Voice of Asia News

جدید دور میں بھی ’’غلامی‘‘ کی زندگی:محمد قیصر چوہان

دور جدید میں بھی انسانوں کو غلام بنائے جانے کا سلسلہ ختم نہیں ہوا ہے اور اس وقت بھی دنیا بھر میں جبری مشقت، نا مساعد حالات اور بنیادی سہولیات سے محرومی، کم تر درجہ کی ادائیگیوں کے سبب غلامی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ لیکن عالمی سطح پر اس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ دنیا بھر میں اس وقت چار کروڑ سے زیادہ انسان ’’غلام‘‘ ہیں اور ان سب کی نصف تعداد بھارت میں ہیں، جن کو بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا ہے۔ بھارت میں غربت کے شکار دو کروڑ افراد غلامی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ بھٹوں، کانوں، کھیت و باغات، فیکٹریوں اور گھروں میں کام کرنے والے افراد کو اجرت ادا نہ کر کے ان کا استحصال کیا جاتا ہے۔ بیگار مشقت بھگتنے والوں میں خواتین اور کمسن بچے بھی شامل ہیں۔بھارتی ریاستوں میں موجود نچلی ذات کے ہندوؤں کی نا تو سماجی حیثیت کو تسلیم کیا جاتا ہے اور نا ہی ان کے حقوق کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ان کے بچوں کو سکولوں میں داخلہ نہیں دیا جاتا۔ ان کیلئے پانی کے کنویں الگ کردیئے گئے ہیں اور ان کو مندروں میں بھی نہیں آنے دیا جاتا۔ یہ پورا منظر نامہ دور جدید کی غلامی ہے، جو دلچسپ پیرائے کے مطابق بھارت میں زمانہ قدیم سے جاری ہے۔
دنیا بھر کے 167 ممالک میں دور جدید کی غلامی، غلاموں اور غلام بنائے جانے والی ذہنیت کا اعتراف کیا ہے، جس میں اریٹیریا اور شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھارت دور جدیدکی غلامی کا مرکزبنا ہوا ہے، جہاں دو کروڑ سے زیادہ انسانوں سے جبری طور پر مشقت کرائی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ کمیونسٹ ملک شمالی کوریا میں انسانوں کو غلام سمجھا جاتا ہے اور انتہائی کم معاوضہ کے بعد بھاری کام لیا جاتا ہے۔جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ شمالی کوریا میں ہر دس میں ایک انسان کو حکومت اور حکومتی اداروں نے غلام بنایا ہوا ہے۔ افریقی ممالک برونڈی، اریٹیریا، وسطی افریقی جمہوریہ، شمالی کوریا ،افغانستان میں بھی انسان غلام بنا دئے گئے ہیں اور حکومتیں خاموش ہیں۔
بھارت میں انسانوں کو غلام بنائے جانے کا سلسلہ کافی پرانا ہے، دنیا میں دور جدید کی غلامی کے مراکز میں بھارت پہلے نمبر پر ہے۔ جہاں کروڑوں انسانوں کو جبری مشقت سے جوڑا گیا ہے، جبکہ چھوٹی عمر کے بچوں اور نوجوانوں سمیت خواتین اور بچیوں سے کھیتوں،کارخانوں، بھٹوں سمیت گھروں میں بلا معاوضہ کام لیا جاتا ہے۔ بھارت میں جسم فروش صنعت میں ایک کروڑ سے زیادہ خواتین اور کم سن بچیوں کو ان کی مرضی کے بغیر شامل کیا گیا ہے، جس کا اعتراف ویمن فاؤنڈیشن انڈیا سمیت انسانی حقوق کے عالمی و علاقائی ادارے بھی کرتے ہیں۔ ممبئی، دہلی، کولکتہ سمیت متعدد بڑے شہروں میں بنگلہ دیشی، نیپال اور بھوٹان سے بھی لڑکیوں کو اغوا کرکے بھارت کے ان اڈوں میں لایا جاتا ہے۔ بھارتی انسانی حقوق کے ادارے تسلیم کرتے ہیں کہ بھارت میں پورے پورے خاندانوں کو غلام بنا کر رکھا جاتا ہے، جونہ صرف سالہا سال غلام رہتے ہیں بلکہ ان کی اپنی اگلی نسل بھی غلامی کے ماحول میں جوان ہو جاتی ہے۔ بھارت میں کم سن لڑکیوں اور لڑکوں سمیت جوانوں اور بوڑھوں کو بھی غلام بنانے کی اشکال موجود ہیں،بھارت میں اگرچہ آبادی کا کوئی یقینی تخمینہ نہیں ہے لیکن ایک اندازے اور حکومتی اعداد و شمار کی رو سے اس وقت بھارت کی آبادی ایک ارب پچیس کروڑ ہے، جس میں 30 کروڑ انسان غربت کی لکیر سے نیچے زندگی کی گاڑی گھسیٹ رہے ہیں اور ان میں دو کروڑ انسان غلام بنائے گئے ہیں جن کو اپنی زندگی کے بارے میں دوسروں کے فیصلوں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔بھارت دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کے کلکتہ، ممبئی، نئی دہلی، مدارس، بنگلور جیسے میگا شہروں میں بھی کروڑوں شہری فٹ پاتھوں، جھونپٹر پٹیوں، ٹرنک سیور پائپ لائنوں، گرین بیلٹوں، پارکوں، انڈر پاسوں، کھلے بنجر میدانوں اور حفظان صحت اور بنیادی سہولیات سے محروم غیر انسانی ماحول میں جنم لیتے، پلتے، پروان چڑھتے، جواں ہوتے، شادیاں کرتے، نئی نسل کو جنم دیتے، بیمار پڑتے اور کسمپرسی کے عالم میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مر جاتے یہیں سے ان کی ارتھیاں اٹھتیں، جوہڑوں کنارے بنائے گئے شمشان گھاٹوں میں ان کا ’’انتم سنسکار‘‘ ہوتا اور ان کی ’’استیاں‘‘ گنگا جل کی نذر کرنے کے بجائے گندے نالوں میں بہا دی جاتی ہیں۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print