Voice of Asia News

اپنی سرزمین ایران کیخلاف استعمال نہیں ہونے دینگے، عمران خان

تہران(وائس آف ایشیا ) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی صورت ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیگا ،دہشت گرد دونوں ممالک کے مشترکہ دشمن ہیں ،دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں قیام امن کیلئے ایران کے ساتھ ملکر آگے بڑھیں گے ،دہشت گردی نے دونوں ممالک کے درمیان فاصلے بڑھائیں ہیں ان فاصلوں کو ختم کرنے کیلئے ایران آیا ہوں ،افغان جنگ نے ایران اور پاکستان کو متاثرہ کیا ہے ،افغانستان میں امن ایران اور پاکستان کے مفاد میں ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو ہمارا خطہ ترقی کرے گا، فلسطینیوں کے ساتھ مظالم ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر تشدد سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم عمران خان دورہ ایران کے دوران سعد آباد پیلس پہنچے، ایرانی صدر حسن روحانی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا، عمران خان کی آمد پر دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے جبکہ انہیں گارڈ آف آنر بھی پیش گیا گیا، ایرانی صدر سے ون آن ون ملاقات ، ملاقات میں دو طرفہ تعلقات پر گفتگو کی گئی اور مختلف شعبوں میں دو طرفہ تعلقات کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا گیا تھا،،حسن روحانی نے مستقبل قریب میں پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ بھی دیا۔دونوں رہنماؤں کے درمیان پاک ایران بارڈر ،سکیورٹی ،کوئٹہ حملہ ،افغانستان اور مسئلہ کشمیر سمیت خطے کی مجموعی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد وزیر اعظم عمران خان اور ایرانی صدر حسن روحانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ایران کے دورے کی دعوت پر مشکور ہیں، ایران میں پر تپاک استقبال پر بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ایران کا دورہ زمانہ طالب علمی میں کیا تھا، نئے پاکستان میں کمزور طبقے کو اوپر لانا چاہتے ہیں۔ ایران میں برابری کا معاشرہ زیادہ نظر آیا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں ایران کے دورے میں امیر غریب کا فرق تھا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کی وجہ سے دونوں ممالک میں دوریاں پیدا ہوئیں، دونوں ممالک کے درمیان ان فاصلوں کو ختم ہونا چاہیئے۔ پاکستانی عوام اور فورسز نے دہشت گردی کے خلاف بھرپور جنگ لڑی۔ نیٹو اور بھرپور فوجی طاقت کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہ ہوسکا۔ کسی کے خلاف بھی پاکستانی سرزمین استعمال نہیں ہونے دیں گے،محسوس کیا کہ دہشت گردی کا مسئلہ دونوں ممالک میں فاصلے بڑھا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے بلوچستان میں ہمارے اہلکاروں کو شہید کیا گیا۔ پاکستانی اور ایرانی سیکیورٹی چیف آپس میں ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں اعتماد سازی پر بات چیت ہوگی۔ پاکستانی سرزمین سے ایران کو کوئی نقصان نہیں پہنچنے دیں گے۔ چاہتے ہیں ایرانی سرزمین سے بھی پاکستان کو نقصان نہ ہو۔ چار دہائیوں سے افغان جنگ نے پاکستان اور ایران کو متاثر کیا۔ ایران کا دورہ کرنے کا مقصد دوریاں اور فاصلے ختم کرنا ہے۔ افغانستان میں امن پاکستان اور ایران کے مفاد میں ہے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان واحد ملک ہے جو دہشت گردی سے زیادہ متاثر ہوا، پاکستان نے کسی بھی ملک کے مقابلے میں دہشت گردی کا زیادہ سامنا کیا۔ انصاف کے بغیر کبھی امن قائم نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل کا گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ غیر قانونی ہے، اسرائیل کا یروشلم کا اعلان عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں طاقت کے زور پر کشمیریوں کو دبایا جا رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو ہمارا خطہ ترقی کرے گا، فلسطینیوں کے ساتھ مظالم ہو رہے ہیں۔ بھارتی فوج کشمیریوں کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر تشدد سے نہیں مذاکرات سے حل ہوگا، اچھے تعلقات اور تجارت بڑھنے سے دونوں ممالک ترقی کریں گے، ایرانی صدر سے تجارت اور دیگر شعبوں کے فروغ پر بات کی گئی۔ ایران سے تجارت محدود ہے جسے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اس موقع پر ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے تعلقات دیرینہ، ثقافتی اور مذہبی ہیں، وزیر اعظم پاکستان اور وفد کی آمد کے مشکور ہیں۔دونوں ممالک کے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں،۔ کچھ عرصے سے سرحدوں پر دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے سیکیورٹی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے خلاف جوائنٹ ریپڈ ری ایکشن فورس بنائی جائے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دیا جائے گا، آئل اور گیس سے متعلق پاکستان کی ضروریات پوری کریں گے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن کے لیے تمام اقدامات کیے جائیں گے۔ ایران پاکستان کو بجلی فراہم کرنے کے لیے بھی تیار ہے، دونوں ممالک کے درمیان کمرشل سرگرمیوں کا فروغ چاہتے ہیں۔ بارڈر سیکیورٹی بڑھانے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔ خطے کی صورتحال کے پیش نظر دونوں ممالک میں تعلقات بڑھانا ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان سمیت دیگر علاقائی امور بھی پر تبادلہ خیال کیا گیا، گولان کی پہاڑیوں اور پاسداران انقلاب گارڈز پر پابندی پر بھی گفتگو ہوئی۔ چاہ بہار اور گوادر کو لنک کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک امن اور استحکام کا عزم رکھتے ہیں۔ تہران، استنبول اور اسلام آباد ریلوے لائن اور پاکستان، ایران اور ترکی کے درمیان بہترین تعلقات پر بھی گفتگو ہوئی۔

image_pdfimage_print