Voice of Asia News

یوم مئی جہد مسلسل:شوکت علی چوہدری

یکم مء1886کا دن مزدوروں کی تاریخ میں ایک اہم۔موڑ اور ایک سحر انگیز عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔اس دن کی عظمت و تقدس سے کوءانکار نہیںکر سکتا۔شکاگو کے جیالے اور امر شہدوں نے اپنا لہو دے کر محنت کشوں طبقے کی اہمیت کو تسلیم کروالیا۔یہ ان ہی کی بے مثال قربانیوں کانتیجہ ہے کہ آج محنت کش ایک طاقت ور اور ناقابل تسخیر طبقے کی حیثیت سے درندہ صفت اور زوال پزیر جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف سینہ سپر ہیں۔
یکم مئی کا واقعہ انسانی تاریخ کا پہلا واقعہ نہی ہے۔ظالم اور مظلوم کی جنگ صدیوں سے جاری ہے۔غلام اور آقا۔کسان اور جاگیر دار اور سرمایہ دار لوٹنے والے اور لوٹے جانے والے کے درمیان اس کشمکش کا آغاز اس وقت سے ہوا جب اس دھرتی پر نکموں اور مفت خوروں کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گی۔اور یہ کشمکش اس وقت تک جاری رہیے گی جب تک یہ لعنتی طبقہ دنیا سے نیست و نابود نہی کر دیا جاے گا۔یکم مئی 1886 کی اس جنگ میں جمنے والی صفیں۔اٹھنے والے ہتھیار۔وقف شدہ قلم اور قربان ہونے والی جانیں عظیم ہیں کہ ان کی شروع کی ہوئی مختصر جنگ کے نمونے پر آج ملکوں ملکوں یہ جنگ لڑی جارہی ہے۔آج کے محنت کش اوقات کار میں کمی۔حالات کار میں اصلاح اور شرائط ملازمت میں بہتر تبدیلی کروانے کے ساتھ ساتھ محنت کے دشمنوں کا نجس وجود ہی ختم کر ڈالنے کے لیے بھی سر سے کفن باندھ رہے ہیں۔محنت کش فتح حاصل کرتے ہوے مستقبل کی طرف رواں دواں ہیں۔اس عزم اور یقین کے ساتھ کہ آخری فتح بھی صرف اور صرف ان کی یکم مئی1886 کا دن مزدوروں کی تاریخ میں ایک اہم موڑ اورایک سحر انگیز عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔اس دن کی عظمت و تقدس سے کوءانکار نہی کر سکتا۔شکاگو کے جیالے اور امر شہیدوں نے اپنا لہو دے کر محنت کش طبقے کی اہمیت کو تسلیم کروالیا۔یہ ہی ان کی بے مثال قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج محنت کش ایک طاقت ور اور نا قابل تسخیر طبقے کی حیثیت سے زوال پزیر جاگیرداوں اور اجارہ دار سرمایہ داروں کے خلاف سینہ سپر ہیں۔یکم مئی کا واقعہ انسانی تاریخ کا پہلا واقع نہیں ہے ظالم اور مظلوم کی طبقاتی جنگ صدیوں سے جاری ہے۔غلام اور آقا۔کسان اور جاگیردار اور اجارہ سرمایہ دار سرمایہ داروں اور لوٹے جانےوالے کے درمیان اس کشمکش کا آغاز اس وقت سے ہوا جب اس دھرتی پر نکموں اور مفت خوروں کے لیے بھی گنجائش پیدا کی گی اور یہ کشمکش اس وقت تک جاری رہے گی جب تک یہ طبقہ اپنی خونخواری چھوڑ نہ دے گا یا بصورت دیگر نیست و نابود نہی ہو جاے گا۔یکم مئی کی جنگ جو شکاگو کے گلی کوچوں قمیں لڑی گی جنگوں کی تاریخ میں مختصر ترین جنگ تھی۔لیکن یہ اہم ترین بھی تھی کیونکہ یہ گنہگار مصنفوں اور بے گناہ مجرموں کے درمیان تھی۔جھوٹ اور صداقت کے درمیان تھی۔یہ جنگ کسی وقتی کھوکھلے اور اتفاقی جزبے کے تحت نہی لڑی گی تھی۔ماضی کی عام تاریخی جنگوں کی طرح یہ جنگ انفرادی یا گروہی بنیادوں پر بھی نہ تھی بلکہ خالصتا طبقاتی بنیادوں پر تھی۔اس جنگ میں محنت کرنے والوں نے۔کام چوروں۔انسانوں کا خون پینے والوں اور انسانی محنت کو نوچنے والی گدھوں کو للکارا تھا۔یہ دراصل اس مسلسل جنگ کی ابتدا تھی جسکی لوح مقسوم پر محنت کشوں کی دائمی فتح و نصرت کندہ ہے۔ان شہیدوں کااس سے بڑھ کر اور اچھا کام اور کیا ہو سکتا تھاکہ انہوں نے محنت کش طبقہ کی بالادستی کے لیے اپنی جانیں دے دیں۔انہوں نے ان محبت کشوں کی حاکمیت کے لیے ہتھیار اٹھاے جن پر صدیوں سے ظلم ستم کے پہاڑ توڑے جارہے تھے۔1886 کی اس جنگ میں جمنے والی صفیں۔اٹھنے والے ہتھیار۔وقف شدہ قلم اور قربان ہونے والی جانیں عظیم ہیں کہ ان کی شروع کی ہوءمختصر جنگ کے نمونے پر آج ملکوں ملکوں یہ جنگ لڑی جارہی ہے۔اور وہ وقت دور نہی جب اس کائنات کےرنگوں میں قوس و قزا کے رنگ بکھرنے والے ظلم و ستم و استحصال کی ہر دیوار کو گر دیں گے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print