Voice of Asia News

محمد ؐ کی محبت دین حق کی شرطِ اول ہے: محمد قیصر چوہان

جس کی محبت دین حق کی شرط اول ہے،جس کے بغیر کائنات کا حسن وجمال نا مکمل ہے ،جس کے بغیر کلیوں کا تبسم ادھورا ہے، جس کے بغیر بلبل کا ترنم ناقص ہے ،جس کے بغیر ایمان کامل نہیں ہوسکتا ،وہ ذات جو کائنات کی روح ہے ،انسانیت کا حسن ہے ،عالم رنگ وبو کی آبرو ہے ،صدق کا منبع،صبر کا معدن،خاکساری کا نمونہ اور رحمت ربانی کا مظہر ہے ،وہ عظیم المرتبت ہستی جو غلاموں کی محسن،غریبوں کی محب،مسکینوں کی ساتھی،یتیموں کا سہارا،دردمندوں کی دوا،اور بیواؤں کا آسرا ہے۔ وہ بنو ہاشم کا چراغ ،جو مہر الفت کا آئینہ ہے ،اﷲ کی رحمت کا خزینہ،حسن وفطرت کا ترانہ،گنہگاروں کا ملجیٰ،سیاہ کاروں کا ماویٰ،خطاکاروں کا مولیٰ،ستمگاروں کا آقااورغم زدوں کی فصلِ بہاراں ہے۔آیت رحمت کی رم جھم ،سازِ وحدت کا ترنم ،عشق کا بر حق توسل، اور دانائے سبل ،مولائے کل ،صاحب خیر نزل ،مطلع نور ازل اور مرکز دیدار کل ہے۔ وہ عبدالمطلب کی عزت کا نشان،جو پیکر صدق ووفا ،مصدر جود وسخا ،مظہر لطف وحیا ،کانِ شرم وحیا ،نور راہِ ہدیٰ،مطلع دلکشا ،مقطع جاں فزا ،شانِ رب العلیٰ ،شمس الضحیٰ ،بدر الدجیٰ ،خیر الوریٰ ،عروہ الوثقی،شاہِ دوسرا ،شمعِ غار حرا ،حبیب خدا ،سرور عالم ،مرسلِ خاتم ،آیت محکم ،نیّر اعظم،اجود واحکم ،صدر مکرم،خیر مجسم ،وارث زمزم ،مرکز عالم ،شفیع الامم،شہر یار حرم ،سحاب کرم ،گنج نعم ،شہنشاہِ امم اور جمیل شیم ہے۔وہ عبداﷲ کی آنکھوں کا نور ،جس کیلئے بزم ہستی سجائی گئی ،جس کیلئے کائنات کے گیسو آراستہ کیے گئے،جس کیلئے دنیا کو زیب و زینت عطا کی گئی ،جس کیلئے گلاب کے مکھڑے پر شبنم کے موتی جھلملائے گئے ،جس کیلئے فلک پر قوس وقزح کے رنگوں کی جلوہ نمائی کرائی گئی، جس کیلئے چمنستانوں میں حسن کا رس گھولا گیا ،جس کیلئے رنگ ونور کی برسات برسائی گئی ،جس کے اشارے پر چاند کے دوٹکڑے کیے گئے،جس کی لب کشائی پر سارا آفاقی نظام حرکت میں آیااور جس کیلئے صفحہ عالم کو دلہن بنایا گیا۔ وہ امام الانبیاء جس پر ربّ اور اْس کے فرشتے عقیدت کے درود نچھاور کرتے ہیں ۔وہ عظمتوں اور رفعتوں والا نبی ؐجسے ولادت کے پہلے روز ہی مشرق ومغرب، شمال وجنوب،مشرقین ومغربین اور مشارق ومغارب کی سیرکروا کر حضرت آدم علیہ السلام کے اخلاق،حضرت شیثؑ کی معرفت،حضرت نوح ؑکی بہادری ،حضرت ابراہیمؑ کی خلت ، حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی ،حضرت اسحاق ؑکی رضا ،حضرت یعقوب ؑکی بشارت ،حضرت یوسف ؑ کا حسن وجمال ،حضرت ایوب ؑکا صبر ،حضرت موسیٰ ؑکی سختی ،حضرت یوشع ؑ کا جہاد ، حضرت داؤد ؑ کی شیریں زبان ،حضرت لوطؑ کی حکمت وفراست ،حضرت دانیال ؑکی محبت اور حضرت عیسیٰ ؑ کا زہدعطا کیا گیا ،اورتمام انبیائے کرام علیہم السلام کے اخلاق اور اْن کے علوم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندروں میں غوطہ دے کر آپ ؐکو دنیا کی دہلیز پر اتارا گیا۔ آپ ؐ کی آمدسے صدیوں سے ستائی ہوئی انسانیت کو قرار آگیا،انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلے کو راہ مل گئی ،انسانیت کے ڈوبتے سفینے کو ملاح مل گیا ،بھٹکے ہوئے مسافروں کو منزل مل گئی،بادشاہوں ،ظالم سماجوں ،علاقائی اور قبائلی مظالم کی چکی میں پسے ہوئے کمزوروں ،لاچاروں ، بے بسوں ،بے کسوں اور مظلوموں کو نجات دہندہ مل گیا، عورتوں اورزندہ درگور کی جانے والی بچیوں کا مسیحا آگیا،معیشت ومعاشرت کی بے ہنگم دلدل میں پھنسی ہوئی اْمت کو عدل اور فطرت پر مبنی نظام عطا کرنے والا منصف اعلیٰ مل گیا، معیشت پر قابض چند سرمایہ داروں سے لوگوں کی جان چھڑانے والا نبی ؐ آگیا،لوگوں کو اپنے آگے جھکانے والے ظالم خداؤں سے نجات دلا کر نغمہ توحید کی صدا بلند کرنے والاموحد اعظم آگیا ،ظلمتوں اور تاریکیوں میں پھنسے ہوؤں کو روشنی اور نور عطا کرنے منور آگیا ،دنیا کی تنگیوں سے نکال کر دنیا کی وسعتوں اور آخرت کی کامیابیوں سے نوازنے والا آگیا ، جہنم کے کنارے کھڑی امت کو جنت کا مستحق بنانے والا مہربان نبیؐ آگیا،بت پرستی کی نجاست میں ملوث مخلوق کو توحید ربانی سے آشنا کرنے والا عظیم شناور آگیا،ظالم مذاہب کے جفا وجور سے اسلام کے عدل وانصاف کی طرف لانے والا رسولؐ ہاشمی آگیا۔ دنیا میں طہارت ونظافت ،حق گوئی،پرہیزگاری ،نرم خوئی اورعفت وپاک دامنی کا مبارک نظام قائم کرنے والا سید الثقلین آگیا … انسانی حقوق کا علمبردار آگیا، جو اپنے ربّ کا اتنا لاڈلا ہے کہ اْسے ایسا نام بخشا جس میں دونوں لب پہلے اْس کے نام کا بوسہ لیتے ہیں تب ادب سے اسمِ محمدؐادا ہوتا ہے ،جس کے سر پر ختم نبوتؐکا تاج سجایا گیا، جس کی پشت پر خاتم النبیینؐکی مہر ثبت کی گئی اور پورے عالم کی فضاؤں میں لانبیؐ بعدی کا پرچم لہرایا گیا ،اسمِ محمدؐ کروڑوں مسلمانوں کے ناموں کا حصہ ہے ،یہ نام مسلمانوں کے رگ وریشے میں رچا بسا ہے ، دل میں اس نام کی ٹھنڈک، زبان پر حلاوت،دماغ میں فرحت، آنکھوں میں سرور اور روح میں اس نام کی خوشبو موجود ہے ، مسلمانوں نے ہر دور میں اس نام کو اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھا ہے،محکومی اور غلامی کے دور میں بھی لاکھوں شمعِ رسالتؐکے پروانوں نے اس نام کی حرمت پر اپنی جانیں فدا کی ہیں۔ وہ جنت کا سردار جس کے بغیر جنت کے دروازے کھل نہ سکیں گے ،جو مقامِ محمود پر جلوہ افروز ہو گا،حمد کا جھنڈا جس کے ہاتھ میں ہوگا ،جو اولادِ آدم کا سردار ہوگا،جو جنت کا دروازہ سب سے پہلے کھٹکھٹائے گا ،جنہیں شفاعت کا اذن ملے گا اور محشر کا شافع اور کوثر کا ساقی ہوگا۔ وہ اولوالعزم نبی ؐجس کے نام کو تا قیامت اﷲ تعالیٰ نے اپنے نام کے ساتھ ایسا ملاپ بخشا کہ اذان ہویانماز ،خطبہ ہو یا دُعا ہر جگہ آپ کو اسم جل جلالہ کے ساتھ محمدؐکے نام کی گونج سنائی دے گی،کسی موذن کی اذان ، کسی مْصلِّی کی نمازاورکسی خطیب کا خطبہ نامکمل تصورہوگا جب تک وہ محمد ؐپر درود کے گلہائے عقیدت نثار نہ کر دے۔محمدؐہی کائنات کی وہ ہستی ہے جن کا سلسلہ نسب خالقِ کائنات نے اول انسان تک محفوظ رکھا ہے۔
اﷲ تعالیٰ کے بعد پیارے نبی ؐسے محبت اور انہیں تمام دنیاوی مال و دولت ، عزیز و اقارب سے زیادہ عزیز رکھنا تکمیل ایمان کی اولین شرط ہے۔ایمان کی تکمیل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک بے پناہ محبت ہمارا نصب العین نہ ہو اور آپ ؐ ہمیں دنیا کی ہر شہ سے زیادہ عزیز نہ ہوں اﷲ تعالیٰ سورۃ لنسا ء میں فرماتے ہیں کہ جس نے رسول اﷲ ؐکی اطاعت کی اس نے اﷲ کی اطاعت کی۔اطا عت محمد ؐ اطاعت الٰہی کا دوسرا نام ہے ۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ رسولِ اکرم ؐسے سچی قلبی محبت جزوِایمان ہے اور وہ بندہ ایمان سے تہی دامن ہے جس کا دل رسولِ اکرم ؐکی محبت سے خالی ہے۔ جیسا کہ جناب ابوہریرہ سے مروی ہے کہ اﷲ کے رسول ؐنے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، تم میں سے کوئی شخص بھی اس وقت تک ایماندار نہیں ہوگا جب تک کہ میں اس کے والد اور اولاد سے بھی زیادہ اس کا محبوب نہ بن جاؤں۔