Voice of Asia News

پاکستان کا تعلیمی نظام ،جنوبی پنجاب اورحکومت کی ترجیحات:سیف اعوان

اس میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی ترقی کا انحصار تعلیم و تربیت پر ہوتا ہے۔اس لیے ہر دور میں ہر قوم تعلیم کی ترقی کیلئے کوشاں رہی ہے۔ماضی میں علم و فنون کی ترقی کیلئے مفکرین نے جو محنت کی اس کے ثمرات آج بھی دنیا میں موجود ہیں اور دنیا بھر کے قومیں ان مفکرین کے مشاہدات سے استفادہ ہو رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ماضی میں ان درسگاہوں کو ایک مقام حاصل رہا ہے۔اس کی بنیاد وجہ یہ تھی کہ یہ دوسگاہیں نصاب سازی میں آزاد اور خود مختار تھی اور اساتذہ بھی دل و جان سے اپنے فرائض سر انجام دیتے تھے۔ان تعلیمی اداروں کو کبھی مالی مسائل کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑتا تھا۔حکومت ان اداروں میں مداخلت کرنے کی بجائے ان کے ساتھ مکمل تعاون کرتی تھی۔
پاکستان میں اس وقت جو تعلیم کی صورتحال ہے اس کا مشاہدہ میں بین الاقوامی اداروں کے اعدادوشمار سے بآسانی لگا سکتے ہیں ۔پاکستان میں شر ح خونادگی بہت کم ہے حتیٰ کہ پاکستان میں شرح خواندگی انڈونیشیا،بھارت،سری لنکا،ایران ،ترکی جیسے ممالک سے بھی کم ہے۔ہم پاکستان بننے سے لے کر آج تک قوم کو صحیح نظام تعلیم دے ہی نہیں سکے۔ایسا نظام تعلیم کی بدولت ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔پاکستان کو موجودہ تعلیمی نظام کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے۔جن کی وجہ سے تعلیمی شعبہ بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
یونیسکو کی 2018کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے سب سے بڑے صوبے صوبے پنجاب میں اس وقت پانچ اشاریہ تین ملین بچیاں سکول کی بنیاد تعلیم سے محروم ہیں۔اگر ہم بات کریں پنجاب میں تعلیمی سہولیات کی تو پنجاب کے محکمہ تعلیم کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 25سو سکول بجلی ،203 پانی اور 190 ٹائلٹ سے محروم ہیں۔جبکہ 690سکولوں کی چار دیواری تک نہیں ہے۔ پنجاب کے 203سرکاری سکولوں میں پینے کے صاف پانی کی سہولیات تک مہیا نہیں ہے۔پنجاب کے چالیس فیصد سکولوں میں سیکیورٹی گاڈ کے پاس اسلحہ تک نہیں۔جبکہ جنوبی پنجاب میں 23فیصد بچیوں نے سکول کا چہرہ تک نہیں دیکھا،77فیصد لڑکیوں نے پرائمری سے آگے تعلیم حاصل نہیں کی اور 78.8فیصد لڑگیاں غربت کی وجہ سے سکول کی تعلیم ادھوری چھوڑ دیتی ہیں،48.4فیصد لڑکیاں مذہبی انتہاپسندی،لاقانونیت اور سیکیورٹی مسائل کی وجہ سے اپنی تعلیم چھوڑنے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔
جنوبی پنجاب میں لڑکیوں کی تعلیم کیلئے خصوصی پر کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم امنگ سول سوسائٹی آر گنائزیشن کے مطابق جنوبی پنجاب میں بچیوں کی تعلیمی صورتحال انتہائی افسوسناک حد تک کم ہے۔لڑکیوں کیلئے معیاری اور بنیادی سکینڈری تعلیم کو یقینی بنایا جائے۔بچیوں کے سرکاری سکولوں میں کلاس رومز،واش رومز،کھیل کے میدان ،پینے کا صاف پانی سمیت تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔ آئین کا آرٹیکل A،25ریاست کو پابند کرتا ہے کہ پانچ سال سے سولہ سال تک کے بچوں کا مفت تعلیم لازمی دی جائے۔تعلیم کا معیار مزید بہتر کیا جائے اور تعلیم کو بجٹ بڑھایا جائے۔جنوبی پنجاب کی تعلیم کیلئے جو بجٹ ہر سال مختص کیا جاتا ہے اس میں 58فیصد بجٹ ہر سال استعمال ہی نہیں ہوتا۔اس کیلئے حکومت کو چاہیے کہ جنوبی پنجاب کے تمام متعلقہ سٹیک ہولڈر سے مشاورت کی جائے تاکہ تعلیم کے نظام کو بہتر کیا جا سکے اور بچیوں کی بنیادی تعلیم کے مسائل حل ہو سکیں۔جنوبی پنجاب کے 14اضلاع بھکر،ملتان،بہاولنگر،خانیوال،رحیم یار خان،ڈیرہ غازی خان،لیہ،راجن پور،وہاڑی،مظفر گڑھ،لودھراں،بہاولپور،خوشاب اورمیانوالی شامل ہیں۔ان اضلاع سے ہر مرتبہ ایسے افراد الیکشن میں کامیاب ہوتے ہیں تو حکومت کا حصہ بنتے ہیں ۔جنوبی پنجاب سے صدر پاکستان،وزیر اعظم پاکستان،گورنر پنجاب اور وفاقی و صوبائی وزراء بھی رہ چکے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ لوگ بچیوں کی تعلیم کی طرف کوئی خاطو خواہ توجہ نہیں دیتے ۔ ان خاندانوں کے بچے اپنی بنیادی تعلیم کا آغاز ایچی سن کالج سے کرتے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیم ہاورڈیونیورسٹی،آکسفورڈ یا لندن سکول آف اکنامکس سے حاصل کرتے ہیں جبکہ غریبوں کے بچوں کیلئے اپنے علاقوں میں سکول تک نہیں بن اسکتے اگر کوئی سکول موجود ہیں تو وہاں چاردیواری ،بجلی،فرنیچر جیسی بنیادی سہولیات سرے سے ہی نہیں ہونگی۔جنوبی پنجاب کی بچیوں کی زیادہ سکول تک نہ پہنچنے کی کچھ وجوہات سامنے ہیں ان میں اکثریت بچیوں کو سکول ہی جانے کی اجازت نہیں ،مہنگی تعلیم ،سکولوں کی خستہ حال عمارتیں ،اساتذہ کی کم تعداد ،غربت بے روزگاری،سکولز فنڈز کرپشن کی نظر،تعلیم پر پیسے کو ترجیحی،سیکیورٹی کے مسائل جس کی وجہ سے والدین اپنی بچیاں سکولوں میں غیر محفوظ تصور کرتے ہیں ۔جبکہ پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار کے حلقے میں بچیوں کے 26سکولز ہیں یہ سکولز بھی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔اب موجودہ حکومت سے ہی توقع کی جارہی ہے کہ وہ جنوبی پنجاب میں تعلیمی نظام میں بہتری لاسکتی ہے کیونکہ وزیر اعظم عمران خان بار بار اپنی تقریروں میں تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بہتری لانے کی خواہشات کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں ۔اس وقت جنوبی پنجاب سے شاہ محمود قریشی وزیر خارجہ،عثمان بزدار وزیر اعلیٰ پنجاب،خسرو بختیار وفاقی وزیر ،طارق بشیر چیمہ وفاقی وزیر ،مخدوم ہاشم جواں وزیر خزانہ پنجاب،دوست محمد مزاری ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی ،سبطین خان ،محمد اختر،سمیع اﷲ چوہدری،شوکت علی لالیکا،جہانزیب کچھی،حسنین بہادر دریشک،محسن لغاری صوبائی وزیر پنجاب ہیں جبکہ امیر محمد خان،جاوید اختر،خرم سہیل لغاری اور سید رفاقت علی گیلانی وزیر اعلیٰ پنجاب کے سپیشل اسٹنٹ ہیں۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print