Voice of Asia News

ماں! محبت و ایثار کا عظیم پیکر:محمد قیصر چوہان

 
ایک نیک بندے نے اﷲ تعالیٰ سے پوچھا کہ یا باری تعالیٰ زمینی مخلوق سے ہمیں کچھ کر دکھایا جائے، رب کائنات نے حجاب اٹھایا فرشتوں کو بلایا اور ایک مجسمہ دکھایا جسے کلیوں سے معصومیت، چاند سے ٹھنڈک، گلاب سے رنگت، غاروں سے خاموشی، آبشاروں سے موسیقی، پھول کی پتی سے نازک ، پہاڑوں سے استقامت،آفتاب سے تمازت، شہد سے حلاوت، سرو سے بلند کی مٹی لے کر بنایا گیا۔ اس کی آنکھوں میں دو دیئے روشن تھے قدم میں گھنے باغات تھے، ہاتھوں میں دعاؤں کی لکیریں تھیں، جسم سے رحمت و برکت کی خوشبو آتی تھی، دل میں رحم کا سمندر تھا۔ اﷲ تعالیٰ نے اسے ایک گوشت کا لوتھڑا عطا کیا۔ اسے مجسمے نے اسے غور سے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں محبت کے دیب جلائے اور خود اندھا ہو گیا۔اپنی بہار کے ساتھ پھول اسے دے دیئے، اپنے ہاتھوں کی دعاؤں کو اس کے سر پر سایہ بنادیا۔ اپنے قدموں کے گھنے باغات اٹھا کر اسے دے دیئے۔ اپنا سکون اسے دے کر خود بے سکون ہو گیا۔ اپنی ہنسی اس کے نام کر دی، خود خاموشی لے لی، سکھ اسے دے دیا اور خود آنسو لے لئے۔ فرشتوں نے حیرانی سے پوچھا یا باری تعالیٰ یہ کیا ماجرا ہے اﷲ تعالیٰ نے فرمایایہ ’’ماں‘‘ ہے۔
لفظ’’ ماں‘‘ ایسا فقرہ ہے جو دونوں ہونٹوں کے ملانے کے بغیر ادانہیں کیاجاسکتا لفظ ماں سنتے ہی دل و دماغ ایسے تروتازہ ہوجاتے ہیں جیسے بارش بنجر زمین کو تروتازہ کر دیتی ہے۔ماں کے بغیرگھرہمیشہ ویران نظرآتاہے۔اﷲ تعالیٰ نے ماں کو یہ درجہ عطا کیا کہ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ دی۔ ماں اولاد کی پرورش میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ماں کی محبت و ممتا دُنیامیں ایک مثال ہے،ماں کی محبت وہ گہرا سمندر ہے،جس کی گہرائی کو آج تک کوئی ناپ نہ سکا اور نہ ہی ناپ سکے گا۔ماں کی محبت ہمالیہ کا وہ پہاڑ ہے کہ جس کی بلند یوں کو کوئی آج تک چھو سکا،نہ چھو سکے گا،ماں کی محبت وہ سدا بہار پھول ہے جس پر کبھی خزاں نہیں آتی، ماں تو اولاد پر قربان ہوجایا کرتی ہیں۔ماں کے بارے میں لکھنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر ہے، ایک ایسا سمندر جس کی گہرائیوں کا اندازہ بھی کرنا انسانی عقل سے بالاتر ہے، ہر رشتے کی محبت کو الفاظ میں بیان کیا جاسکتا ہے مگر ماں کی محبت ناقابلِ بیاں ہے۔ماں کہنے کو تو تین حروف کا مجموعہ ہے لیکن اپنے اندر کل کائنات سموئے ہوئے ہے۔ ماں کی عظمت اور بڑائی کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ خداوندکریم جب انسان سے اپنی محبت کا دعوی کرتا ہے تو اس کیلئے ماں کو مثال بناتا ہے۔ ماں وہ ہستی ہے جس کی پیشانی پر نور، آنکھوں میں ٹھنڈک، الفاظ میں محبت، آغوش میں دنیا بھر کا سکون، ہاتھوں میں شفقت اور پیروں تلے جنت ہے۔ ماں وہ ہے جس کو اک نظر پیار سے دیکھ لینے سے ہی ایک حج کا ثواب مل جاتا ہے۔