Voice of Asia News

قومی اسمبلی میں فاٹا کی پارلیمانی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور

اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) حکومت اور اپوزیشن ایک پیج پر آگئے، فاٹا کی قومی اسمبلی اور خیبرپختونخوا اسمبلی میں نشستوں سے متعلق 26ویں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلیا گیا۔پیر کو اسپیکر اسد قیصر کی صدارت میں قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں قائد ایوان وزیر اعظم عمران خان بھی شریک ہوئے، دوران اجلاس فاٹا کی قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے سے متعلق 26ویں آئینی ترمیمی بل، جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے آئینی ترمیم بل کی تحریک اور دیگر معاملات زیر بحث آئے۔ اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری لی گئی ، اس موقع پر کسی بھی رکن نے ترمیم کی مخالفت نہیں کی اور یوں آئینی ترمیم متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ قبائلی علاقوں سے منتخب ہونے والے آزاد امیدوار محسن داوڑ نے آئینی ترمیمی بل 2019 ایوان میں زیر غور لانے کی تحریک پیش تھی، جس پر ایوان نے تحریک کی منظوری دی اور بل پر بحث کا آغاز ہوا تھا۔26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد فاٹا کی قومی اسمبلی میں نشستیں 6 سے بڑھ کر 12 اور خیبر پختونخوا اسمبلی میں 16 سے بڑھ کر 24 ہوجائیں گی۔ 26 ویں آئینی ترمیمی بل پر بحث کا آغاز 10 مئی کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہوا تھا۔ فاٹا کی قومی و صوبائی نشستیں بڑھانے کے حوالے سے ترمیمی بل کو 278 ووٹوں سے منظور کیا گیا جب کہ کسی بھی رکن نے بل کی مخالفت نہیں کی۔ قومی اسمبلی سے ترمیمی بل منظور ہونے کے بعد سینیٹ میں پیش کیا جائے گا جس کے بعد صدر مملکت کو منظوری کے لیے بھیجا جائے گا۔اجلاس میں بل کی شق وار منظوری لی گئی ،بعد ازاں 26ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کا عمل ہوا، جس میں بل کی دوسری شق میں 2 ترامیم منظور کی گئی، ایک ترمیم رکن اسمبلی محسن داوڑ اور دوسری وفاقی وزیر نور الحق قادری نے پیش کی۔دوسری شق میں ترمیم کے حق میں 281 ووٹ آئے جبکہ کسی رکن اسمبلی نے اس کی مخالفت میں ووٹ نہیں دیا، اسی طرح بل کی تیسری شق میں بھی ترمیم بھی 2 تہائی اکثریت سے منظور ہوگئی۔قومی اسمبلی میں خطاب کے دوران وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے ساتھ پوری قوم کھڑی ہے، ساری جماعتیں فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے متفق ہیں، فاٹا میں جتنا نقصان ہوا، کے پی اس کو پورا نہیں کرسکتا۔وزیراعظم نے کہا کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی بہت بڑا حادثہ تھا، مشرقی پاکستان کے لوگوں کو نمائندگی نہیں دی گئی تاہم کسی کو احساس محرومی نہیں ہوناچاہیے کہ پاکستان ان کو حق نہیں دے رہا، جب کوئی علاقہ پیچھے رہ جائے تو ہم سب کو مل کر اٹھانا چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ فاٹا کے لوگ بہت مشکل سے گزرے ہیں لیکن اب ان کے عوام کی آواز ہر جگہ سنی جائے گی، خوشی ہے کہ تمام جماعتوں کا اتفاق ہے کہ فاٹا کو مرکزی دھارے میں لانے کے لیے ان کی نشستوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے تاکہ ان کو نمائندگی ملے۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ میں یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام صوبے فاٹا کی ترقی کے لیے اپنے حصے سے 3 فیصد دیں، اس پر صوبوں کو خدشات ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ اس لیے ضروری ہے کہ فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ سے جو تباہی ہوئی ہے اسے خیبرپخوتونخوا کبھی اپنے ترقیاتی فنڈز سے مکمل نہیں کرسکتا۔عمران خان کا کہنا تھا کہ قبائلی علاقوں کے لوگوں کی قربانیوں کا احساس ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ انہیں اوپر اٹھائیں۔ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم فاٹا کے بل پر بات کر رہے ہیں لیکن حیرانی کی بات ہے کہ ایک اور ترمیمی بل تمام رولز کو معطل کرکے لایا گیا جبکہ یہ معاملہ کمیٹی کو سپرد کردیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور کچھ اراکین خود اس بل کی مخالفت کر رہے ہیں لیکن اسے فاٹا بل پر ترجیح دی گئی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ فاٹا بل ضروری تھا، یہ پہلا موقع ہے کہ ایک نجی رکن کے بل سے آئینی ترمیم ہورہی ہے، یہ تاریخی موقع ہے کیونکہ ایک ایسے ایوان میں جہاں قائد ایوان نہیں آتے اور عوام کے مسائل کی بات نہیں کی جاتی وہاں آج فاٹا کے عوام کو حق دینے لیے ایوان متفق ہے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یہ اس ایوان کی کامیابی تھی کہ ایک حکومت کے آخری دنوں میں فاٹا کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق ایسا بل پاس کیا گیا جو ملک کی ضرورت تھی۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم اس معاملے پر اتفاق کرسکتے ہیں تو معیشت، ملکی مفاد اور احتساب پر اتفاق نہیں کرسکتے؟، کیا انہیں ملک کے مسائل نظر نہیں آتے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو سیکیورٹی رسک، را کا ایجنٹ اور دہشت گرد کہتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے لیکن عوام کو اپنی رائے کا حق ہے اور انہیں اس ایوان میں بولنے کے لیے زبان ملنی چاہیے۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ اس بل کے لیے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی کوششوں کا اعتراف ضروری ہے، انہوں نے انضمام کے بل کے لیے اتفاق رائے کی کوشش کی اور جب ایسا نہیں ہوا تو انہوں نے کہا کہ ہم حکومت داؤ پر لگا دیں گے لیکن یہ فاٹا کے عوام کی ضرورت ہے اور اسے پاس کرنا ضروری ہے۔انھوں نے فاٹا کو حقوق دینے کیلئے ایوان متفق ہے، کریڈٹ کسی ایک کو نہیں لینا چاہیئے، اس کے سب مستحق ہیں۔ بل کیلئے نوازشریف کی کاوشوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔ تمام رولز کو پس پشت ڈال کر یہ بل لایا گیا، جنوبی پنجاب بل کوفاٹا پرفوقیت دی گئی۔ن لیگی دور کے سابق وزیراعظم شاہد خاقان نے کہا کہ ایوان میں 9 ماہ میں کسی مسئلے پر بات نہیں ہوئی۔ فیصلہ کیا گیا 10 سال کیلئے 100 ارب فاٹا کو دیا جائے گا، پیسوں کے بغیر فاٹا کو حق نہیں دے سکتے۔ پیسہ کہاں سے ا ٓئے گا، یہ ابھی طے کرنا ہے۔ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ فاٹا انضمام کا اثر پورے ملک پر ہو گا۔قبل ازیں اجلاس میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے رکن اسمبلی علی اعوان نے کہا کہ اسلام آباد کے مکینوں کو بجلی اور گیس کے نئے کنکشنز اور میٹروں پر پابندی کی وجہ سے مشکلات درپیش ہیں۔اس پر وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے بتایا کہ او جی ڈی سی ایل نے پہلے کوٹہ 3 لاکھ کا رکھا تھا جس پر دوبارہ اپیل کے بعد اسے 6 لاکھ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔وزیر توانائی کا کہنا تھا کہ وزارت توانائی اس چیز کی حمایت کرتی ہے کہ نئے کنکشنز دینے چاہیے۔اراکین اسمبلی کے خطاب سے قبل اجلاس کے آغاز میں گوادر میں فائیو اسٹار ہوٹل پر دہشت گردوں کے حملے میں شہید ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جبکہ اس موقع پر قومی اسمبلی کے اجلاس کے میں توسیع کرنے سے متعلق ایک مختصر اجلاس ہوا، جس میں اسمبلی اجلاس 24 مئی تک جاری رہنے پر اتفاق کیا گیا۔اجلاس میں وفاقی وزیر پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی، نورالحق قادری کے ساتھ ساتھ اپوزیشن اراکین خورشید شاہ، راجا پرویز اشرف، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف، احسن اقبال، رانا تنویر و دیگر شریک ہوئے، اس دوران ایوان کے ماحول کو سازگار رکھنے اور قانون سازی کے لیے اہم بِلوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ایوان کے ماحول کو پْرامن اور خوش گوار رکھنا حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ ذمہ داری ہے، موثرقانون سازی کے ذریعے عوامی مسائل کو حل اور ایوان کے وقار کو بلند کیا جا سکتا ہے۔قومی اسمبلی کے اسپیکر کا کہنا تھا کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے ایوان میں نمائندگی رکھنے والی جماعتوں میں اتفاقِ رائے ضروری ہے، اس وقت ملک کو جن مسائل کا سامنا ہے ان پر قابو پانے کے لیے تمام سیاسی قوتوں کو کردار ادا کرنا ہو گا۔قومی اسمبلی کے اجلاس میں 26 ویں آئینی ترمیمی بل پر بحث کے ساتھ ہی جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لیے پارلیمان کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے تحریک پیش کی گئی۔رکن اسمبلی مخدوم سید سمیع الحسن گیلانی کی جانب سے یہ تحریک پیش کی گئی، اس دوران حکومت کی جانب سے بل کی حمایت کی گئی جبکہ اپوزیشن اس پر تقسیم نظر آئی۔مسلم لیگ (ن) نے جنوبی پنجاب صوبہ کی تحریک کی مخالفت کی اور نشستوں پر کھڑے ہوکر احتجاج کیا جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین اپنی نشستوں پر براجمان رہے۔بعد ازاں جنوبی پنجاب صوبہ بنانے کے لئے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تحریک منظور کرلی گئی۔
وائس آف ایشیا13مئی2019 خبر نمبر143

image_pdfimage_print