Voice of Asia News

رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں عبادت کے اصل تقاضے:محمد قیصرچوہان

 

گناہ انسان کی روح کو قتل کر دیتا ہے۔ انسان کی روح کو زندہ و بیدار رکھنے کیلئے گناہوں سے پاک کرنے کیلئے رب العالمین نے انسان کیلئے روزہ جیسی نعمت کا اہتمام کر دیا قرآن حکیم میں اﷲ تعالیٰ فرماتے ہیں۔’’اے ایمان الو! تم پر روزہ فرض کیا گیا جس طرح تم سے پہلے (امتوں ) کے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا اس توقع پر کہ تم (روزہ کی بدولت رفتہ رفتہ) متقی بن جاؤ۔‘‘ (سورۃ بقرہ آیت 183)۔اس آیت مقدسہ سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کیلئے اور ہر نبی کی امت کیلئے روزہ فرض کے درجے میں رکھا ہے۔ رمضان وہ مقدس مہینہ ہے جس میں قرآن حکیم دنیا میں نازل ہوا اور حضورؐ کو پورے عالم کی رہنمائی اور انسانوں کی دستگیری کیلئے مکمل ایک دستور نامہ صحیفہ کی صورت میں عطا کیا گیا۔ رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں انسان اپنے ظاہری و پوشیدہ گناہوں پر ندامت کے ساتھ استغفار کرتے ہوئے اﷲ کا مقرب ہو جاتا ہے اور اپنے لئے ہمیشہ کی اصلاح کا طلب گار بن جاتا ہے۔ حقیقتاً یہی وہ مبارک ماہ مقدس ہے جس میں اصلاح نفس کے ساتھ اصلاح اعمال کی بھی درستگی ہو جاتی ہے۔رمضان المبارک کی فضیلت اور اس کے تقاضے یہ ہے کہ ﷲ تعالیٰ نے اس ماہِ مبارک کی اپنی طرف خاص نسبت فرمائی ہے۔رمضان المبارک قرآن اور اﷲ کی رحمت کے جوش کا مہینہ ہے۔ شخصیت کی تہذیب و تربیت اور تزکیہ نفس کا مہینہ ہے۔ نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: ’’یہ ایک ایسا مہینہ ہے جس کا پہلا حصہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا جہنم کی آگ سے نجات دیتا ہے۔‘‘ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے مزید فرمایا: ’’اس مہینے میں رحمت اور خیر و برکت کے خزانوں کی بارش ہوتی ہے۔ جنت کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں، نفل کا ثواب فرض کے برابر، اور فرض کا ثواب ستّر فرائض کے برابر دیا جاتا ہے، اور ایمان و احتساب کے ساتھ روزہ رکھنے والوں اور رات کو نماز پڑھنے والوں کے سارے اگلے پچھلے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔‘‘
روزے کو عربی زبان میں ’’صوم‘‘ کہتے ہیں اور ’’ صوم‘‘ کے لغوی معنیٰ ہیں: ’’رکنا‘‘، اصطلاحِ شریعت میں صبح صادق کے طلوع ہونے سے لے کر سورج کے غروب ہونے تک اﷲ تعالیٰ کے قرب اور اجر و ثواب کی نیت سے قصداً کھانے، پینے اور نفسانی خواہشات سے رْکے رہنے کا نام ’’روزہ‘‘ ہے۔ روزہ! اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک بنیادی رکن اور اہم فریضہ ہے۔ اسلام میں روزوں کی فرضیت کا حکم 2 ہجری میں نازل ہوا۔ روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو امت مسلمہ کے ساتھ ساتھ تمام سابقہ امتوں پر بھی فرض تھی، اگرچہ ان روزوں کی تعداد اور کیفیت جدا جدا تھی۔
رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں ہماری مسجدوں میں حاضری بڑھ جاتی ہے، سجدے طویل اور صدقہ و خیرات عام ہوجاتے ہیں، گھر گھر سے تلاوتِ کلام پاک کی صدائیں بلند ہوتی ہیں، لوگ خود اپنے لیے ہی افطار و سحر کا اہتمام کرتے نظر نہیں آتے بلکہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی یہ نعمتیں بہم پہنچائیں۔ راستے میں جگہ جگہ لوگ دوڑ دوڑ کر افطار کراتے بھی نظر آتے ہیں۔ دن مقدس اور راتیں نورانی ہوجاتی ہیں۔ غرض ماہِ رمضان شروع ہوتے ہی ماحول بالکل تبدیل ہوجاتا ہے۔ اور یہی اس مقدس اور عظیم مہینے کا تقاضا بھی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اس عمل اور رویّے کے علاوہ ہمارا ایک اور رویہ بھی ہوتا ہے جو ہمیں اس ماہِ مبارک میں نظر آتا ہے۔ ہم رمضان کے آتے ہی انفرادی اور اجتماعی طور پر پہلے سے زیادہ بدتہذیب ہوجاتے ہیں، معمولی معمولی باتوں پر سڑکوں پر لڑتے نظر آتے ہیں، پہلے سے زیادہ رشوت خور ہوجاتے ہیں کیونکہ عید کا ہدف پورا کرنا ہوتا ہے۔ غرض رمضان میں ظاہری اعمال تو بڑھ جاتے ہیں لیکن دین کے حقیقی تصور اور اس کے معنی و مفہوم سے یا تو ناآشنا ہوتے ہیں، اور آشنا ہوں بھی تو اس کی جھلک عملی زندگی میں نظر نہیں آتی۔ اس ماہِ مقدس سے ہمیں درگزر کرنے، دوسروں کے ساتھ حْسنِ سلوک اور احسان کے معاملات کرنے، صبر اور شکر کے ساتھ دینے کا سبق ملتا ہے، لیکن عملی صورتِ حال یہ ہے کہ ہماری زندگی میں جذبہ خیر خواہی، جذبہ و درگزر، محبت، لوگوں کی دلجوئی، بچوں سے شفقت و نرمی، تکلیفوں اور اذیتوں کو برداشت کرنے، دوسروں کی غلطیوں کو معاف کرنے اور اپنی غلطی کو تسلیم کرنے جیسے اخلاقی اوصاف کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں۔ ہمیں اگر رمضان کی گہماگہمی دیکھنے کو ملتی ہے تو وہ رمضان میں کھانے پینے اور کپڑے اور شاپنگ کے پس منظر میں ہوتی ہے۔ ہم عام دنوں میں تو اپنے ملازمین اور رشتہ داروں کیلئے آسانیاں پیدا نہیں کرتے بلکہ صرف خودغرض بن کر اپنے لئے آسانیاں تلاش کرتے ہیں، اور پھر رمضان میں بھی ہماری یہی روش برقرار رہتی ہے۔ جبکہ یہ مہینہ تربیت کا مہینہ ہے، یہ ماہِ مبارک آپ کو سکھاتا ہے کہ آپ کس طرح پورے سال اﷲ کے مطلوب بندے بن کر لوگوں کیلئے آسانیاں پیدا کرنے والے، معاشرے کو خوبصورت بنانے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے والے بن سکتے ہیں۔
اسی طرح ہمارے ملک میں ہر سال رمضان المبارک کی آمد سے پہلے ہی مہنگائی کا جن بے قابو ہوجاتا ہے، مہنگائی آسمان کو چھونے لگتی ہے، ہم سے ہی تعلق رکھنے والے گراں فروش، عوام کی جیبیں کاٹنا شروع کردیتے ہیں۔ امسال بھی ماہِ مقدس کے آغاز سے پہلے یہ صورتِ حال ہے۔ اشیائے خورونوش کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں نے عام آدمی کو مزید مشکلات اور پریشانی میں مبتلا کردیا ہے۔ رمضان سے پہلے اشیائے ضرورت کی قیمتیں بڑھنے میں تیزی آگئی ہے ۔وطن عزیز میں ہرسال ذخیرہ اندوز رمضان المبارک کی آمد سے قبل ہی مزید مہنگائی کرنے کا منظم منصوبہ بناتے ہیں۔ مصنوعی قلت پیدا کرکے خفیہ گوداموں میں چھوٹی بڑی مارکیٹوں اور ہفتہ بازاروں میں ضروریاتِ زندگی کی تمام چیزوں کو ذخیرہ کرلیا جاتا ہے، تاکہ مصنوعی قلت پیدا کرکے ان اشیاء کو مہنگے داموں فروخت کیا جاسکے۔ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سبزیوں کی قیمت میں بھی کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ۔اس ساری صورت حال میں ریاست کا وجود کہیں نظر نہیں آتا، جبکہ کہا تو یہ جاتا ہے کہ ریاست اتنی طاقتور ہے کہ اس سے کوئی لڑنہیں سکتا، لیکن عملی صورت حال یہ ہے کہ ’’طاقت ور ریاست‘‘ ان ظالموں کے خلاف کوئی کارروائی کرتی اور ان سے لڑتی نظر نہیں آتی۔ عمران خان کی حکومت کے آنے کے بعد اُمید بندھی تھی کہ صورت حال بتدریج بہتر ہوگی، لیکن حالات بد سے بدتر اور حکومت کے بس سے باہر ہوتے جارہے ہیں اور کسی بھی وقت کوئی بڑا المیہ جنم لے سکتا ہے۔ عوام حکومت کی غلط اور بے سمت معاشی پالیسی سے پریشان اور بدحال ہیں،عوام پر ناقابلِ برداشت بوجھ بڑھتا جارہا ہے، غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے عوام دو وقت کے پیٹ بھر کھانے سے بھی محروم ہیں۔ معلوم نہیں اس ملک کے حالات بدلیں گے بھی یا نہیں؟ اور بدلیں گے تو کیسے بدلیں گے؟ کوئی راستہ سْجھائی نہیں دیتا اور نہ ہی کوئی راستہ دکھانے والا نظر آتا ہے۔ ان بدترین حالات میں ایک اور رمضان کا نصیب ہونا، اس سے بڑی خوش قسمتی کیا ہوسکتی ہے! رمضان المبارک معاشی، سیاسی، سماجی اور اخلاقی فساد سے نجات کے پیغام کا مہینہ ہے۔ یہ تبدیلی، انقلاب اور جدوجہد کا مہینہ ہے۔ اس کے اصل پیغام اور عبادت کا تقاضا ہی یہ ہے کہ اپنے ظاہری اعمال کے ساتھ اپنے باطن کو بھی دین مبین کی تعلیمات کے مطابق ڈھالا جائے، اور ریاست اور حکومت کو بھی اسلام اور رمضان کے پیغام کے تابع بنانے کیلئے اجتماعی جدوجہد کو تیز کیا جائے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print