Voice of Asia News

تبدیلی کے آغاز کا بہترین موقع رمضان کریم: سید وزیر علی قادری

 

اﷲ رب العزت نے مسلمانوں کو جہاں بہت سے انعامات و اکرامات سے نوازا ہے وہیں کچھ مواقع ہم جیسے کمزور بندوں کے لیے بہت ہی رحمتوں کے نزورل کے سبب بنے ہیں۔ ان میں ایک قلیل تعداد حج ، عمرہ اور زکوات کے فرائض کی ادائیگی سے مستفید ہوتی ہے۔ کیونکہ ان تینوں عبادا ت کا تعلق صاحب ثروت و حیثیت سے ہے۔ لیکن نماز کے بعد ایک عبادت اور فرض ایسا ہے جس کا طرہ امتیاز یہ ہے کہ اس کا تعلق صرف بندے اور رب کے درمیان ہی رہتا ہے۔ اس عبادت کا نام ہے’ صوم’ جو رمضان المبارک کے مہینے میں رکھا جا تا ہے۔ عمومی طور پر شعبان کی آخری تاریخ کو مغرب کے بعد جو چاند نظر آتا ہے وہ دین اسلام میں رمضان کریم کا چاند کہلاتا ہے اور اسی طرح رمضان المبارک کے آخری روز بعد نماز مغرب جو چاند نظر آتا ہے وہ شوال المعظم کا کہلاتا ہے۔ اسلامی ہجری کلینڈر میں رمضان9 واں اور شوال 10واں مہینہ کہلاتا ہے۔ ہجری کلینڈر کا آخری مہینہ ذالحجہ اور اس کے بعد نئے اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم الحرام کے نام سے منسوب ہیں جو خود ایک خاص فضیلت کے حامل ہیں۔
موضوع کی جانب آئیں تو اس کا عنوان ‘تبدیلی کے آغاز کا بہترین موقع رمضان کریم’ یہ تاثر دیتا ہے کہ ہم اپنے آپ کو مثبت انداز میں تبدیل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو پھر تبدیلی آکر ہی رہے گی اور نظر بھی آئے گی۔ اس کا بہترین موقع یہ ہی رمضان کریم ہے ۔ اﷲ کریم ہمیں اس ماہ مبارک کے فیوض و برکات سے بہرہ ور فرمائے آمین۔ رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی ہمارے اطراف ایک ایسا ماحول جنم پاتا ہے کہ یقین نہیں آتا یہ وہ ہی اﷲ کے بندے ہیں جو بسا اوقات ہی نہیں کئی مرتبہ فرض نمازوں کی ادائیگی میں سستی کا شکار ہوجایا کرتے تھے جس میں مجھ سمیت ایک بڑی تعداد شامل ہے۔ مگر رمضان المبارک کا چاند نظر آتے ہی عشاء کی آذان ہوئی نہیں اور مساجد میں نمازیوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔سبحان اﷲ۔ یہ کیفیت الحمد ﷲ کم از کم شوال کے چاند نظر آنے سے پہلے آخری پڑھی ہوئی نماز مغرب تک تو ضرور رہتی ہے۔ ہر سال رمضان کریم کے آغاز سے چند روز قبل ہونے والی تقریبات جو استقبال رمضان کے سلسلے میں منعقد ہوتی ہیں مقررین یہ سوال حاضرین سے ضرور کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے کہ 30روز کا ماحول مستقل برقرار نہیں رہتا؟۔ابھی تک جو جواب سامنے آیا ہے اس میں شیطان کے بند ہونے کو سر فہرست رکھا گیا ہے۔ اس میں کوئی دو رائے بھی نہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ رمضان المبارک کی آمد خود رب العزت کا عنایت کردہ تحفہ ہے کہ ہر مسلمان اس کی تکریم اور اس کی حرمت کے حوالے سے اپنی بساط کے مطابق قبول کرتا ہے اور اس ماہ مبارک میں جو رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہوتا ہے اس کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کی سعی بھی کرتا ہے۔ یہ سب رب کائنات کا فضل ہے کہ وہ ہمیں اس طرف راغب کرتا ہے اور ایسے ماہ مبارک میں ایسا معاشرہ ترویج پاتا ہے کہ بندہ خدا کی طبیعت خود بخود ااس طرف مائل ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ ایسے ماحول سے جڑ جاتا ہے کہ جہاں سے وہ نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ بندہ خدا شعبان المعظم میں اس ماہ کو پانے کے لیے اپنے رب سے دل ہی دل میں خواہش کا اظہار کرتا ہے اور اس کی توفیق بھی مانگتا ہے کہ اے میرے پروردگار !ایک ایسا مہینہ جو آپ کی طرف سے پہلے کی امتوں کو بھی اور بعد میں آخری نبی الزماں حضرت محمد صل اﷲ علی وسلم کی امت کو بھی دیا گیا ہے ۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا نجات اور یہ ہی نہیں ایک ایسی شپ اور اس میں بھی ایک ایسی ساعت کہ وہ ہزاروں راتوں سے افضل بھی اسی ماہ کریم کا خاصہ ہے۔ ہر وہ نفس خوش قسمت جو اس کو پالے اور اس میں اپنے رب کو راضی کرلے اور وہ شب قدر جس کا نقشہ آخری پارہ عمہ میں سورہ القدر میں کھینچا گیا ہے فرشتے جب واپس آسمان کی طر ف فجر کی نماز کے وقت جاتے ہیں تو گزری ہوئی شب میں اس بندے کی کاگزاری کو پیش کر تے ہیں جو سب کچھ جانتا اور باخبر ہے۔مگر چاہتا ہے کہ اپنے فرشتوں سے اس نیک اور فرمانبردار بندہ کی روداد سنے کہ کس طرح مجھے بن دیکھے ایمان لانے کے بعد میری طرف سے دی گئی خوشخبری پر بھی اسی طرح ایمان کامل رکھتا ہے جیسے میرے یکتا ہونے پر ۔تو سمجھ لیجیے کہ پھر کیوں ایسے بندے کو جنت الفردوس میں وہ مقام نہ ملے جہاں سب سے بڑا قدردان اس کے استقبال کے لیے منتظر ہو گااور جو وعدہ اس سے کیا گیا ہے اس کو پورا کرنے کے لیے ذرا بھی دیر نہ کرے گا۔ انشاء اﷲ۔
سوال یہ ہے کہ ایسے خوش قسمت عبادت گزار کی شوال کی چاند رات کو دوبارہ ہ ہی کیفیت معاشرے پر کیوں طاری ہوجاتی ہے جو اس کے آغاز سے اس کی تھی۔ اس کی سادہ و معقول وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ بندہ کرتا ہی ارادہ صرف ایک ماہ کے لیے ہے کہ وہ اپنے رب کی رضا اور خوشنودی کے لیے زیادہ سے زیادہ اس ماہ کریم میں عبادت کرے گا، سحری میں اٹھ کر تہجد کا اہتمام کرے گا، قرا ن حکیم کی تلاوت کرے گا، پانچوں وقت کی نماز کا باجماعت ادائیگی کا انتظام کرے گا ، غریبوں اور مسکینوں کی مدد کرے گا اور ہوسکے تو سحری و افطار کا اہتمام کرے گاصدقہ خیرات اور فطرہ ادا کرکے ان غریبوں اور مسکینوں کو بھی عید کی خوشیوں میں شامل کرے گا۔ کوئی بھی ایسا عمل جو اس کو اس ماہ مبارک میں اپنے رب سے قریب کرسکتا ہے اس کو فورا پایہ تکمیل تک پہنچائے گا ۔اب اگر یہ فکر اور عمل کا سلسلہ وہ مستقل اور آئندہ کی ذندگی میں جاری رکھنا چاہتا ہے تو وہ اپنے رب سے مخاطب ہو کر یہ کہے کہ اے میرے رب ! مجھے توفیق دے کہ جو دعا ہمارے پیارے آقا محمد صل اﷲ علیہ وسلم نے اس ماہ کریم کی مناسبت سے مانگی ہے میں بھی اپنا وقت قیمتی بناؤں اور ہر وہ کام کروں جو تجھے پسند ہے اور جس سے رسول بھی خوش ہو ں ۔ مزید یہ دعا کرے کہ اے میرے رب! گزشتہ ذندگی جو میری لایعنی باتوں میں گزری اور جو وقت کازیاں میں نے کیا یہ ہی نہیں فرائض سے روگردانی کی اور کئی موقعوں پر شیطان کے ورغلانے میں آیا اور نفس کا پجاری بنا یہ رمضان کریم کا مہینہ ایسا بنادے کہ میری آئندہ کی ذندگی تیری اطاعت میں گزرے۔ جو تو مجھ سے چاہتا ہے اس ماہ مقدس میں مجھے ایسا بنادے اور ایسا جب تک میرے جسم میں سانس ہے ایسا ہی میں بنا رہوں تو یقین جانیے وہ رب کریم اس دعا کو اس کے آمین کہنے سے پہلے ہی عملی جامہ پہنا دے گا اور اس کی زندگی میں ایسا انقلاب برپا کردے گا کہ وہ صرف ایک باعمل مسلمان اور نیک بندہ ہی نہیں بلکہ اس کی عنایت سے وہ ایک مبلغ اور ایسا مومن صفات والا معاشرے کا حصہ بنے گا کہ دیکھنے والا اشک اشک کرے گا اور خود بھی اس جیسا ہونے کی کوشش کرے گا انشا ء اﷲ۔
یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ یہ ہی وہ بہترین موقع ہے یعنی رمضان کریم کہ بندہ خدا تبدیل ہونے کا آغاز کرے۔ اس کے لیے کوئی بہت بڑی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں ۔ دراصل دین 2بنیادی اصولوں پر پرکھا جاتا ہے ۔ معاملات اور معمولات ۔ اپنے اوقات کار کو اس طرح بنائے کہ پنج وقتہ باجماعت نماز کی ادائیگی اس کا شیوہ بن جائے۔ صبح کوئی بھی کام کرنے سے پہلے قران حکیم کی تلاوت اس کا معمول بن جائے۔ ہر وہ دعا اس کی زبان پر رہے جو کسی بھی کام کے آغاز، درمیان اور اختتام پر مانگنے کے لیے قران حکیم اور احادیث مبارکہ میں مزکورہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ کس طرح معاشرے میں تبدیلی آتی ہے ۔جب بندہ خدا ہر ہر لمحے اپنے رب کی اطاعت اور نبی کریم کی سنت پر عمل پیرا ہوگا تو اس کی روح تر و تازہ اور قرب و جوار کا ماحول خوشبو سے معظر محسوس ہوگا۔ انشاء اﷲ۔ ایک بات اور سمجھنے کی ہے کہ مسلمان مادیت نہیں روحانیت سے زیادہ قریب ہونا چاہیے۔ یہ صیح ہے کہ کام کاج سے لے کر محنت اور مشفقت دیانتداری ، ایمانداری سے ہی ہمارا دین کرنے کا کہتا ہے لیکن نتائج کا اور ہر اچھے کام کا صلہ رب العزت سے ملنے کا خواں ہو۔ تمام باتوں میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ مسلمان ہونے کی پہلی شرط اگر کلمہ طیبہ ہے تو اس کا عملی مظاہرہ نماز ہے۔ اس کے بعد حلال روزی سب سے اہم اور عین عبادت ہے۔کبیرہ گناہوں اور صغیرہ گناہوں سے اپنے آپ کو بچانا اور ام الخبائث سے لے کر عام ممانعت والے کام جو شریعت میں رب العزت کی جانب سے حرام قرار دیے گئے ہیں ان سے بچنا اورجن کاموں کو اختیار کرنے کا حکم قران حکیم اور احادیث مبارکہ میں ملتا ہے وہ عین سنت کے مطابق کیا جائے تبدیلی کے لیے اس کا اہتمام ضروری ہے۔ رمضان کریم میں کوئی بھی عمل کیاجائے اور وہ شریعت و سنت کے عین مطابق ہو تو اس کا اجر بہت بڑھ کرضرور ملے گا لیکن اگر وہ اس کے برعکس کیا جائے تو خدانخواستہ عذاب کا پیش خیمہ نہ ثابت ہو۔ اﷲ کریم ہم سب مسلمانوں کو اس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔ تبدیلی کے لیے اس سے بہتر موقع کوئی نہیں ہوسکتا کہ بندہ خدا اپنے رب کو راضی کرنے کے لیے صبح سے لیکر شام تک بغیر کھائے پیے رہے اور رات کو قیام اللیل کا اہتمام کرے۔ اسی طرح وہ گناہ کبیرہ و صغیرہ جو وہ اس ماہ مبارک سے پہلے کرتا رہا آئندہ کی زندگی میں اس سے اجتناب کرے ۔ اگر اسی ارادے اور عمل کو وہ بقیہ زندگی میں نافذ کرلے تو اس سے بہتر رمضان المبارک کی برکتیں سمیٹنے والا کوئی ہونہیں سکتا۔اسی طرح وہ نیک اعمال جو عموما وہ رمضان کے مقدس مہینے میں کرتا ہے آئندہ کی بقیہ زندگی میں نافذ کرنے میں کامیاب ہوجائے تواس سے بڑا متقی و پرہیزگار بندہ خدا روئے زمین پر کوئی ہونہیں سکتا۔ بحیثیت مسلمان ہم میں چند خامیاں سرایت کرگئی ہیں جن سے چھٹکارا حاصل کرنے کا یہ رمضان کریم کا مہینہ بہترین موقع ہے۔ مثال کے طور پر ہم عام طور پر کسی کے پیٹھ پیچھے برائیاں کررہے ہوتے ہیں اور یہ محسوس ہی نہیں ہوتا کہ یہ غیبت کے زمرے میں آتا ہے جس کی وعید بھی بیان کی گئی ہے۔ کوشش کریں اس سے اجتناب کریں، چغل خوری، احسان جتانا،کسی کی کمزوری کو اس کو الگ سے توجہ د لانے کے بجائے دوسروں تک اس کی بغیر تصدیق اور حالات اس کی پگڑی اچھالنا اور اپنے سمیت دوسروں کے لیے مزے کا حصہ بنانا یا اس کو معاشرے میں ایسا بدنام کرنا کہ اس کی عمر بھر کی ،کی ہوئی اچھائی کو ایسا دبا دینا یا پس پشت ڈال دینا کہ وہ کسی سے وضاحت بھی نہ کرسکے۔اسی طرح جو لوگ مالی طور پر بہت مستحکم ہیں وہ سودی نظام میں غریبوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھا کر ان کو اس طرح جکڑ لیتے ہیں کہ وہ سود ہی نہیں دے پاتے چہ جائیکہ اصل رقم۔ اس سلسلے میں قارئین کے مشاہدے میں بھی ایسی صورتحال کا سامنا کرنے والوں کی ایک فہرست ہوگی۔ کیوں نہ اس موقع پر کچھ افراد ان سود خوروں سے رابطہ کریں اور سمجھائیں کہ خدارا !جس رب کائنات نے انہیں نوازا ہے اس میں اپنے دینی بھائیوں کا بھی حصہ ہے۔ اگر آئندہ اس لعنت سے دور رہنے کا عزم کرلیں اور جو کچھ لے لیا اس پر اﷲ اور بندے سے معافی مانگ کر اصل رقم کی وصولی کے لیے آسان طریقہ اپنالیں تو رزق حلال میں بے پناہ اضافہ بھی ہوگا اور سب سے بڑھ کر اﷲ رسول سے جنگ والی روایت سے نجات ملے گی۔ اسی طرح مختلف سرکاری دفاتر میں ان درخواست گزاروں سے جو اپنے جائز کام کرانے کے لیے ان سے رابطہ کرتے ہیں رشوت خور عناصر ان شریف اور سادہ لوح شہریوں سے کام کے عوض بھاری رقم کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ نہ چاہتے ہویے بھی وہ سائل اس گندگی میں ہاتھ ڈال دیتا ہے۔ سوچیئے یہ حرام کمانے والے کس طرح ان کو بھی اس روایت کے مطابق مجرم بنادیتے ہیں کہ رشوت دینے والا اور لینے والا دونوں جہنمی ہیں۔یہ رمضان کریم ایک ایسا مقدس مہینہ ہے کہ ایسے تمام افراد اپنے رب سے رجوع کریں، توبہ کریں اور آئندہ اس سے اجتنا ب کرکے اپنی عاقبت اور ایک اچھا معاشرہ تشکیل دینے میں معاون ثابت ہوں۔ اسی طرح ہمارے ملک میں تاجروں کا ایک بہت بڑا طبقہ اشیائے خورد نورد میں ملاوٹ سمیت ناجائز منافع خوری میں بہت آگے چلا گیا ہے۔ اس میں ایک کارخانے داراور خدمات پیش کرنے والے اداروں سے وابستہ کنسلٹنٹ، صنعت کار و کاروبار کرنے والا شخص ہی نہیں ایک ٹھیلے والا بھی شامل ہے۔اس کو اندازہ ہی نہیں کہ وہ معاشرے میں کتنا بڑا بحران پیدا کررہا ہے۔جہاں ایک خاندان کا سربراہ تھوڑی سی آمدنی کماکر اپنے بال بچوں کا حلال روزی کو شعار بنانے کی کوشش کرتا ہے مگر وہ قرض لینے یا شیطانی بہکائے میں آکر ناجائز آمدنی کمانے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ یہ رمضان کریم اس کے لیے تبدیل ہونے کا بہترین موقع ہے۔ وہ ذرا سوچے کہ اس کا رب کتنا رحیم و کریم ہے کہ دوزخ کے دروازے بند کرکے جنت کے دروازے کھول دیتا ہے ، انعام و اکرام کی ایسی بارش برساتا ہے کہ بندہ خدا اس کو سمیٹ نہیں پاتا مگر اس کے خزانے میں سوئی کے ناکے کے برابر بھی کمی نہیں آتی۔ اگر وہ کاروباری حضرات اپنے مسلمان بھائیوں کی غربت والی کیفیت کا اندازہ کرلیں اور آئندہ کے لیے اس سے ہٹ کر معقول نفع کمائیں اور ملاوٹ سے دور رہیں تو یقینا رب کریم ان کی توبہ کو قبول بھی کرے گا اور ان کے کاروبار میں برکت بھی ڈالے گا انشا ہ اﷲ۔اسی ضمن میں حکومت کے نافذ کردہ ٹیکسوں کی عدم ادائیگی یا کھاتوں میں ہیر پھیر کرکے جائز تصور کرنا اور حیلے بہانے تلاش کرنا کسی طرح بھی ایک مسلم معاشرے کی عکاسی نہیں کرتا اس کو بھی ہمیں مدنظر رکھنا چاہیے۔ اسی طرح وہ شہری جو آمد و رفت کے لیے سواری کا استعمال کرتے ہیں چاہے نجی ملکیت ہو اور چاہے پبلک ٹرانسپورٹ حکومتی قوانین کی دھجیاں بکھیرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔ اس میں سگنل توڑنا سب سے نمایاں غیر قانونی عمل ہے ۔