(بخاری: کتاب الایمان: باب حب رسول من الایمان؛۴۱) صحیح بخاری ہی کی دوسری حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک ایماندار کہلانے کا مستحق نہیں جب تک کہ اس کے والد، اس کی اولاد اور تمام لوگوں سے بڑھ کر اس کے دل میں میری محبت نہ پیدا ہوجائے۔ (ایضاً ؛۵۱) لیکن اس محبت کا معیار اور تقاضا کیا ہے؟ کیا محض زبان سے محبت کا دعویٰ کردینا ہی کافی ہے یا اس کے لئے کوئی عملی ثبوت بھی مہیا کرنا ہوگا؟ صاف ظاہر ہے کہ محض زبانی دعویٰ کوئی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ اس کے ساتھ عملی ثبوت بھی ضروری ہے جس کا طریقہ یہ ہے کہ ایسے شخص کے جسم و جان پر اﷲ کے رسول ؐکے ارشادات و فرمودات کی حاکمیت ہو، اس کا ہر کام شریعت نبویؐ کے مطابق ہو، اس کا ہر قول حدیث ِنبوؐ ی کی روشنی میں صادر ہوتا ہو۔ اس کی ساری زندگی اﷲ کے رسولؐ کے اْسوۂ حسنہ کے مطابق مرتب ہو۔ اﷲ کے رسولؐ کی اطاعت و فرمانبرداری ہی کو وہ معیارِ نجات سمجھتا ہو اور آپؐ کی نافرمانی کو موجب ِعذاب خیال کرتا ہو لیکن اگر اس کے برعکس کوئی شخص ہر آن اﷲ کے رسولؐ کی حکم عدولی کرتا ہو اور آپ ؐکی سنت و ہدایت کے مقابلہ میں بدعات و رسومات کو ترجیح دیتا ہو تو ایسا شخص ‘عشق رسول ؐاور حْبّ ِرسولؐ کا لاکھ دعویٰ کرے یہ کبھی اپنے دعویٰ میں سچا قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یہ اپنے تئیں سچا سمجھتا ہے تو سمجھتا رہے مگر اﷲ کے رسولؐ ایسے نافرمان اور سنت کے تارک سے بری ہیں کیونکہ آپؐ کا ارشاد گرامی ہے: ترجمہ (بخاری؛۳۶۰۵) جس نے میری سنت سے روگردانی کی، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں۔
اﷲ تعالی اور اس کے رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم نے اس بات پر تاکید کی ہے کہ مومن کے دل میں اﷲ اور اس کے رسول کی محبت تمام اقسام محبت سے زیادہ ہونی چاہیے اور محبت کے تمام مراتب سے اعلی وارفع ہونی چاہیے ، اور اس کے معلوم کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ انسان اپنی تمام محبوبات اور حضور صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت میں غور و فکر کرے اورسوچے تو یقینا اس کی عقل یہ فیصلہ کرے گی کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت ،انانیت کی سرشت پر غالب ہے ، اور اس انانیت کا نام و نشان ختم کردیتی ہے ، اے مسلمان عقلمند! آپ کیلئے سیدنا عمربن الخطاب رضی اﷲ عنہ کی سیر ت میں بہترین نمونہ ہے۔
محبت فرض :یہ وہ محبت ہے جو نفس کو فرائض کے بجالانے اور گناہوں سے بچنے پر آمادہ کرے ، اور اﷲ نے جو کچھ اس کیلئے مقدّر کیا ہے، یہ محبت اس پرراضی ہونے پر آمادہ کرے۔ پس جو شخص کسی معصیت میں مبتلا ہے یااس نے کسی فرض کو چھوڑ دیا یاکسی حرام فعل کا ارتکاب کیا تو اس کا سبب اس محبت میں کوتاہی ہوتا ہے کہ اس نے اس محبت پر نفس کی خواہشات کو مقدم کیا ، اور یہ العیاذ باﷲ غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
