Voice of Asia News

بھارت کو جلد یا بدیر کشمیر کی زمینی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا سید علی گیلانی

 
سری نگر( وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی نے یقین ظاہر کیا کہ بھارت کو جلد یا بدیر کشمیر کی زمینی حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گااورتنازعہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حتمی طورپر حل کرنے کی راہ تلاش کرنا پڑے گی۔سید علی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیا ن میں عوام پر زوردیا کہ وہ بھارت نواز مقامی سیاستدانوں کے مذموم عزائم سے ہوشیار رہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام نے گزشتہ سات دہائیوں سے بے شمار قربانیاں مراعات اوررعایات کیلئے نہیں بلکہ حق خودارادیت کے حصول کیلئے دی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سیدعلی گیلانی نے بی جے پی کے رہنما اور وزیر نیتن گڈکرے کے کشمیر بارے حالیہ بیان کو مضحکہ خیز اور منافقت پر مبنی قراردیتے ہوئے جموں وکشمیر میں زمینی حقائق کو تسلیم نہ کرنے پر بھارتی ارباب اقتدار کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔نیتن گڈکرے نے کشمیر میں نامساعد حالات کو بھارتی آئین کی دفعہ 370اور 35-Aجن کے تحت جموں وکشمیر کو خصوصی حیثیت حاصل ہے کی منسوخی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قراردیا تھا اگرچہ بی جے پی کو پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل تھی ۔ سیدعلی گیلانی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں نیتن گڈکرے کی منطق کو منافقانہ سیاست کا ایک اعلی نمونہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ متنازعہ ریاست جموں و کشمیر میں گزشتہ 71برس سے بھارتکے حق میں سازگار ماحول ہمیشہ مفقود رہا ہے۔انہوں نے ہندو انتہا پسند تنظیموں کے گٹھ جوڑ بی جے پی ، آر ایس ایس اور شیو سینا کی طرف سے بھارتی آئین کی مذکورہ خصوصی دفعات کو انتخابات کے موقع پر منسوخی کے اعلان کامقصد ایک طرف تو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کیلئے فرقہ پرستی پر مبنی ہیجانی کیفیت پیدا کرنا اور دوسری طرف مقبوضہ علاقے میں بھارت نواز سیاسی جماعتوں کوعارضی طور پر بھارت مخالف پروپیگنڈے کے ذریعے الیکشن میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کاڈرامہ رچانا تھا ۔انہوں نے کہاکہ حالیہ انتخابات کے دوران بی جے پی کے تمام رہنماؤں نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کوختم کرنے کیلئے آسمان کو سر پر اٹھانے میں کوئی کسر باقی نہیں رہنے دی گئی اور اب الیکشن کے اختتام پر وہ مقبوضہ علاقے کے نامساعد حالات کے پیش نظر ایسا نہ کرنے کے بودے دلائل اور بھونڈی منطق پیش کررہے ہیں تاکہ اپنے عوام کو کشمیرکی صورتحال سے بے خبر رکھا جاسکے۔سیدعلی گیلانی نے منافقانہ سیاست کو ایک بدترین حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قوموں کا اجتماعی ضمیر اور اخلاقیات کی اعلی قدریں فنا ہو جاتی ہیں اور ظلم وجبر کی ریت پروان چڑھتی ہے۔ انہوں نے بھارتی ارباب اقتدار کو اپنی تاریخ آزادی کا مطالعہ کرنے کامشورہ دیتے ہوئے کہا کہ 27اکتوبر 1947 کو جب بھارتیافواج نے جموں و کشمیر میں جبری طور قبضہ کیاتھا تو اس کے بعد بھارت نے اقوامِ متحدہ کی تسلیم شدہ قراردادوں کی روشنی میں مقبوضہ علاقے میں یہاں رائے شماری کے فارمولے کو التوا میں رکھنے کیلئے نامساعد حالات کا ہی رونا رویا تھا اور یہ نامساعد حالات آج 71سال کے بعد بھی جوں کی توں موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی سیاست دانوں کے پاس کشمیر کے زمینی حالات اور حقائق کو تسلیم کرنے کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ موجود نہیں ہے اور انہیں مسئلہ کشمیر کو حق خودارادیت کے جمہوری اور سیاسی فارمولے کے تحت حل کرناچاہیے ۔حریت چیئرمین نے کشمیری عوام سے بھارت نوازسیاست دانوں کومنافقانہ سیاست اورسازشوں سے باخبر رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہاکہ وہ انہیں یکسر انظر انداز کردیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جلد یا بدیر بھارت کو جموں وکشمیر کی زمینی صورتحال تسلیم کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے پائیدار اور پرامن حل کیلئے کشمیریوں کو انکا حق خودارادیت دینا پڑے گا ۔
وائس آف ایشیا15مئی2019 خبر نمبر1

image_pdfimage_print