Voice of Asia News

پاکستانی معیشت دفن کرنے کے منصوبے پر کام شروع: محمد قیصر چوہان

پاکستان کے سیاسی سیٹ اپ میں بعض اوقات ایسی سیاسی جماعت حکمران بن جاتی ہے جو حکومتیں بنانے اور چلانے والوں کی مرضی کے فیصلوں میں رکاوٹ بنتی ہے اس لئے اس مرتبہ اپنی مرضی کی حکومت، کابینہ، وزیر مشیر صوبوں کی حکومتیں وغیرہ بنوائی گئیں۔ بالکل اسی طرح آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں نے اپنے کام میں رکاوٹیں محسوس کیں تو اس بات کا انتظام کرنے کی ٹھانی کہ اب اپنے ہی آدمی ہر جگہ متعین کیے جائیں گے چنانچہ گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آرکو فارغ کروا دیا گیا۔ آئی ایم ایف کے افسر رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر اور شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر بنادیاگیا ہے۔ رضا باقر کی مدت ملازمت تین سال ہوگی۔ ایک جانب وزیراعظم کرپشن کو مشن سمجھ کر ختم کرنے کا اعلان کررہے ہیں تو دوسری طرف پاکستان کی معاشی آزادی اور خود مختاری کو بھی ختم کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پاس جانے کو خود کشی قرار دینے والے عمران خان نے اقتدار پر براجمان ہوتے ہی پاکستان کی معیشت کو آئی ایم ایف سے چھ ارب ڈالر قرض کے عوض عالمی سود خور ادارے کے پاس گروی رکھ دی ہے ۔یہ رقم بھی یکمشت نہیں ملے گی بلکہ قسطوں میں ملے گی۔ اس قرض کیلئے حکومت پاکستان نے جو شرائط تسلیم کی ہیں ، وہ حیرت انگیز ہونے کے ساتھ ساتھ شرمناک بھی ہیں اور کسی بھی ملک کے عزت و وقار کے منافی بھی۔
عبدالحفیظ شیخ کو تو پہلے بھی آئی ایم ایف کے حکم پر آصف علی زرداری نے ملک کا وزیر خزانہ لگایا تھا۔ حفیظ شیخ کو وزیر بنانے کیلئے انہیں سینیٹر بھی منتخب کروایا گیا تھا۔ تاہم یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کا گورنر بھی آئی ایم ایف کے براہ راست حکم پر تعینات کیاگیا ہے اور ٹیکس جمع کرنے والے ادارے کا سربراہ بھی۔ اس کے ساتھ ہی ملک کی پوری معیشت آئی ایم ایف کے ہاتھ میں تھمادی گئی ہے۔ آئی ایم ایف ہی کی فرمائش پر حکومت کا کنٹرول ڈالر کی شرح تبادلہ پر سے ہٹالیا گیا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ڈالر روزانہ پاکستانی روپے کو مزید بے قدر کردیتا ہے۔اب ڈالر کے مقابلے میں بے قدری کا کنٹرول اسٹیٹ بینک کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے موجودہ سربراہ رضا باقر پاکستان میں کیا کچھ کریں گے ، اس کا اندازہ ان کی مصر میں کارکردگی سے لگایا جاسکتا ہے جب وہ مصر میں آئی ایم ایف کے نمائندے تھے اور ان کی انگلی کے اشارے پر مصر میں اسی طرح کے فیصلے کیے جاتے تھے ، اس زمانے میں مصر کی کرنسی کو سو فیصد بے قدر کیا گیا ، بجلی ، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں 110 تا 130 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ سیلز ٹیکس کو 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس سے تبدیل کیا گیا جس کے نتیجے میں مصر مہنگائی کے سونامی میں ڈوب گیا۔ رضا باقر کے یہی کچھ ارادے پاکستان میں بھی ہیں۔ آئی ایم ایف کی فرمائش پر پاکستانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں تقریبا 45 فیصد تو ڈی ویلیو ہو ہی چکی ہے اور اشارے ہیں کہ اسے ایک ڈالر کے مقابلے میں کم از کم 180 روپے کی سطح پر لے جایا جائے گا۔ کچھ یہی صورتحال بجلی ، گیس اور پٹرول کی بھی ہے۔ پاکستان میں بھی سیلز ٹیکس کو کم کرکے 2 تا 4 فیصد پر لایا جارہا ہے جبکہ اس کی جگہ پر 14 فیصد ویلیو ایڈڈ ٹیکس لگانے کی تیاریاں ہیں جس کا اعلان آئندہ بجٹ میں کردیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کی جانب سے جو بھی اصلاحاتی پیکیج دیا گیا ہے وہ سراسر پاکستان کی معیشت کو دفن کرنے کا منصوبہ ہے۔ حزب اختلاف تو دور کی بات، خودتحریک انصاف میں بھی اس پر اضطراب پایا جاتا ہے۔
آئی ایم ایف کے احکامات کی روشنی میں پاکستانی معیشت اور قوم کے ساتھ جو بھی خوفناک کھلواڑ کیا جارہا ہے ، اسے پاکستانی معیشت کی درستی کیلئے کیے جانے والے اقدامات کا نام دیا ہے۔ حالانکہ اس حقیقت سے ہر بشر آگاہ ہے کہ جب پٹرول ، گیس اور بجلی مہنگی ہوجائے گی، ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ زمین پر آگرے گا تو کس طرح سے پاکستانی مصنوعات دیگر ممالک کی مصنوعات کا مقابلہ کرپائیں گی اور کس طرح سے برآمدات بڑھیں گی۔ بالکل اسی طرح جب درآمدی کھاد اور زرعی ادویات کی قیمتیں بڑھ جائیں گی تو کس طرح سے زرعی پیداوار برآمد کی جاسکے گی اور بڑھتے ہوئے نرخوں پر کس طرح سے پاکستانی عوام اسے خرید پائیں گے۔ یہ قحط کی دوسری صورت ہوگی کہ سٹوروں پر ہر چیز موجود ہوگی مگر استطاعت نہ ہونے کے باعث عوام کی اکثریت کی پہنچ سے دور۔ جب عمران خان اقتدار میں آئے تھے تو ان کے انتخابی دعووں کی روشنی میں توقع کی جارہی تھی کہ وہ ٹیکس جمع کرنے کے نظام میں بہتری لائیں گے ، بجلی بنانے والی نجی کمپنیوں اور بڑے اداروں کی ٹیکس چوری کو روک کر پچھلی لوٹی گئی رقم بھی وصول کریں گے۔ پاکستان سے لوٹ کر بیرون ملک جمع کروائی گئی رقوم کی وطن واپسی کیلئے اقدامات کریں گے۔ تاہم عمران خان جو کچھ بھی کررہے ہیں وہ ان کے تمام تر دعووں کے برعکس ہے۔ یہ درست ہے کہ نواز شریف اور زرداری نے جو کچھ بھی کیا وہ کہیں سے بھی قابل تحسین نہیں ہے۔ انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے سیکڑوں ارب ڈالر مالیت کی بیرون ملک جائیدادیں بنائیں اور ملک کو موجودہ سطح پر پہنچادیا۔ مگر عمران خان اور ان کی ٹیم نے اس وقت پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے دوران اور اب معاہدے کے نتیجے میں جو کچھ بھی کیا ہے اس کی مثال کفن چور اور اس کی اولاد سے ہی دی جاسکتی ہے۔ عمران خان کے اقدامات کے نتیجے میں نواز شریف اور زرداری اب بہتر لگنے لگے ہیں۔ سرکار کے ان اقدامات کے نتیجے میں عید کے بعد پھر احتجاج کا دنگل سجے گا جو ملک کیلئے کہیں سے بہتر نہیں ہوگا مگر عوام کے پاس اس کے علاوہ عمران خان نے اور کوئی آپشن بھی نہیں چھوڑا ہے۔
