Voice of Asia News

پاکستان میں آئی ایم ایف کی حکمرانی: محمد قیصر چوہان

یہودیوں نے پوری دُنیا پر راج کرنے کا پلان ترتیب دے رکھا ہے اس حوالے سے انہوں نے فری میسن اور ایلیو مینٹیس نامی دو انتہائی خفیہ اور طاقتور تنظیمیں بنا رکھی ہیں جو شیطانی منصوبے ون ورلڈ گورنمنٹ نامی عالمی اقتدار کے حصول کے منصوبے کے پس پردہ کام کر رہی ہیں اور اقوام متحدہ کی نکیل ان کے خفیہ ہاتھوں میں ہے، فری میسن تنظیم خدمت خلق کی آڑ میں اور ایلیو مینٹیس تنظیم روحانیت کی آڑ میں شیطانی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔ اقوام متحدہ کے دس انتہائی اہم ترین اداروں میں ان کے اہم ترین عہدوں پر 73 یہودی فائز ہیں ،اقوام متحدہ کے صرف نیو یارک والے آفس میں 22 شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں ،یہ انتہائی حساس ترین شعبے ہیں جو اس بین الا قوامی تنظیم کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔یونیسکو میں 9 شعبوں کے سربراہ یہودی ہیں،آئی ایل او کی 3 شاخیں یہودی حکام کی تحویل میں ہیں۔ایف او کے 11 شعبوں کی سربراہی یہودیوں کے پاس ہے ۔عالمی بینک میں 6 اور آئی ایم ایف میں9 انتہائی اہم اور حساس ترین شعبوں کے سربراہ وہ لوگ ہیں جن کا تعلق یہودیوں کی تنظیم فری میسن سے ہے یہ تمام عہدے یہودیوں کے پاس ہیں اور یہ لوگ ان کے ذریعے تمام بین الاقوامی امور پر اثر انداز ہو رہے ہیں اس کے علاوہ بے شمار یہودی اور ان کے ایجنٹ دُنیا کے ہر ملک اور ہر شعبے میں موجود ہیں۔یہودی لابی نے اسلام کے قلعے پاکستان کو معاشی طور پر کمزور کرنے کیلئے جو نئی بساط بچھائی ہے ہمارے حکمران اُن کے مہرے بن کر کام کر رہے ہیں ۔جس کی زندہ وجاوید مثال ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ ،رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک اور شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آربنا یا جانا شامل ہے ۔
پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ میں بعض اوقات ایسی سیاسی جماعت حکمران بن جاتی ہے جو حکومتیں بنانے اور چلانے والوں کی مرضی کے فیصلوں میں رکاوٹ بنتی ہے اس لئے اس مرتبہ اپنی مرضی کی حکومت، کابینہ، وزیر مشیر صوبوں کی حکومتیں وغیرہ بنوائی گئیں۔ بالکل اسی طرح آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں نے اپنے کام میں رکاوٹیں محسوس کیں تو اس بات کا انتظام کرنے کی ٹھانی کہ اب اپنے ہی آدمی ہر جگہ متعین کیے جائیں گے چنانچہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آرکو فارغ کروا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کے افسر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر اور شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر بنادیاگیا ہے۔ رضا باقر کی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔ ایک جانب وزیراعظم کرپشن کو مشن سمجھ کر ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی معاشی آزادی اور خود مختاری کو بھی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ اب آئی ایم ایف کو اپنی شرائط کے نفاذ میں بھی بڑی آسانی ہوگی۔ شرائط منوانا تو پہلے بھی آسان ہی تھا۔ ادھر آئی ایم ایف سے مذاکرات شروع ہوتے ادھر شرائط کا نفاذ شروع ہو جاتا تھا۔ لیکن اطلاعات یہ ہیں کہ نکالے گئے دونوں افسران آئی ایم ایف کی سخت شرائط کی راہ میں رکاوٹ تھے۔ مشیر خزانہ حفیظ شیخ بھی آئی ایم ایف کے نمائندے ہی ہیں۔اب جون تک سابق دور میں متعین کیے گئے تمام مالیاتی اداروں کے سربراہان ہٹادیئے جائیں گے۔ وزیراعظم اور مشیر خزانہ کا دعویٰ ہے کہ اچھی کارکردگی دکھانے والوں کو لایا جارہا ہے۔ ذرا حفیظ شیخ صاحب بتائیں کہ اچھی کارکردگی رضا باقر نے کب اور کہاں دکھائی۔ یہ تو ان کی جانب سے بار بار دہرائے جانے والے ان کے عزائم کی تکمیل سے وزیراعظم بار بار کہتے رہے ہیں کہ نئی ایف بی آر بنا دوں گا،چنانچہ نئی ایف بی آر لے آئے، اگر وزیراعظم یہ بتا دیں کہ وہ رضا باقر کے تقرر سے قبل ان کے بارے میں جانتے تھے تو پاکستانی قوم ان کی معلومات کی قائل ہو جائے گی، مسئلہ تو یہی ہے کہ کسی کو پتا ہی نہیں چل رہا کہ ملک کون چلا رہا ہے۔ نت نئے ماہرین کون تلاش کرکے لاتا ہے۔ ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں میں بے چینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آنے والے برسوں میں محاصل کی وصولیوں کی شرح بھی گرنے کا خدشہ ہے۔ سرکاری افسران ہر وقت خوفزدہ ہوں نیب کے چھاپے کا ڈر ہو تو وہ کوئی کام نہیں کرسکتے۔ مالیاتی اداروں پر حملے نے تو پورے معاشی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ جو اسٹیٹ بینک حکومت کے مالیاتی اقدامات پر ہر چھ ماہ بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتا تھا جس سے حکومت کے سارے دعوؤں کی نفی ہو جاتی تھی اور آئی ایم ایف کے احکامات پر عملدرآمد کا سارا ڈراما سامنے آجاتا تھا۔ اب اس پر قابو پانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ خدشہ ہے کہ اسٹیٹ بینک بھی اب ایسی رپورٹس دے گا جس میں کوئی بات واضح نہیں ہوگی۔ یوں اول تا آخر آئی ایم ایف کی حکمرانی قائم ہو جائے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ ،رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک اور شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آربنا کر پاکستان کے خزانے کی چابیاں آئی یم ایف کو پکڑا دی ہیں،اب وفاقی بجٹ آئی ایم ایف کی براہِ راست نگرانی اور سفارشات کی روشنی میں تیار ہو گاجو عوامی اُمنگوں کا آئنہ دار نہیں بلکہ آئی ایم ایف دوست بجٹ ہوگا، عمران خان کی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ مسلط ہو چکے ہیں اوراب ٹیکنوکریٹس کے ذریعے حکومت چلاکر پاکستانی عوام کی بجائے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادمیں معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی جس کے سبب پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کے شکنجے میں پھنس جائے گا۔
اس وقت ترقی پذیر ممالک 4 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف پاکستان کے بیرونی قرضے 100 ارب ڈالر ہوگئے ہیں، اور آئی ایم ایف سے عمران خان کی حکومت کے مذاکرات کامیاب رہے تو بہت جلد پاکستان کا بیرونی قرض 107 ارب ڈالر ہوجائے گا۔ مغربی ممالک اور اْن کے مالیاتی ادارے ’’تاثر‘‘ دیتے ہیں کہ وہ غریب ممالک کو قرض مہیا کرکے اْن کی معاشی مشکلات کو کم کرتے ہیں اور اْن کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قیام کا بنیادی مقصد غریب اور کمزور ممالک کو مغرب کا معاشی غلام بنانا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف دنیا کے 75 سے زیادہ ممالک کو مدتوں سے قرض دے رہے ہیں، مگر ان ممالک میں سے کسی ملک کی معیشت مضبوط نہیں۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ غریب ممالک کے قومی بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہورہا ہے، مثلاً اس وقت پاکستان کے بجٹ کا تقریباً 40فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے یا ہونے ہی والا ہے۔ پاکستان کا قرض بڑھے گا تو سود کی ادائیگی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا، اور وہ وقت آسکتا ہے کہ پاکستان کا آدھے سے زیادہ بجٹ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونے لگے۔ یہی قصہ دنیا کے دوسرے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print