Voice of Asia News

حکومت کے احساس پروگرام پر ایک نظر:شوکت علی چوہدری

 

حکومت پاکستان نے 112 شقوں پر مشتمل "احساس”کے نام سے ملک سے غربت کے خاتمہ کیلئے اپنے پروگرام کا اعلان کیا ہے اور اس پروگرام۔کی تکمیل کیلئے سال20۔2019 کیلئے 80 ارب روپے کی خطیر رقم بھی مختص کی ہے اور سال2021۔2002 تک اس رقم کو 120 ارب روپے تک بڑھانے کا بھی اعلان کیا ہے جو کہ GDP کے %1 کے برابر بنتی ہے۔اس پر عمل درآمد کیلئے سماجی تحفظ اور غربت کے خاتمے کی ایک وزارت بھی تشکیل دی ہے۔اور ساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام پاکستان بیت المال ،زکوۃ،غربت کے خاتمے کا فنڈ،وولنٹری آرگنایزیشن کے ٹرسٹ،سن نیٹ ورک،سنٹرل براے سوشل انٹرپنیورشپ اور سیکریٹریٹ برائے پاورٹی الیویشن کوآرڈی نیشن کونسل اور پلانڈ لیبر ایکسپرٹ گروپ سب اس وزارت کے ماتحت ہوں گے۔اور اس بات کا بھی اہتمام کرنے کا اعلان کیا گیا ہے کہ یہ سب کچھ ون ونڈو اپریشن کے تحت ہو گا۔اور اس بات کو یقینی بنانے کا اعلان بھی کیا گیا ہے کہ پاکستان کے ہر علاقہ کے رہنے والوں میں وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جاے گا۔اس کے علاوہ اس بات کو بھی یقینی بناے کا کہا گیا ہے کہ پلاننگ کمیشن آف پاکستان صوبوں کے مابین تنازات کو حل کروانے کا زمہ دار ہو گا۔اس بات کو بھی اس پروگرام۔میں شامل کیا گیا پے کہ غربت کے خاتمہ کیلئے ایک ایسا میکانزم بنایا جاے گا جس کے تحت غربت کے خاتمے کے اس پروگرام میں سرمایہ کاری کو بھی یقینی بنایا جاے گا۔پسماندہ طبقہ کیلئے انصاف کے سستے حصول کو بہتر کرنے پر کام کیا جاے گا۔ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی زیر نگرانی ہونے والے ترقیاتی کاموں میں شفافیت کے معیار کو یقینی بنانے کے رہنماء اصولوں پر عمل درآمد کیا جاے گا۔ریاستی اور حکومتی اداروں کے درمیان مفادات کے ٹکراو سے بچنے کیلئے رہنماء اصول وضع کئے جاہیں گے۔غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو روزگار مہیا کرنے کیلئے ان سرکاری جگہوں پر کھوکھے،چائے کے سٹال،اخبارات کی فروخت کے سٹال اور جوتے پالش کرنے کی جگہیں مہیا کی جاہیں گی۔اس کے علاوہ دیگر پسماندہ اور انتہاء غریب لوگوں کی غربت کے خاتمے کیلئے مارکیٹ کمیٹیوں کے علاوہ ٹاون اور تحصیل کمیٹوں کی مدد بھی حاصل کی جاے گی۔پسماندہ اور کچی آبادیوں کو زندگی گرارنے کی بہتر سہولیات فراہم کرنے کیلئے شفاف انداز میں ان علاقوں کو ترقی دی جاے گی،تمام زمین قبضہ مافیا سے واگزار کروائی جائے گی۔حکومت اس بات کی پابند ہو گی کہ وہ عوام کی ضرویات کے مطابق لوکل گورنمنٹ کی بہتری کے لیے کام کرے گی۔پاکستان میں ڈیٹا کا حصول ہمیشہ ایک مشکل مرحلہ رہا ہے اب حکومت نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ڈیٹا کے حصول کو یقینی بناے گی تاکہ اس ڈیٹا کی روشنی میں ترقیاتی کاموں کو بہترنداز میں سر انجام دے سکے۔اور اس بات کو بھی یقینی بناے گی کہ اس ڈیٹا کو ڈسٹرکٹ کی سطح تک ہر کسی رسائی تک بغیر کسی معاوضہ کے فراہم کرے گی۔اس کے علاوہ تعلیم کے فرغ کیلئے اقدامات کے اور بچوں کی ذہنی صحت کو بہتر کرنے اور تمام غریب لوگوں تک علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے ہیلتھ کارڈ کے اجراء کے علاوہ بے آسرا خواتین کے تحفظ کے ساتھ ساتھ 6 ملین خواتین کو افراط زر کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کی مالی مدد بھی کرے گی۔کفالہ پروگرام کے تحت 6 ملین خواتین کیلئے ایک عورت ایک بنک اکاونٹ کا اجراء کرے گی،حادثادتی نتصانات کا ازالہ کیا جاے گا۔غیر سرکاری تنظیوں کی مدد سے یتیموں،آوارہ گرد بچوں،سیزنل ماہیگرینٹ ورکرز،جنری مشقت کرنے والوں اور دھاڑی دار مزدوروں کے حالات کار کو بہتر کیا جاے گا،بے گھر لوگوں کیلئے دس ہزار گھروں کی تعمیر،بے آسرا لوگوں کیلئے پناہ گاہوں کی تعمیر،غریب لوگوں کے گھروں کی تعمیر کے لیے بغیر سود کے قرضوں کا اجراءó3۔3 ملین لوگوں کے لیے 38 ڈسٹرکٹ میں انصاف کارڈز کی فراہمی۔غریب لوگوں کو حادثات اور ایمرجنسی میں رونما ہونے والے صحت کے مسائل سے تحفظ فرئم کرنا۔پسماندہ اضلاع کو پبلک پرائیویٹ پاٹنرشپ کے ذریعے ترقی دینا۔EOBI پینشن کو 6500 روپے ماہوار تک بڑھانا۔بوڑھے لوگوں کیلئے بیت المال کے ذریعے احساس گھروں کی تعمیر،ویلفیئر پینشن سکیم کا اجراء،امیگریشن دفاتر میں پروٹیکٹرز کی تعداد میں اضافہ کرنا،ماہیگرینٹ ورکرز کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ون ونڈو سہولت کا اجراء،غیر ہنر مند افراد جو عرصہ سات سال سے بیرون ملک کام کرتے ہوں گے ان کی وطن واپسی کیلئے ان کوہوائی سفر میں رعایتی
ٹکٹ کی فراہمی،ملکی ترقی کیلئے انسانی وساہل کی ترقی پر سرمایہ کاری کرنا،بچوں کی ذہنی اور جسمانی نشوونما کے فروغ کیلئے کام کرنا،نیشنل ایجوکیشن فاونڈیشن کے فنڈز میں اضافہ کرنا۔حکومت نے اس کے علاوہ بھی بہت زیادہ غریب لوگوں کے لیے دیگر بہت سی مراعات کا بھی اعلان کیا ہے خاص کر خواتین اور بچوں کے لیے بہت بہتر اعلانات کیے ہیں۔ان تمام میں سے اگر حکومت وقت آدھی مراعات پر بھی عمل در آمد کردے تو پاکستان جیسے ملک میں ایک انقلاب آجاے گا۔اب دیکھنا ہے کہ حکومت گردن گردن تک۔کرپشن میں ڈوبے ہوے اور سیاست و ملکی وساہل پر قابض باآثر مافیا کی موجودگی میں اس پروگرام پر عمل درآمد میں کامیاب بھی ہو سکے یا یہ پروگرام بھی سابقہ حکومتوں کے بہت سے پروگراموں کی طرح صرف کاغذوں کی زینت بنا رہے گا۔ ایک بات تو طے ہے کہ اگر موجودہ حکومت اپنے اس نیے ایجنڈے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر پاکستان کا سارا سیاسی کلچر تبدیل ہو سکتا ہے اور پاکستان بھی قدم بہ قدم آگے کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •