑنا ہے جس میں وہ کامیابی ہو چکا ہے۔ان دونوں سیاسی جماعتوں نے موروثی سیاست سے پورے ملک کو یرغمال بنایا ہوا تھا۔ بے نظیر بھٹو آصف علی زرداری، بلاول بھٹو ،نوازشریف، مریم نواز، شہبازشریف، حمزہ شبہاز کیا صرف یہی قابل لوگ ہیں باقی سب غلاموں کی نعرے بازی کرنے کے لیے رہ گئے ہیں۔ بے نظیر بھٹو ،آصف علی زرداری،نوازشریف، شہبازشریف کرپٹ ہیں۔ ساری دنیا کو پتہ ہے مگر پھر بھی بار بار مسند اقتدار پر یہی لوگ بیٹھ جاتے تھے۔ 2018ء میں پہلی بار کپتان ان کی شراکت توڑنے میں کامیاب ہوا اور وزیراعظم بن گیا۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ درحقیقت اس نے اپنا کام کر دکھایا۔ نہیں تو یہ ناممکن لگتا تھا کہ مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کے علاوہ کوئی اور جماعت حکومت سازی کر سکتی ہے۔ اب مسند اقتدار پر کپتان بیٹھ چکا ہے۔ اس کی آٹھ ماہ کی حکومت سے حساب کون مانگ رہا ہے۔ پیپلزپارٹی جو وفاق میں 17سال اقتدا رمیں رہی۔ مسلم لیگ نون جو وفاق میں 10سال اقتدار میں رہی۔ پیپلزپارٹی سندھ میں 23سال اقتدار میں رہی۔ مسلم لیگ نون پنجاب میں 21سال اقتدار میں رہی۔ کپتان کے پاس آٹھ ماہ وفاقی اور 5سال خیبرپختونخواہ میں حکومت کا تجربہ ہے۔ کپتان کی سیاسی جماعت خیبرپختونخواہ کی سیاسی تاریخ کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے دو مسلسل الیکشن جیتے ہیں۔ وہاں کے روایتی سیاسی چہروں اے این پی ، جماعت اسلامی اور مولانا فضل الرحمان کی سیاسی موت ہو گئی۔ کراچی سے متحدہ قومی موومنٹ کو شکست دے دی۔ تحریک انصاف کوئی انقلابی سیاسی جماعت نہیں ہے۔
کپتان چونکہ خود کوئی نظریاتی تربیت یافتی سیاسی کارکن نہیں رہا لہٰذا تحریک انصاف بھی منظم سیاسی جماعت نہیں جو اقتدار میں آنے کے بعد منظم طریقے سے حکومت چلائے۔ تحریک انصاف بالشویک پارٹی نہیں ہے۔ یہی وجہ کہ آج بیوروکریسی تحریک انصاف کی حکومت کے لیے مشکلات کھڑی کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کپتان کو جن بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے اس میں تباہ حال معیشت ، کالعدم تنظیمیں اور بے لگام بیوروکریسی شامل ہیں۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی بار کسی وزیراعظم نے اپنے پسندیدہ ترین وزیرخزانہ اسد عمر اور دیگر وزرا کو فارغ کیا اور پنجا ب میں جب اس کی جماعت اور حکومت نے اراکین اسمبلی کی راعات میں اضافے کا بل پیش کیا تو گورنر پنجاب کو دستخط کرنے سے روک دیا۔اب کپتان کو معیشت کی بحالی کے لیے کام کرنا ہے۔ اس کے سیاسی مخالفین بہت زیادہ ہیں ۔ اخبارات، ٹی وی اور سوشل میڈیا پر تنقید جاری اور یہ جاری رہنی چاہیے اگر تنقید نہیں ہو گی تو کپتان کے لیے کھلا میدان ہو گا جو غلط ہے۔
بدقسمتی سے پاکستان کی سیاست میں بایاں بازو کی ایک بھی سیاسی جماعت ایسی نہیں جو وفاقی حکومت یا صوبائی حکومت بنانے میں کامیاب ہو سکے۔ جب کہ یہ جماعتیں ستی گورنمنٹ بھی نہیں بنا سکتی۔ میری بڑی خواہش ہے کہ کوئی اپنی سیاسی جماعت ابھرے جو بایاں بازو سے ہو اور تحریک انصاف کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کو خالی میدان نہیں ملنا چاہیے۔ میں میڈیا کی آزادی کا قائل ہوں۔ میڈیا اس وقت تحریک انصاف کی حکومت پر کڑی تنقید کر رہا ہے جو جاری رہنی چاہیے۔ جواد احمد کی سیاسی جماعت کے لیے نیک خواہشات ہیں کیونکہ وہ بھی کپتان کی طرح سیاست میں آنے سے پہلے ہی مشہور ہیں۔ اب سارے حالات کے تناظر میں کپتان کی جماعت کی مگر میرے لیے وہ حرف آخر نہیں ہیں اس کی کامیابی کے لیے دعاگو ہوں۔ چاہتا ہوں کہ وہ 5سال پورے کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ میں جواد احمد کے لیے بھی نیک خواہشات رکھتا ہوں کہ اگلے الیکشن تک وہ برابری پارٹی کو اس قابل بنا سکے کہ وہ قومی اسمبلی تک پہنچ جائیں۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •