Voice of Asia News

شوپیاں میں شہید 2نوجوان سپرد خاک،،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 7 نوجوانوں سمیت متعدد زخمی

 
سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے دو نوجوانوں کو ان کے آبائی علاقوں میں سپرد خاک کر دیا گیا ،عوام سراپا احتجاج،فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں 7 نوجوانوں سمیت کئی زخمی ،بھارتی فوج کی جانب سے جاری شہداء کی شناخت غلط نکلی ،مرنے والے طارق اور بشارت نہیں عادل بشیر وانی اور جاوید بٹ نکلے،شہداء کی یاد میں وادی میں تعزیتی ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے،دکانیں ،بازار اور تعلیمی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں دونوجوانوں کو مجاہد قرار دے کر شہید کر دیا تھا ۔یہ واقعہ گاؤں سیتا پورہ میں پیش آیا تھا۔بھارتی فوج نے ابتدائی طور پر مارے جانے والوں کی شناخت طارق احمد اور بشارت کے طور پر جاری کی تھی اور بتایا گیا تھا کہ طارق سابق پولیس اہلکار ہے جو اسلحہ لے کر فرار ہو گیا تھا اور لشکر طیبہ میں شامل ہو گیا تھا۔بعد میں شہداء کی شناخت عادل بشیر وانی ساکنہ واری پورہ دمحال ہانجی پورہ کولگام اور جاوید احمد بٹ ساکنہ ریڈونی قیموہ کولگام کے طور کی گئی اور لوگوں کے احتجاج کے بعد میتیں ورثاء کے سپرد کی گئیں۔لاشیں آبائی علاقوں کو پہنچیں تو کہرام مچ گیا اس موقع پر رقت آمیز مناظر دیکھے گئے۔ بعد میں شہداء کو ان کے آبائی قبرستانوں میں سپرد خاک کیا گیا۔شہداء کی نماز جنازہ میں لوگوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔لوگوں کی تعداد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ شہدا کی نماز جنازہ کئی بار ادا کرنا پڑی ۔بھارتی فورسز نے شہداء کا تعلق لشکر طیبہ سے قرار دیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ عادل بشیر صرف 9روز قبل مجاہدین کی صفوں میں شامل ہو ا تھا جبکہ جاوید بٹ 2017سے لشکر طیبہ سے وابستہ تھا۔اس دوران ۔اس دوران مسلح جھڑپ کے مقام پر نوجوانوں اور فورسز کے درمیان پرتشدد جھڑپیں شروع ہوئیں جو دیر گئے تک جاری رہیں۔اس دوران فورسز نے پیلٹ اور ٹیئرگیس شیلنگ کی جس کی زد میں آکر7نوجوان زخمی ہوگئے۔زخمیوں میں 3 شدید زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا۔ان میں سمیر احمد شاہ ساکن اقبال پورہ شوپیان ،وسیم احمد ملہ ساکن ریشی پورہ شوپیان اور شبیر احمد بٹ ساکن چک ڑولان شوپیان شامل ہیں جن کی آنکھوں میں پیلٹ لگے ہیں۔شہداء کی تدفین کے بعد لوگوں نے ایک بار پھر سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں کو پتھراؤ سے نشانہ بنایا۔اس دوران قابض اہلکاروں نے آنسو گیس ،لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔دریں اثناء مزاحمتی خیمے نے بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے نوجوانوں کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا ہے اور ورثاء کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے ،شہدا کی یاد میں وادی کے مختلف علاقوں میں تعزیتی ہڑتال رہی اور لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے۔اس دوران شورش زدہ علاقوں میں دکانیں ،بازار اور تعلیمی ادارے بند جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔دریں اثناء سرحدی ضلع کپوارہ کے مڑھل سیکٹر میں زیر زمین بچھائی گئی بارودی سرنگ کے ایک دھماکہ میں دو فوجی اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ اس سے قبل اسی سکیٹر کے کیتھاوالی علاقہ میں بھی ایسے ہی ایک واقعہ میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ ذرائع سے معلوم ہوا کہ ہفتہ کی شام کو مڑھل سیکٹر کے حد متارکہ پر اس وقت ایک زور دار دھماکہ جب فوجی اہلکار وں کا پیر ڈیوٹی کے دوران زیر زمین بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا اور زور دار دھماکہ میں دو اہلکار زخمی ہوئے جن کی شناخت حوالدار جئے پال سنگھ اور نائک وکرم مینی کے بطور ہوئی اور یہ دونو ں 56راشٹریہ ائفلز سے وابسطہ ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ زخمی اہلکارو ں کو فوری طور درگمولہ میں واقع 168فوجی اسپتال میں علاج و معالجہ کے لئے دا خل کیا گیا جہاں ان کو سرینگر کے بادامی با غ فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔اس سے قبل مڑھل سیکٹر میں ہی کیتھا والی علاقہ میں زیر زمین بچھائی گئی سرنگ دھماکہ میں دو اہلکار زخمی ہوئے تھے۔مقامی لوگوں کے مطابق یہ بارودی سرنگ بھارتی فوج کی جانب سے ممکنہ دراندازی روکنے کیلئے بچھائی گئی تھی۔ادھر ترال کے پستونہ اوررٹھسونہ علاقوں میں فورسز نے چھاپوں کے دوران2درجن کی قریب نوجوانوں کو گرفتار جبکہ متعدد کو آری پل پولیس چوکی پرپیش ہونے کی ہدایت دی ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا ہے۔اس دوران اندھادھندگرفتاریوں سے پچنے کے لئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد رپوش ہوئی ہے۔ادھر ایس ایس پی اونتی پورہ طاہر سلیم نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ مذکورہ نوجوانوں نے الیکشن اور رٹھسونہ میں محاصرے کے دوران فورسز پر سنگ باری کی تھی۔جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال کے پستونہ علاقے میں آری پل پولیس چوکی سے وابستہ فورسز اہلکاروں نے علاقے سے گزشتہ روز24کے قریب نوجوانوں کو شبانہ چھاپوں کے دوران گرفتار کر لیا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایامذکورہ نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعداب چوکی ا?فسر نے مزید نوجوانوں کوآری پل بلایا ہے جس کے نتیجے میں متعدد نوجوان روپوش ہوئے۔گرفتار شدہ نوجوانوں کی شناخت ،شاہد حسین ،اویس اشرف،زبیر احمد،عادل بشیر،زبیر احمد ،عمران بشیر،عمر بشیر وغیرہ کے طور کی گئی ہے۔ادھر قصبہ ترال کے ہی رٹھوسنہ اور علاقے سے فورسز نے شبانہ چھاپوں کے دوران 3نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔تاہم گرفتار شدہ نوجوانوں کے اکثر رشتہ داروں نے بتایا ان کے بچے بے قصور ہیں اس لئے نہیں رہا کیا جائے۔ایس ایس پی اونتی پورہ طاہر سلیم خان نے گرفتاریوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا’’ کہ پستونہ والوں نے6مئی کو الیکشن کے روزواگڈ کے مقام پر فورسز پر پتھراو کیا جبکہ رٹھسونہ والوں نے فورسز پر محاصرے کے دوران پتھراو کیا ہے جس کے نتیجے میں انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے ‘‘۔دریں اثناء سنجواں ملٹری اسٹیشن کے قریب ایک نوجوان کو مشکوک نقل و حرکت میں پاتے ہوئے حراست میں لے لیاگیا۔جموں میں مقیم دفاعی ترجمان نے بتایاکہ ایک نوجوان کو سنجواں ملٹری اسٹیشن ،آرمی گیٹ کے بالکل نزدیک مشکوک نقل و حرکت میں پایاگیا اوراس کی حرکات کی ڈیوٹی پر تعینات فوجی اہلکاروں نے باریکی سے نگرانی کی۔انہوں نے بتایاکہ اس کے بعد فوجی اہلکار وں نے نوجوان سے شناختی کارڈ طلب کیا تاہم وہ اپنی شناخت ثابت کرنے میں ناکام ہوا جس کے ساتھ ہی اسے پولیس تھانہ چھنی ہمت کی پولیس ٹیم کے حوالے کیاگیا اور اس سلسلے میں مزید تحقیقات جاری ہے۔دریں اثناء ذرائع نے بتایاکہ اس حوالے پولیس نے دو نوجوانوں کو گرفتار کیا تاہم تحقیقات کے دوران کچھ بھی ثابت نہیں ہوا۔پولیس کے ایک افسر نے بتایاکہ دونوں نوجوانوں کا تعلق رام بن ضلع سے ہے اور ان سے تفصیل سے پوچھ تاچھ کی گئی لیکن کچھ ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایاکہ یہ نوجوان جموں میں مزدوری کرتے ہیں۔پولیس نے مزید بتایاکہ ان کے خلاف کسی طرح کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ ثابت نہیں ہوا تاہم انہیں حراست میں رکھاگیاہے اور پولیس اس بات کی وجہ معلوم کرنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ کیوں ملٹری تنصیب کے نزدیک گئے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فروری 2018کو جنگجوؤں نے ملٹری اسٹیشن سنجواں پر حملہ کیاتھا جس کے نتیجہ میں چھ اہلکار اور ایک عام شہری مارا گیا جبکہ تصادم میں چار جنگجو بھی مارے گئے۔
وائس آف ایشیا13مئی2019 خبر نمبر1

image_pdfimage_print