اس سلسلے میں سب سے دردناک صورتحال یہ ہے کہ ہم اس کو غلط ہی نہیں سمجھتے بلکہ اس کے صیح ہونے پر دلیلیں دینے سے بھی نہیں چکتے۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس کی گنجائش نہیں چہ جائیکہ ایک اسلامی مملکت میں مسلمانوں کی یہ روش ہو۔یہ رمضان کریم بھی دعوت دیتا ہے کہ جس طرح صبح سے لے کر شام تک بھوکے رہے ،سخت دھوپ اور شدید پیاس کی کیفیت میں پانی تک نہیں پیا اسی طرح اگر چند منٹ سگنل پر رک کر ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تو سڑکوں پر نہ ٹریفک جام ہوگا نہ اصولوں پر عمل پیرا گاڑی چلانے والا کوفت کا شکار ہوگا۔اور نہ رشوت خوری کا دروازہ کھلے گا۔ اسی طرح نظم و ضبط ، کسی پریشان حال شخص کو سڑک پر ٹرانسپورٹ کا انتظار کرتے دیکھ کر اس کو اس کے مقام پر پہنچا دینا بھی نیک اعمال میں شامل ہوگا۔ اسی طرح کسی ادارے میں کام کرنے والے ملازمین اپنے ماتحتوں اور افسران /ذمہ داران کے ساتھ اچھا برتاؤ کرکے اس رمضان کی برکت سے ماحول کو سازگار بنا سکتے ہیں۔ جس طرح روزہ رکھنے کے لیے سحری کا اور روزہ کھولنے کے لیے وقت کا شریعت نے تعین کیا ہے اسی طرح یہ پیغام رمضان کریم میں ملتا ہے کہ جو اوقات کار اس کے لیے مختص کیے گئے ہیں وہ اس میں دیانتداری سے کام کرے گا۔ وہ مسلمان روزے دار جو عام دنوں میں سگریٹ نوشی، تمباکو، گٹکا اور اس جیسی اشیا کا استعمال کرتے ہیں اس رمضان کریم سے فائدہ اٹھاتے ہویے اس سے پرہیز کریں گے اور اپنے خاندان و معاشرے کو اس وجہ سے تکلیف دینے سے بچیں گے۔ ایک بات جو سب سے اہم ہے وہ مجھ سمیت اگر کسی میں پائی جاتی ہے اس کا تدارک بھی اس رمضان کریم کی برکت سے ہوسکتا ہے۔ لین دین کے معاملات بہت اہم ہیں۔ اس میں جس طرح بے احتیاطی برتی جاتی ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اس قسم کے عمل سے کئی گھرانے مشکلات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اگر کسی سے مال ، رقم یا خدمت کے عوض پیشگی معاوضہ لے کر ایک خاص مدت کے بعد ادائیگی کا وعدہ نہ نبھائے تو یقینا شرعی جرم بھی ہے اور دیگر معاشرے کے افراد کے لیے پریشانی کا سبب بھی۔ لہذا اس ماہ مبارک میں توبہ و استغفار اور صاحب معاملہ سے رجوع کرکے صیح صورتحال اور اس پر گزرنے والی کیفیت پر معذرت اور فوری ازالہ اور اس کوفت سے اس کو نجات دلانا بھی حقوق العباد کا حصہ ہے جس کے لیے بھی وعیدیں مختلف روایتوں میں موجود ہیں۔ اﷲ رب العزت ہمیں اس ماہ مبارک کی تمام رحمتوں اور برکتوں کو سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔ اور تبدیلی کے لیے اس ماہ مقدس کو پیش خیمہ بنائے۔