محبت سنت :وہ یہ ہے کہ انسان نفلی عبادات کی پابندی کرے اور مشتبہ امور سے بچتا رہے۔اس بحث کاخلاصہ یہ ہے کہ وہ مومن جو رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے، اس کے پاس شریعت کے جو بھی اوامر اور منہیات پہنچے ہیں وہ مشکاۃِ نبوت سے ہی پہنچے ہیں اور وہ صرف آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلتا ہے ، آپ کی شریعت سے راضی اور انتہائی خوش ہوتا ہے ، آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کے اخلاق اپناتا ہے ، اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے جو فیصلے فرمائے ہیں ان سے اپنے نفس میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا جس شخص نے ان امور پر اپنے نفس سے جہاد کیا ،اس نے ایمان کی حلاوت حاصل کرلی ۔
دین، ایمان، عبادت و ریاضت اور مقامات و درجات میں محبت ہی کو فوق حاصل ہے۔ بعض اوقات تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا محبت عبادت پر بھی سبقت لے جاتی ہے۔نبی اکرم کی زیربحث حدیث اس محبت کی فوقیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ نے بارگاہِ رسالت مآب میں عرض کی کہ یارسول اﷲ آپ مجھے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں سوائے میری جان کے۔ نبی اکرمؐ نے فرمایا تم میں سے کوئی بھی سچا مومن نہیں بن سکتا جب تک کہ میں اْسے دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب نہ ہوں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے پھر عرض کی کہ اس ذات پاک کی قسم جس نے آپ پر قرآن کریم نازل کیا آپ مجھے میری جان سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔ اس پر آنحضور ؐنے فرمایا کہ عمر اب تمہارا ایمان مکمل ہو گیا ہے۔اندازہ کیجئے نبی اکرم نے ایمان کی تکمیل کو بھی اپنی محبت کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے ۔یہاں بھی تکمیل ایمان کا باعث فرض و نفل عبادت کو نہیں ٹھہرایا۔اب تک ہم نے جان لیا کہ دل میں موجزن نبی اکرم کی محبت و مودت آپ کی اتباع پر منتج ہوتی ہے اور اتباع ایک طرح کا عمل ہے جو جسمانی حرکات و سکنات یعنی افعال پر مشتمل ہے۔ دوسری طرف محبت ہی مقام مومن تک رسائی کا زینہ قرار پاتی ہے اور محبت رسول ہی تکمیل ایمان کی شرط قرار پاتی ہے۔
مؤمن کے دل کیلئے ایک عمدہ اور باسعادت زندگی کا حصول اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کی محبت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم سے آپ کی محبت وہ قیمتی جوہر ہے جو دل میں ایک عظیم نور سے چمکتا ہے ، اور اس کیلئے ضروری ہے کہ اس سے ایسی نورانی شعائیں نکلیں جو اس محبت کو بتائیں اور جیسے یہ شعائیں اس کے آثارمیں سے ہیں، اسی طرح اپنے اندر تاثیر بھی رکھتی ہیں جس سے محبت میں اضافہ ہوتا ہے اور اس میں ترقی ہوتی ہے، یہاں تک کہ محبت کرنے والا اﷲ اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کے ہاں محبوبیت کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ معاملہ صرف یہی نہیں کہ آپ اﷲ تعالیٰ اوراس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم سے محبت کریں بلکہ اصل معاملہ نجاح و فلا ح اور عظیم کامیابی کا یہ ہے کہ آ پ سے اﷲ تعالی اور اس کے رسول صلی اﷲ علیہ وسلم محبت کریں ۔کسی بھی انسان کے پاس پیمائشِ عشق رسول صلی اﷲ علیہ وسلم کا کوئی ترازو نہیں ہے اور پھر یہ سمجھ لینا بھی ناانصافی ہے کہ محبت خاتم الانبیاء صلی اﷲ علیہ وسلم پرکسی مخصوص شخص یا گروہ کا حق ہے۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ وہ شخص مسلمان ہی نہیں۔ جس کے دل میں شمعِ رسالت صلی اﷲ علیہ وسلم کی ضوفشانیاں چکا چوند نہیں مچا دیتیں۔
محمدؐ کی محبت دین حق کی شرطِ اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print