ایف بی آر اور دیگر سرکاری اداروں میں بے چینی اس قدر بڑھ چکی ہے کہ آنے والے برسوں میں محاصل کی وصولیوں کی شرح بھی گرنے کا خدشہ ہے۔ سرکاری افسران ہر وقت خوفزدہ ہوں نیب کے چھاپے کا ڈر ہو تو وہ کوئی کام نہیں کرسکتے۔ مالیاتی اداروں پر حملے نے تو پورے معاشی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ جو اسٹیٹ بینک حکومت کے مالیاتی اقدامات پر ہر چھ ماہ بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتا تھا جس سے حکومت کے سارے دعوؤں کی نفی ہو جاتی تھی اور آئی ایم ایف کے احکامات پر عملدرآمد کا سارا ڈراما سامنے آجاتا تھا۔ اب اس پر قابو پانے میں کوئی مشکل نہیں ہوگی۔ خدشہ ہے کہ اسٹیٹ بینک بھی اب ایسی رپورٹس دے گا جس میں کوئی بات واضح نہیں ہوگی۔ یوں اول تا آخر آئی ایم ایف کی حکمرانی قائم ہو جائے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے ڈاکٹرعبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ ،رضا باقر کو گورنر اسٹیٹ بینک اور شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آربنا کر پاکستان کے خزانے کی چابیاں آئی یم ایف کو پکڑا دی ہیں،اب وفاقی بجٹ آئی ایم ایف کی براہِ راست نگرانی اور سفارشات کی روشنی میں تیار ہو گاجو عوامی اُمنگوں کا آئنہ دار نہیں بلکہ آئی ایم ایف دوست بجٹ ہوگا، عمران خان کی کابینہ میں ٹیکنوکریٹ مسلط ہو چکے ہیں اوراب ٹیکنوکریٹس کے ذریعے حکومت چلاکر پاکستانی عوام کی بجائے ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مفادمیں معاشی پالیسیاں تشکیل دی جائیں گی جس کے سبب پاکستان عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی غلامی کے شکنجے میں پھنس جائے گا۔
اس وقت ترقی پذیر ممالک 4 ہزار ارب ڈالر سے زیادہ کے قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ صرف پاکستان کے بیرونی قرضے 106 ارب ڈالر سے زائدہوگئے ہیں۔ مغربی ممالک اور اْن کے مالیاتی ادارے ’’تاثر‘‘ دیتے ہیں کہ وہ غریب ممالک کو قرض مہیا کرکے اْن کی معاشی مشکلات کو کم کرتے ہیں اور اْن کی معیشت کو مضبوط بناتے ہیں، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے قیام کا بنیادی مقصد غریب اور کمزور ممالک کو مغرب کا معاشی غلام بنانا ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف دنیا کے 75 سے زیادہ ممالک کو مدتوں سے قرض دے رہے ہیں، مگر ان ممالک میں سے کسی ملک کی معیشت مضبوط نہیں۔ اس کے برعکس صورتِ حال یہ ہے کہ غریب ممالک کے قومی بجٹ کا بڑا حصہ بیرونی قرضوں پر سود کی ادائیگی میں صرف ہورہا ہے، مثلاً اس وقت پاکستان کے بجٹ کا تقریباً 40فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ ہورہا ہے یا ہونے ہی والا ہے۔ پاکستان کا قرض بڑھے گا تو سود کی ادائیگی کا دائرہ مزید وسیع ہوگا، اور وہ وقت آسکتا ہے کہ پاکستان کا آدھے سے زیادہ بجٹ سود کی ادائیگی پر خرچ ہونے لگے۔ یہی قصہ دنیا کے دوسرے غریب اور ترقی پذیر ممالک کا ہے۔

qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print