جس گھر میں والدین ہوں ، وہ گھراﷲ تعالیٰ کی رحمت کا آستانہ ہوتا ہے، ماں باپ کی دعاؤں سے بلائیں ٹلتی ہیں مسلمانوں کا ہر لمحہ ماں باپ کیلئے وقف کیاگیاہے حتیٰ کہ عمر بھر کی عبادت و ریاضت اور نیکیاں والدین کی رضا سے منسوب ہیں۔ایک شخص نے اپنی ماں کو کندھوں پر اُٹھا کر سات حج کروائے اور بولا آج میں نے اپنا حق ادا کر دیا تو غیب سے آواز آئی کہ ابھی تو تو نے اس ایک رات کا حق بھی ادا نہیں کیا جب تو نے سوتے میں بستر گیلا کر دیا تھا تو تیری ماں ہی تھی جس نے تجھے تو خشک جگہ پر لیٹا دیا اور خود گیلی جگہ پر لیٹ گئی۔کہتے ہیں کہ محبت کی ابتداء ا ور انتہاء کو دنیا میں ناپنے کا اگر کوئی پیمانہ ہو تو وہ صرف اور صرف ایک لفظ میں مل سکتا ہے اور وہ لفظ ہے”ماں” دنیا کے سارے رشتے ناطے ایک طرف اور ماں جیسا لازوال رشتہ ایک طرف”ماں”محبت کی وہ ابتداء ہے جو اپنی اولاد کو نو مہینے اپنے پیٹ میں پالتی ہے۔ان نو مہینوں میں وہ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دنیا میں آنے والے اس بچے کیلئے خود سراپا دعا بن جاتی ہے۔وہ بچہ جو ابھی دنیا میں آیا بھی نہیں ہوتا اس کی خاطر وہ کس کس تکلیف سے نہیں گزرتی لیکن مجال ہے کہ ایک ذرا سی شکن بھی اس کے ماتھے پر اس اولاد کیلئے آتی ہو جو آنے سے پہلے ہی اسے تکلیف میں مبتلا کردیتی ہے۔ وہ اولاد جو کبھی یہ احساس نہیں کرپاتی کہ کس کس تکلیف سے گزر کر اس کی ماں نے اسے اس مقام تک پہنچایا ہوتا ہے جس مقام پر وہ آج ہے۔
ماں وہ ہستی ہے جسکا نعم البدل نہیں، ماں ایک گھنے درخت کی مانند ہے جو مصائب کی تپتی تیز دھوپ میں اپنے تمام بچوں کو اپنی مامتا کے ٹھنڈے سائے تلے چھپا کے رکھتی ہے جیسے ایک مرغی مصیبت کے وقت اپنے تمام چوزوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتی ہے یہ سوچ کرکے اسے چاہے کچھ بھی ہوجائے مگر اسکے بچے محفوظ رہیں۔ ایسی محبت صرف ایک ماں ہی دے سکتی ہے۔ ساری عمر بھی اس کے نام کی جائے تو بھی حق ادا نہ ہو، اسکی ایک رات کا بدلہ بھی نہیں دیا جا سکتا۔جہاں ماں کا ذکر آگیا سمجھ لینا چاہیے کہ ادب کا مقام آگیا۔ اﷲ نے ماں کی ہستی کو یہ جان کر بنایا ہوگا کہ جب ایک ہارا ہوا انسان ناکامیوں کا سامنا کرکے تھک جائے تو ماں کی آغوش میں پناہ لے اور اپنے سارے رنج و الم، دْکھ اور غم ماں کو کہہ سنائے اور جب ماں پیار سے اس کی پیشانی چومے تو اس کی تمام پریشانیاں اور اندیشے ختم ہوجائیں۔ ماں اپنے اندر شفقت و رحمت کا ایک سمندر لیے ہوئے ہے جیسے ہی اپنی اولاد کو پریشانی میں مبتلا دیکھتی ہے ماں کا دل تڑپ اٹھتا ہے اسکے اندر موجود محبت کے سمندر کی لہریں ٹھاٹھیں مارنے لگتی ہیں اور تمام دکھ بہا کر دور بہت دور لے جاتی ہیں جس سے اولاد میں نئے سرے سے جینے کی امنگ پیدا ہوتی ہے۔ماں ایک مہتاب کی مانند ہے۔زمین پر خدا کی محبت کا چلتا پھرتا روپ ماں ہوتی ہے۔ماں کی ڈانٹ میں بھی پیار اور بھلائی چھپی ہوتی ہے وہ کبھی دل سے نہیں ڈانٹتی۔ماں کبھی کسی کو دل سے بددعا نہیں دیتی جس نے ماں کا دل دکھایا گویا وہ دنیا میں نامراد آیا اور نامرادہی آخرت کو لوٹا۔اس ہستی کا مقام کل کائنات سے بھی بڑا ہے۔دنیا جہان کی وسعتیں اس ہستی میں پوشیدہ ہیں۔
