Voice of Asia News

بیرون ملک تعلیم ذیشان حسن رضا

بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کا رحجان پاکستانی طلباء میں بہت تیزی سے پروان چڑھا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں میں بیرون ملک تعلیم کے لیے جانے والے طلباء و طالبات کے حوالے سے عموماَ برطانیہ، آسٹریلیا، اور یورپ کے ممالک میں جانے کا رحجان زیادہ پایا جاتا ہے۔ امریکہ اور کینیڈا کے طلباء کو ویزا دینے کے کم تناسب کی وجہ سے ان ممالک میں طلباء کا رحجان بھی نمایاں کمی کا شکار ہے۔ پاکستانی طالبعلموں کو جغرافیائی و معاشی حالات اور دورانِ تعلیم غیر سنجیدگی اور تعلیم ادھوری چھوڑ دینے کی وجہ سے بھی ویزہ ملنے کے امکانات بہت سے دوسرے ممالک کی نسبت کم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے کئی ممالک نے پاکستانی طلباء کو زیادہ دستاویزات کی فراہمی کیلئے پابند کیا ہے اور ویزا کا تناسب پھر بھی بہت زیادہ نہیں ہوتا ۔ آئیے ان ممالک کی پاکستان کے لیے مطلوبہ دستاویزات اور ویزا کے اجراء کے تناسب پر نظر ڈالتے ہیں۔
برطانیہ۔
برطانیہ جانا اور تعلیم حاصل کرنا اکژیت پاکستانی طلباء کا خواب رہا ہے اسکی وجہ برطانیہ کا معاشی استحکام اور بعد ازاتعلیم روزگار اور شہریت کے مواقع تھے جو کہ اب بدقسمتی سے نت نئی پالیسی کی وجہ سے شجرِ ممنوعہ بن چکا ہے۔ برطانیہ جانیوالے طالبعلم اب پہلے کی طرح آسانی سے تعلم کے بعد کام کا ویزا حاصل نہیں کر سکتے بلکہ سخت شرائط یا سرمایہ کاری کے ذریعے روزگار اور شہریت کے مواقع حاصل کر سکتے ہیں۔ برطانیہ نے سٹوڈنٹ ویزا کی شرائط بھی سخت کر دی ہیں مگر حقیقی طالبِ علم جن کے پاس یونیورسٹی کے ایڈمیشن موجود ہوں اور مطلوبہ بینک سٹیٹمنٹ فراہم کی گئی ہو ابھی بھی ان کی درخواست کی کامیابی کی شرح اچھی ہے۔ اس ضمن میں یہ کہنا ضروری ہے کہ بہت سے طلباء انگریزی زبان کے کورسIELTSمیں مطلوبہ رزلٹ کے بغیر اپلائی کرنے کے خواہش مند ہوتے ہیں جو کہ کچھ یونیورسٹیز اپنے اندرونی امتحانات کے ذریعے ایڈمیشن بھی دیتی ہیں مگر زیادہ تر یونیورسٹیز نےIELTS کو ضروری قرار دیا ہوا ہے۔
دوسری اہم بات بینک اسٹیٹمنٹ کا ہونا ہے جو کہ موجودہ کرنسی ریٹ کے حساب سے پاکستانی تیس لاکھ یا زائد ہونی چاہیے۔ بینک اسٹیٹمنٹ کا انحصار یونیورسٹی کے محلِ وقوع اور سال کی بقایا فیس پر ھوتا ہے۔ آج کل برطانیہ میں یونیورسٹی کی فیس اٹھارہ لاکھ روپے سالانہ سے شروع ہوتی ہے۔ چند مضامین مثلاَ آئی ٹی۔ انجنئرنگ اور میڈیکل کی فیس عمومی فیس سے زائد ہوتی ہے۔
طلباء اور ان کے والدین کو سمجھنا چاہیے کہ کمزور درخواست جمع کروانے کی بجائے مطلوبہ دستاویزات پوری کر کے اور اہلیت ثابت کر کے ویزا حاصل کرنے کے چانسز بہت بڑھ جاتے ہیں۔ طلباء کے میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے دستاویزات IBCCسے اور ڈگری و دستاویزات HECسے تصدیق شدہ ہونا قابلِ ترجیح ہے۔ چند ممالک منسٹری آف ٖفارن افئیرز کی تصدیق بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔
آسٹریلیا:۔
آسٹریلیا بھی پاکستانی طلباء کے لیے بہت پسندیدہ منزل ہے خصوصاَ برطانیہ کی سخت پالیسی کے بعد طلباء کی اکشریت کا رحجان آسٹریلیا کی طرف ہو چکا ہے۔ آسٹریلیا کی مقبولیت کی ایک اور وجہ اسکا پُرکشش PR(مستقل رہائش) کا سسٹم ہے جو کہ طلباء کو بعداز تعلیم دو سال کے لیے عارضی رہائش اور مطلوبہ شرائط پر پورا اُترنے کی صورت میں مستقل رہائش کے مواقع دیتا ہے۔ اس کے لیے طلباء کی تعلیم اور پروفیشن کا آسٹریلیا کی مخصوص پیشہ فہرستوں میں ہونا لازمی ہے اس سے مراد ہے ک آسٹریلیا اپنے مخصوص کردہ پیشہ کی فہرست کے مطابق تعلیم یافتہ اور تجربہ کار افراد کو ہی مستقل رہائش کے مواقع دیتا ہے۔ زیادہ تر مضامین اس فہرست سے مطابقت رکھتے ہیں۔
