Voice of Asia News

لاہور ہائیکورٹ نے علیم خان کی ضمانت منظور کر لی

لاہور( وائس آف ایشیا)لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظور کر لی۔ تفصیلات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ میں جسٹس باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے درخواست ضمانت کی سماعت کی۔ جسٹس علی باقر دوران سماعت نے استفسار کیا ملزم کس ریمانڈ پر ہے؟ نیب کے وکیل نے کہا ملزم جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں قید ہے۔نیب وکیل نے آمدن سے زائد اثاثوں کے الزامات پر گواہوں کے بیانات پڑھنا شروع کر دیئے۔ کمرہ عدالت کے باہر شور پر فاضل بنچ نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ باہر کھڑے لوگوں کو خاموش کروایا جائے۔ جس پر علیم خان کے وکیل نے کہا لوگ ہماری سپورٹ کیلئے موجود نہیں ہیں۔ نیب کے وکیل نے کہا علیم خان نے زمین کی قیمت کم دکھائی۔جسٹس علی باقر نے کہا یہ سب تو علیم خان نے گوشوارے میں لکھ دیا ہے۔آپ یہ بتائیں ان کے سورسز تھے؟ نیب کے وکیل نے کہا تخمینہ کار کا بیان موجود ہے۔ جسٹس علی باقر نے کہا بیرون ملک سے اتنے پیسے آئے، فلاں اکاؤنٹس سے پیسے آئے، اسطرح کچھ بتائیں؟ تفتیشی افسر نے کہا بیرون ملک سے رقوم منتقل ہوئیں۔ جسٹس علی باقر نے استفسار کیا کہ کیا وہ رقوم غیر قانونی تھیں؟ تفتیشی افسر نے کہا انکے والد اور والدہ کا کوئی سورس پاکستان میں موجود نہیں ہے ۔علیم خان کے والد اور والدہ سرکاری ملازم تھے۔علیم خان 50 کروڑ روپے کی وضاحت نہیں دے سکے۔ علیم خان کے اکاؤنٹنٹ نے بھی بیان میں کہا کہ پیسے ہنڈی کے ذریعے بیرون ملک بھیجے گئے۔ وکیل علیم خان نے کہا کہ نیب دستاویزات کے ذریعے ثابت کرنا ہے کی اثاثے آمدن سے زائد ہیں , محض گواہوں کی بنیاد پر آمدن سے زائد اثاثوں الزام عائد نہیں کیا جاسکتا۔جس پر نیب کی جانب سیعلیم خان کے مشکوک بینک ٹرایکشنزاور سرمایہ کاری کی تفصیلات عدالت میں پیش کی گئیں ، نیب تفتیشی افسر نے کہا کہ ذرائع آمدن اور اخراجات میں توازن نہیں ، کئی ملین کے اثاثے ظاہر نہیں کئے گئے۔ وکیل علیم خان کا کہنا تھا آمدنی سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نیعلیم خان کو بلاجواز گرفتار کیا، تفتیش میں نیب آج تک کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، شواہد نہ ہونے کے باعث نیب ریفرنس دائر نہیں کر رہا۔نیب پراسکیوٹر نے کہا کہ علیم خان کے خلاف ٹھوس مواد موجود ہے۔ جسٹس علی باقر نے نیب کے وکیل سے پوچھا آپ کی تفتیش کی کیا پوزیشن ہے؟ نیب کے وکیل نے کہا تفتیش جاری ہے، ہم وقت نہیں بتا سکتے کہ کب تفتیش مکمل ہو گی۔ ریفرنس تیاری کے مراحل میں ہے تفتیشی رپورٹ جلد مکمل کرلی جائے گی۔ دلائل کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثے اور آف شور کمپنی کیس میں علیم خان کی ضمانت منظور کرلی اور علیم خان کو 10 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کا بھی حکم دیا۔جس کے بعد لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کی ضمانت منظور کر لی اور انہیں رہا کرنے کا حکم دے دیا۔ یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علیم خان کو فروری میں نیب نے حراست میں لیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدالعلیم خان کو نیب آفس لاہور میں آمدن سے زائد اثاثے، آف شور کمپنیز اسکینڈل اور پیسوں کی منتقلی کے حوالے سے تفتیش کے لیے ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا، جس کے لیے وہ نیب آفس پہنچے جہاں انہیں نیب نے گرفتار کر لیا تھا۔نیب کی جانب سے گرفتاری کے بعد علیم خان نے اپنی وزارت سے بھی استعفی دے دیا تھا۔ قبل ازیں علیم خان وزیر بلدیات اور کمیونٹی ڈیویلپمنٹ پنجاب کے طور پر کام کر رہے تھے۔ علیم خان نے مارچ کے مہینے میں ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی۔ جس میں کہا گیا کہ نیب آج تک کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، عدالت ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے۔علیم خان کی جانب سے ان کے وکیل عدنان شجاع بٹ نیدرخواست دائرکی تھی۔ درخواست میں علیم خان نے موقف اختیار کیا کہ آف شور کمپنیوں اور آمدن سے زائداثاثے کیس میں گرفتار کیا گیا، تمام اثاثے اور کمپنیاں گوشواروں میں ظاہر کر چکے ہیں۔ دائر درخواست میں کہا گیا کہ نیب کی جانب سے لگائے الزامات بے بنیاد ہیں، اختیارات کے ناجائز استعمال کاالزام غلط ہے، آج تک کوئی شکایت نیب کے پاس نہیں آئی۔علیم خان نے استدعا کی نیب آج تک کوئی الزام ثابت نہیں کر سکا، عدالت ضمانت منظور کرتے ہوئے رہائی کا حکم دے۔

image_pdfimage_print