قرآن میں اﷲ رب العالمین نے بھی اپنی بندگی کے ساتھ ساتھ والدین کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم قرار فرمایا اور اس اطاعت کی حدیث کی روشنی میں ماں کی فرمانبرداری کے عوض جنت کی لازوال نعمتوں کا وعدہ فرمایا گیا ہے کیونکہ ماں کی ممتا اور محبت میں کوئی غرض پوشیدہ نہیں ہوتی، ماں اپنی وفاؤں کا بدلہ نہیں چاہتی اور یہی وجہ ہے کہ ممتا جیسی نعمت کی نہ مثال ہے اور نہ ہی کوئی نظیر ہے اورنہ ہی اس کا کوئی نعم البدل ہے ماں اولاد کے لئے محبت ،چاہت، راحت اور پیار ہے، ماں کی ممتا میں خلوص ہے اسے کبھی فنا نہیں کیا جاسکتا، ماں کی محبت کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے ،ماں کی ممتا مرکز تجلیات اور سر چشمہ حیات ہے ماں صداقت کا پیکرہے جس میں کوئی بناوٹ نہیں۔ماں اپنی تخلیق پر کتنی نازاں ہوتی ہے وہ اپنی اولاد کے دکھ پر کیسے تڑپ جاتی ہے۔اے ماں تیری ہستی باپ سے بھی زیادہ عظیم ہے ماں تیرے پاؤں تلے جنت ہے ، اے ماں تیرا پیارچاند کی طرح شفاف ہے اے ماں تیری دعائیں ہمارے لئے زندگی کا کل سرمایہ ہیں، اے ماں تو گھر کی روشنی ہے اور ہمارے لئے جنت کا راستہ ہے۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں خدا کی محبت کا دوسرا روپ ماں ہے۔انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو ایک ماں ہی ہوتی ہے جو اسے سب سے زیادہ اپنایت دیتی ہے۔ماں ہی وہ عظیم ہستی ہے۔جس کے قدموں تلے اﷲ نے جنت رکھی ہے۔ ہزاروں دکھوں کو سمونے کا ہنر ماں کے علاوہ کوئی اور نہیں رکھ سکتا۔ماں کی محبت وہ واحد اور سچی محبت ہے جس میں کوئی ریاکاری ،دکھاوا،بناوٹ نہیں ہوتی۔ گویا ماں کے بارے میں بیان کرنا سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مانند ہے۔اسلام نے خونی رشتوں کے احترام بارے جو تعلیمات دی ہیں ان کی اہمیت سے دنیا کا کوئی معاشرہ انکار نہیں کر سکتا۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک اور ان کے حقوق کی ادائیگی کیلئے قرآن حکیم اور احادیث نبوی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں واضح احکامات ہیں۔ ماں کے حقوق کی ادائیگی کو اسلام نے خصوصی اہمیت دی ہے اور بندے کیلئے اﷲ کی محبت کو سمجھانے کیلئے بھی اس نے ماں کی محبت کی مثال دی ہے کہ وہ ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرتا ہے۔ جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے کا مطلب ہے کہ ساری عبادتیں مل کر بھی ماں کی خدمت کے برابر نہیں ہو سکتیں اس لئے مرتے دم تک اس حق کی ادائیگی میں ہمہ وقت مستعد رہنا چاہیے اس سے ہماری زندگیوں میں پایا جانے والا بگاڑ اور بے سکونی کا خاتمہ ہو گا۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print