آسٹریلیا کے لیے بھی IELTS بنیادی شرط ہے اور بینک اسٹیٹمنٹ بھی تقریباَ پینتیس لاکھ روپے سالانہ سے شروع ہوتی ہے۔ جبکہ کچھ کالجز میں اس سے کم فیس بھی ہوتی ہے مگر ویزا کا تناسب یونیورسٹیز کا بہتر ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آسٹریلیا امیگرینٹس کو مواقع دینے والے پُرکشش ترین ممالک میں سے ایک ہے۔
سویڈن:۔
سویڈن بھی پاکستانی طلباء کے لیے مقبول ہو چکا ہے یہاں کی یونیورسٹیز آئی ٹی اور سائینس کے سولہ سالہ تعلیم یافتہ طلباء کو بغیرIELTS کے بھی ایڈمیشن دے رہی ہیں۔ یہ Shengenکے متمول ارکان میں سے ایک ہے۔ یہاں سٹوڈنٹ 14لاکھ سے لے کہ 30لاکھ سالانہ فیس کے کورسسز میں ایڈمیشن لیتے ہیں اس کے داخلے اکتوبر سے جنوری تک ہوتے ہیں اور کلاسز ستمبر میں شروع ہوتی ہیں۔ سویڈن کی مقبولیت کی وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں طلباء کو دورانِ تعلیم کام کی اجازت ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص وقت گزرنے کے بعد اپنا کام کرنے اور سرمایہ کاری کرنے کے مواقع بھی حاصل ہیں جو کہ دیگر ممالک میں کم ہی جگہ پر حاصل ہیں۔طلباء اپنی تعلیم پوری کرنے کے بعد نوکری تلاش کرنے کا اجازت نامہ بھی لیتے ہیں اور نوکری مل جانے کی صورت میں ورک ویزا حاصل کرتے ہیں۔ یہاں کے سٹوڈنٹ ویزا کے لیے پچیس لاکھ روپے کی بینک اسٹیٹمنٹ یا زائد کی ضرورت پڑتی ہے۔
ہنگری:۔
ہنگری بھی Shengen ممالک کا حصہ ہے اور اپنی انٹرنیشنل ایجوکیشن انڈسٹری کو تیزی سے فروغ دے رہا ہے ہنگری م میں اچھے معیار کی یونیورسٹیز موجود ہیں یہان کی خاص بات اسکی نسبتاَ بہتر ویزا دینے کی پالیسی ہے یہاں تعلیم دیگر ممالک کی نسبت سستی ہے اور مطلوبہ دستاویزات بھی دوسرے ممالک کی نسبت کم ہیں۔ یہاں یونیورسٹی کی فیس تقریباَ سات لاکھ پاکستانی روپے سے پندرہ لاکھ روپے تک ہے۔ بینک اسٹیٹمنٹ بھی 12 سے 14لاکھ روپے کی کافی رہتی ہے۔جبکہ تعلیمی سال جنوری اور ستمبر میں شروع ہوتا ہے۔ ویزا پراسس چار سے پانچ ماہ کا وقت لے سکتا ہے۔ IELTSنہ ہونے کی صورت میں کچھ یونیورسٹیز آن لائن انٹریوskype) ( کے ذریعے بھی طلبای کی انگریزی کی اہلیت جانچ کر داخلہ دے دیتی ہیں۔ہنگری میں طلباء دورانِ تعلیم کام کر سکتے ہیں اور تعلیم کے بعد جاب تلاش کر کے مستقل رہائش کے لیے بھی اہل ہوتے ہیں۔
لاٹویا Latvia
لاٹویا بھی پاکستانی طلباء میں مقبول ترین Shengenملک بن چکا ہے جس کی وجہ اب تک کی ناقابل یقین ویزا ریشو ہے اس کی فیس ہنگری سے بھی کم ہے پانچ لاکھ پاکستانی روپے سالانہ سے شروع ہوتی ہے اور چند ادارے اس سے بھی کم فیس لے رہے ہیں۔ 12-14لاکھ کی بینک اسٹیٹمنٹ اور Skypeانٹرویو کے ذریعے داخلہ بھی طلباء کے لیے کشش کا حامل ہے۔ لاٹویا بھی طلباء کہ مستقل رہائش
کے مواقع دیتا ہے۔ لاٹویا کی ایمبیسی پاکستان میں نہ ہونے کی وجہ سے ویزہ تاشقند (ازبکستان) میں موجو د لاٹویا کی ایمبیسی میں اپلائی کرنا پڑتا ہے جو کہ بظاہر مشکل لگتا ہے مگر یہ پراسس اتنا زیادہ مشکل نہیں۔ ہے۔ اس کے ویزہ نتائج بہت اچھے ہونے کی وجہ سے طلباء بخوشی لاٹویاکا ویزہ تاشقند میں جا کر اپلائی کرتے ہیں اور اگر چاہیں تو وہاں سے ویزہ حاصل کر کے پاکستان واپس آئے بغیر لاٹویا سفر کر سکتے ہیں۔

Zeshan Hasan Raza
director@betterideatravels.com

image_pdfimage_print