Voice of Asia News

بدنصیبی کا نوحہ: شوکت علی چوہدری

وطن عزیز میں ایک طرف تو آئی ایم ایف والے پاکستانی حکمرانوں سے پاکستان کو قرض دینے اور اس قرضے کی واپسی کی شرائط طے کرنے میں مصروف ہیں اور سارا پاکستان اس بات کا شدت سے منتظر ہے کہ آئی ایم ایف کی قرض دینے کی شرائط والی بلی جلدتھیلے سے باہر آئے اور پتہ چلے کہ اس قرض کے عوض پاکستانی قوم کس حد تک ان سامراجی ساہوکاروں کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے ،ویسے تو جنرل ایوب خان صدر پاکستان کے دور ہی سے پاکستان پر سامراجی قرضوں اور نام نہاد امداد کے نام پر قرضوں کا ایسا بوجھ لاد دیا گیا ہے کہ اس کے بعد پھر قومی خود کفالت ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ہم سے روٹھ گی اور ہم زندگی کے ہر شعبے کی ترقی کے نام پر کبھی ورلڈ بنک۔کبھی آئی ایم ایف اور کبھی اسلامک بنک اور کبھی کنشورشیم سے قرض حاصل کر کے قرضوں کے بھنور میں پھنستے ہی چلے گے اور اس ملک کے غریب عوام کی خون پسینے کی کمائی کو ان ساہوکاروں کے قرض اور سود کی واپسی کے نام پر ان کے حوالے کرتے چلے آرہے ہیں۔اسے پاکستانی عوام کی بد قسمتی ہی کہنا چاہیے کہ یہ قوم خوش قسمتی سے بدقسمتی کی طرف ہی گی ہے۔قیام پاکستان کے بعد گو کہ اس ملک کے آمدنی کے ذرائع بہت زیادہ نہی تھے اور ملک میں صنعت بھی نہ ہونے کے برابر تھی لیکن اس کے باوجود اس نوزائیدہ ملک نے جرمنی جیسے ملک کو قرض دیا۔گوادر جیسی پورٹ جس پر آج ہر پاکستانی فخر کرتا اور ہر حکران اسے گیم چینجر کہتا ہے اسے کروڑوں روپے نقد ادا کر کے اومان سے خریدا۔ PIA جیسا دنیا کا بہتریں ادارہ قائم کیا اور بہت سے ممالک کی ائیر لائنز بنانے میں ایم کردار ادا کیا۔ ٹاٹ سکولوں پر بیٹھ کر پڑھنے والوں نے اس ملک کا نام ہر شعبے میں روشن کیا۔آج نہ وہ قابل فخر ایر لائن ہے اور نہ ہی زندگی کا کوئی قابل ذکر شعبہ ہے جس پر ہم فخر کر سکیں۔ہر شعبہ روبہ زوال ہے اور ہر حکمران سامراجی ممالک کے سامنے بھکاری۔پاکستان کے پاس دنیا کی بہترین زرعی زمین اور نہری نظام موجود ہونے کے باوجود ہم زراعت میں خود کفالت تو دور کی بات ہے زمینداروں کو ملاوٹ سے پاک زرعی ادویات اور کھاد تک سپلائی کرنے کا انتظام نہیں کر سکے۔ہمارے حکمرانوں نے کھربوں روپے کا میٹھا پانی جو اس ملک کے لیے قدرت کا انمول تحفہ تھا ضائع کر دیا۔پاکستانی افرادی قوت جس کے بل بوتے پر پورپ اور مشرق وسطی نے ترقی کی وہ منازل طے کی ہیں کہ عقل دھنگ رہ جاتی ہے۔ہمارے حکمران اسے آج تک باعزت روزگار تک نہ دے سکے۔ اور ان دیار غیر میں کام کرنے والوں کی اربوں ڈالر سالانہ کی آمدنی کو بھی انہوں نے سامان تعیش اور مہنگی گاڑیوں اور عالی شان رہائش گاہوں پر ہی خرچ کر کے ضائع کیا ہے۔آج تک محنت کشوں کو اپنی ہی اعلان کردہ کم سے کم ماہوار تنخواہ تک ادا نہ کروا سکے جو 21 وین صدی میں بھی 16000 روپے ماہوار ہے۔آے روز غریب محنت کش فیکٹریوں میں محض اس وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں کہ ان سے کام لینے والے ان کی زندگیوں کی حفاظت کا سامان تک ان کو مہیا نہیں کرتے۔جب کہ اس سلسلے میں ہر ضلعی ہیڈ کواٹر پر محکمہ محنت موجود ہے اور ہر صوبہ میں سیکریٹری لیبر اور وزیر محنت بھی ہے۔عوام علاج کے لیے ہسپتالوں میں مارے مارے پھرتے ہیں کہیں ڈاکٹر نہیں ہیں اور کہیں بستر اور کہیں دوائیاں نایاب،کروڑوں بچے جن کو سکولوں میں ہونا چاہیے وہ سڑکوں اور گلیوں میں غل غپاڑہ مچاتے پھر رہے ہیں اور حکمران فخریہ یہ بات کہتے ہیں کہ پاکستان نوجوان نسل کا ملک ہے۔بلاشبہ یہ نوجوان نسل کا ملک ہے لیکن ایسی نوجوان نسل جس کے مقدر میں بھوک افلاس بے روزگاری اور در در کی ٹھوکریں ہیں۔ یہاں جو بھی حکمران برسر اقتدار آتا ہے وہ اقتدار میں آنے سے پہلے جو خواب اس نیم خواندہ اور جاگیرداروں اور قبائلی سرداروں کے ساتھ ساتھ دیگر زور آوروں کے ستم تلے کراہنے والوں کو دکھاتا ہے اس میں ا حکمران کے پاس ہر بدحالی،ہر بیماری اور مسلے کا حل موجود ہوتا ہے لیکن جیسے ہی وہ اقتدار کے سنگھاسن پر براجمان ہوتا ہے تو سارا منظر کسی ڈرامے کے سین کی طرح بدل جاتا ہے اور ہر حکمران اس ملک کی معاشی بدحالی کا نوحہ پڑھ کر اس بدنصیب قوم کو لفظوں کے ایسے ایسے چکر دیتا ہے کہ اﷲ مان۔مملکت خداداد پاکستان کے موجودہ حکمران بھی اسی طمطراق اور دعووں کے ساتھ برسر اقتدار آے تھے کہ بس یہ ہم آے یہ اس ملک کے عوام کا مقدر بدلا اور دیکھنا آسمان سے ہن کیسے برسے گا۔بالکل ٹھیک آسمان سے ہن تو برسے گا لیکن یہ ہن زہریلی بارش کی طرح برسے گا جو اس قوم کے بوسیدہ لباس کے ساتھ ساتھ اس کے جسم و روح کو بھی پگھلا کے رکھ دے گی۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •