Voice of Asia News

پاکستان نے کشمیر چھیننے کی کوشش تو اسے خمیازہ بھگتنا پڑے گا ،نریندر مودی کی گیڈربھبکی

سرینگر(وائس آف ایشیا)وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار پھر گیڈر بھبکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان نے کشمیر چھیننے کی کوشش تو اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا ،پلوامہ حملے پر پاکستان کو ایسا سبق سکھایا کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا ، جب ابھینندن پکڑا گیا تو پاکستان کو کہاکہ ہمارے پائلٹ کو کچھ ہوا تو تمہاری خیر نہیں، ہم کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کو ہیلنگ ٹچ جبکہ علیحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کو ہٹنگ ٹچ دیں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے چناو ی میں جلسہ عام سے خطاب اور مقامی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میں کیا ۔ بھارتی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو ہم نے ایسا سبق سکھایا ہے کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ کشمیر کو ہم سے کوئی نہیں چھین سکتا اور اگر پاکستان نے کوئی ایسی حماقت کی تو اس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ وزیراعظم نے اپنے آبائی ریاست میں کہا کہ میری اقتدارمیں واپسی ہوگی، لیکن اگرگجرات نے بی جے پی کو26 سیٹیں نہیں دیں تو23 مئی کوٹی وی پرچرچا ہوگی کہ ایسا کیوں ہوا’۔لوک سبھا انتخابات کے تیسرے مرحلے کیلئے ووٹنگ سے قبل انتخابی تشہیرزوروشور سے جاری ہے۔ نریندرمودی نے گجرات کے پاٹن ضلع میں عوامی جلسے کوخطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب ابھینندن کوپاکستان میں پکڑلیا گیا تھا تومیں نے ان سے (پاکستان) کہا ‘اگرہمارے پائلٹ کوکچھ بھی ہوا توہم تمہیں نہیں چھوڑیں گے’۔انہوں نے کہا کہ ایسا توپ تیارہے کہ نڑابیٹ سے گولا داغوتوپاکستان جاکرپھوٹے۔ انہوں نے کہا کہ 1985 کے بعد کانگریس نے ایک توپ نہیں بنائی۔ ہم نے ٹینک بنائی، ابھی امیٹھی میں اے کے47 کے بھی جدید رائفل بنانے کا کام شروع کیا۔ جل تھل اورخلا میں فوج کوہم نے مضبوطی دی۔وزیراعظم نریندرمودی نے کہا کہ میرے آبائی ریاست کے لوگوں کا فرض ہے کہ ‘دھرتی کے پتر’ (گجرات کے بیٹے) کی دیکھ بھال کریں۔ گجرات میں سبھی 26 سیٹیں مجھے دیجئے، میری حکومت اقتدار میں واپس آئے گی، لیکن اگرگجرات نے بی جے پی کو26 سیٹیں نہیں دیں تو23 مئی کوٹی وی پرچرچا ہوگی کہ ایسا کیوں ہوا’۔انہوں نے کہا کہ اس چائے والے نے ہندوستان کو 11 ویں نمبرسے چھٹے نمبرپرلا دیا۔ ارجنٹینا میں جی 20 کی سمٹ تھی، اس میں ایک میٹنگ تھی روس، چین اور ہندوستان کی۔ دوسری میٹنگ تھی امریکہ، جاپان اورہندوستان کی۔ لیکن ان سبھی میٹنگ میں خاص بات یہ تھی کہ ان میں ہندوستان شامل تھا۔نجی نیوز چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں مودی نے کہا ‘ہم ہیلنگ ٹچ کے لئے تیار ہیں لیکن کشمیر، جموں اور لداخ کے لوگوں کے لئے ہیلنگ ٹچ جبکہ علیحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کے لئے ہٹنگ ٹچ ہوگا، لیکن ان کا(کانگریس اور علاقائی جماعتوں کا)الٹا فارمولہ ہے وہ علیحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کو ہیلنگ ٹچ جبکہ بھارتی حکومت کو ہٹنگ ٹچ دینا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا بی جے پی واجپئی کے اصولوں پر گامزن ہے، ہم انسانیت، کشمیریت اور جمہوریت کی راہ پر چل رہے ہیں ہمیں یہ بات واضح کرنی چاہئے کہ ہیلنگ ٹچ عوام کے لئے ہے اور ہٹنگ ٹچ علیحدگی پسندوں اور ملی ٹینٹوں کے لئے ہے’وزیر اعظم نے ریاست میں پی ڈی پی کے ساتھ اتحاد ختم کرنے پر کہا ‘سال 2014 اسمبلی انتخابات کے بعد پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملانا ایک مجبوری تھی کیونکہ ہمیں بھی واضح اکثریت نہیں ملی تھی اور ہم اپوزیشن میں بیٹھنے کے لئے تیار تھے لیکن جب مہینوں تک گورنر راج جاری رہنے کے بعد مفتی صاحب ،جو سینئر تھے تو انہوں نے ایک منصوبہ رکھا تو ہم نے جموں کشمیر کی تعمیر و ترقی کے لئے ہاتھ ملایا’۔انہوں نے کہا ‘جب ہم نے پی ڈی پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا فیصلہ کیا تو ہم نے اس وقت بھی کہا کہ یہ پانی اور تیل جیسی ملاوٹ ہے اور یہ ملاوٹ زیادہ دیر تک نہیں چل سکتی۔ مفتی صاحب کے انتقال کے بعد محبوبہ مفتی پہلے الجھن میں رہی اور پھر کچھ مہینوں کے بعد محبوبہ بہن تیار ہوئی اور پھر سے گاڑی آگے چلنے لگی’۔وزیر اعظم نے کہا ‘اس دوران جموں کشمیر میں پنچاتی چناو کا معاملہ پیش آیا ہم نے کہا کہ اگر جموں کشمیر کا بھلا کرنا ہے تو وہاں کے پنچایتوں کو حق دینا پڑے گا، انہیں مرکزی سرکارسے سیدھا پیسہ دینا پڑے گا، لیکن محبوبہ مفتی ماننے کو تیار نہیں تھی وہ کہتی تھی کہ خون خرابہ ہوگا، ہزاروں امیدواروں کو حفاظت دینی پڑے گی، پانچ ہزار لوگ شہید ہوں گے، وہ ہمیں ڈرا رہی تھی تو آخر ہم نے کہا ٹھیک ہے آپ اپنے طریقے سے چلیں ہم اپنے طریقے سے چلیں گے اور بغیر کسی تو تو میں میں کے سرکار سے کنارہ کشی کی۔مودی نے کہا کہ میڈیا میں جموں وکشمیر کے حوالے سے صرف آتنک واد اور تشدد کی خبریں چھائی رہتی ہیں۔ وہاں تین چار مہینے پہلے پنچایتوں کے انتخابات ہوئے۔ ہر گاؤں میں انتخابات ہوئے اور ہزاروں لوگ چن کر آئے۔ تشدد کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا۔ اب وہاں پارلیمان کی آدھی نشستوں پر ووٹنگ ہوچکی ہے۔ تشدد کے ایک بھی واقعے کی خبر نہیں آئی۔

image_pdfimage_print