تبدیلی کے لیے بہترین موقع رمضان کریم سے بڑھ کر کوئی ہونہیں سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بندہ خدا روزے رکھ کر اور شپ بیدای کرکے اپنے آپ کو اتنا مضبوط بنالیتا ہے اور ارادوں میں اتنی قوت پید ا ہوجاتی ہے کہ علی الصبح سحری کے بعد افطار تک جتنی شدید گرمی ہو اور پیاس کی وجہ سے اس کا حلق خشک ہوچکا ہو وہ پانی پینے کا سوچتا بھی نہیں اور اسی طرح اس کو دن بھر کی جتنی تھکن و تھکاوٹ محسوس ہو وہ تراویح پڑھنے میں تساہل نہیں برتتا۔یہ ایک ایسی مشق اور روحانیت کی کیفیت ہے کہ جس کو روزہ دار ہی محسوس کرسکتا ہے اور اس جانفشانی سے حکم کی تعمیل کرنے کا صلہ وہ مالک حقیقی ہی دے سکتا ہے جس نے اس کا وعدہ کیا ہے۔ یہ ہی وہ تیاری ہے جو رب العزت اپنے بندے سے چاہتا ہے کہ جس طرح وہ رمضان المبارک میں میرے حکم اور منشا کے مطابق 30روز و شب گزارتا ہے اسی طرح وہ بقیہ زندگی بھی اسی طرح گزار لے تو میں اس کو وہ کچھ دائمی زندگی میں دونگا جس کی وہ خواہش ظاہر کرے گا۔ بس اتنا کرلے کہ جب نماز کے لیے آذان کی آواز آئے تو میری طرف دوڑ کر آجائے ۔ جب کھبی پریشانی اس کے اوپر آئے تو مجھ سے مدد مانگے۔ میرے ذکر میں ہی اطمعنان ہے۔ ہر ہر موقع پر مجھے ہی بڑا مانے اور مجھے ہی الہ سمجھے اور میرا کہنا مانے، اگر وہ طالبعلم ہے تو اسے اپنی پڑھائی پر توجہ دینی ہے ، دل لگا کر پڑھے ، اگر ملازمت پیشہ ہے تو دیانتداری سے کام کرے، اگر اس کو کسی کام کا ذمہ دار بنایا گیا ہے تو اپنی رعایا اور اپنے ماتحتوں کا خیال رکھے۔ اگر کوئی امانت رکھنے کا معاملہ ہے تو خیانت سے بچے، سچ کو مقدم رکھے جھوٹ سے نفرت کرے ۔ کسی بے بس ، لاچار اور کمزور کی بے بسی، لاچاری اورکمزوری سے فائد ہ نہ اٹھائے اور رشوت خوری سے پرہیز کرے۔ اﷲ رب العزت نے اس کو اگر مال و دولت سے نوازا ہے تو سودی کاروبار سے بچے، مسکینوں اور غریبوں کی دارسی کرے۔ ایک ایک لمحے کو قیمتی جانے اور فضولیات میں وقت ضائع نہ کرے۔ اس کے علاوہ دولت کے بل بوتے پر غرور ، تکبر، ریا کاری اور بے جا اسراف سے بچے۔ غرض اگر بندہ خدا رمضان المبارک کی مشق کے بعد اس کا اظہار اپنی آئندہ کی ذندگی میں کرلیتا ہے تو وہ کامیاب ہوگیا اور اگر اس کے برعکس تمام معاملات رمضان المبارک کے بعد ویسے ہی رہے جیسے اس سے پہلے تھے تو پھر اس کی ضمانت نہیں دی جاسکتی کہ وہ گزرے مقدس ماہ میں نیک اعمال کرکے کامیاب لوگوں کی فہرست میں شامل ہوا ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ اﷲ رب العزت کے نزدیک دن بھر بھوکا اور رات بھر جاگنے کی مشق کی ضرورت نہیں اگر اس بندے نے جھوٹ بولنا نہ چھوڑا ۔ اﷲ سبحانہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ اس ماہ مبارک میں ہم سے راضی ہوجائے اور اس کی رحمتوں کا نزول ہم سب پر ہو ۔ آمین
wazirqadri@yahoo.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •