Voice of Asia News

حکمران خوش ہیں کہ قرض مل گیا:شوکت علی چوہدری

پاکستان کے حکمران اس بات پر بہت خوش ہیں کہ IMF نے ان کو 6 ارب ڈالر دینے کی حامی بھر لی ہے اور آہندہ 39 ماہ میں قسط وار یہ قرضہ پاکستان کو مل۔جاے گا۔ اس کے علاوہ IMF جیسے بڑے ساہوکار کی مہربانی کے بعد عالمی بنک،ایشیاء ترقیاتی بنک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی ادارے بھی دو سے تین ارب ڈالر تک کا قرضہ پاکستان کو دیں گے۔اس طرح آہندہ چند سالوں میں تقریبا” 9 ارب ڈالر تک کا قرضہ ہمارے قومی خزانے میں جمع ہو جائے گا۔IMF ایک بین الاقوامی مالیاتی ادارہ ہے اور اس میں امریکہ سمیت تمام ترقی یافتہ ممالک نے سرمایہ کاری کی ہوء ہے۔اور اگر دیکھا جاے تو یہ ادارہ ترقی پزیر اور پسماندہ ممالک کی ترقی کے لیے ان کو اپنی شرائط پر قرض دیتا ہے اور اس قرض کی شرائط میں پہلی شرط یہ ہوتی ہے کہ یہ ممالک جن کے عوام بھوک۔غربت اور بے روزگاری کے ہاتھوں بلک رہے ہوتے ہیں اور جن کے وسائل پہلے ہی ملٹی۔نیشنل کمپنیوں اور سامراجی ممالک کے قبضہ میں ہوتے ہیں علاج۔تعلیم اور اشیاء ضروریہ کی قیمتوں کو کم کرنے کے لیے عوام کو کوء سب سڈی نہی دیں گے اور ٹیکسوں اور یوٹیلٹی بلز میں اضافہ کریں گے۔یہ کیسا حسن اتفاق ہے کہ پس ماندہ اور ترقی پزیر ممالک کی صنعت اور زراعت آج تک ترقی یافتہ ممالک کی طرح ترقی نہی کر سکی اور پس ماندگی ہی ان کا مقدر رہی۔جس وقت ساری دنیا کے دولت مند ممالک نے ورلڈ ٹریڈ آرگناہیزیشن(WTO)کا معاہدہ کیا تھا تو اس میں بھی شق موجود تھی کہ اس معاہدہ کا دستخط کنندہ کوء ملک اپنے عوام کو سبسڈی نہیں دے گا۔ حسن اتفاق ہے کہ یہ طاقت ور ممالک غریب اور پسماندہ ممالک کی حکومتوں کو تو تڑی لگا کر اپنی شرائط منوا لیتے ہیں لیکن جب ان کے اپنے ممالک کے کسان سب سڈی ختم کرنے کی پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کرتے ہیں تو پھر امریکہ جیسا طاقت ور ملک بھی اس پر عمل درآمد کرنے سے معزرت کر لیتا ہے۔اس کا نتیجہ کیا نکلا کے WTO کے سبسڈی ختم کرنے کی شق پر آج تک پوری طرح عمل نہ ہو سکا اسی طرح دوسرے ممبر ممالک کے درمیان مال کی درآمد کے لیے ٹیکس میں کمی کی جو شرائط رکھی گیں تھیں ان کا حشر بھی سب کے سامنے ہے کہ آج امریکہ اور چین ایک دوسرے کے مال کی آزادانہ تجارت پر بھاری ٹیکس لاگو کرنے کے اعلانات کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی درآمد و برآمد تک کو بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔یہ ہی حشر سرکاری اداروں کی نجکاری کی پالیسیوں کا بھی ہوا اور امریکہ اور یورپ کے ممالک WTO کی شق کے مطابق اپنے اپنے ملکوں کے اداروں کی مکمل نج کاری آ نہیں کر پائے۔یہ تو معاملہ ہے ترقی یافتہ ممالک کا۔ اب ذرا ہم پاکستان کے حالات پر ایک نظر ڈال لیں۔ہمیں آزادی ملی 1947ء میں اور ہمارے حکمرانوں نے IMF سے پہلا قرضہ 1958ء میں لیا اور اس کے بعد سے آج تک ہمارے حکران وہ خواہ وردی والے تھے یا بغیر وردی کے IMF سے قرض لیتے آرہے ہیں۔1958 میں ڈالر 3 روپے کا تھا اور اس وقت ڈالر 140 روپے کا ہے۔ملک پر مجموعی قرضوں کا حجم 90 ارب ڈالر ہے۔لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک کی خوش حالی میں پسماندہ لیکن وسائل سے مالا مال ممالک کے استحصال کا اہم کردار ہے۔اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کر سکتا۔لیکن ایک بات تو ماننا ہو گی کہ دنیا کے ان طاقت ور ساہوکار اور سامراجی ممالک نے اپنے اداروں کو کس کمال ہوشیاری اور مہارت کے ساتھ ساتھ بہت ایمانداری اور جزبہ حب الوطنی کے تحت چلایا ہے۔یہ نہیں کہ ٹیکس چوری وہاں نہی ہے لیکن آٹے میں نمک کے برابر۔کسی بھی محکمے کے انتظامی اخراجات ایک مقرہ حد سے کسی صورت بڑھ نہی پاتے۔حکمرانوں سمیت ہر شہری ایک قاعدے قانون کا پابند۔کرپشن وہاں بھی ہے لیکن ایسی نہیں کہ کرپٹ بار بار ان پر حکرانی کریں۔مجھے دو مرتبہ پاکستان ورکرز کنفیڈریشن کی طرف سےGSP پلس پر لکھی گی رپورٹ جرمنی اور بلجیم میں یورپی یونین کے اہم عہدیداران کو پیش کرنے کا اتفاق ہوا۔دو سال قبل بلجیم میں یورپین پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائےGSP پلس کے سربراہ سے ملنے میں اور میرے ساتھ بیلجیم اور جرمنی کی سماجی تنظیم FES کے چند ساتھیوں جن میں پاکستان سے اس تنظیم کے انچارج عبدالقادر پورپین پارلیمنٹ میں ان سے ملاقات کے گے تو ایک صاحب نے بلڈنگ کی ساتویں منزل پر لفٹ کے باہر ہمارا استقبال کیا اور تقریبا” 6۔7 منٹ تک ہمارے آگے آگے چلتے ہوے ایک کمرے میں داخل ہوے اور ہمیں بھی اس کمرے میں آنے کا کہا،کمرے میں ایک میز۔ اس کے چاروں طرف کرسیاں اور اس کمرے کے ایک کونے میں ایک میز پر چاے بنانے کا سامان اور پانی کی چند بوتلیں۔اب مجھے معلوم نہیں تھا کہ جن سے ہمیں ملنا ہے وہ صاحب کون ہیں۔انہوں نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود میز کی دوسری جانب جا کر بیٹھ گے اور اپنی فائل کھول کر ہم سے بات چیت کا آغاز کر دیا۔تب مجھے معلوم ہوا کہ یہ ہی صاحب ہیں جنہوں نے پورپی یونین کی نماہندگی کرتے ہوے تمام امور پر ہم سے بات کر کے یہ رپورٹ یورپین یونین کی پارلیمنٹ میں پیش کرنا ہے۔میٹنگ کے اختتام پر وہ واپس ہمیں اسی احترام اور سادگی کے ساتھ لیفٹ تک چھوڑکر واپس چلے گے۔اس سارے اجلاس پر ان کا ایک روپیہ بھی خرچ نہی ہوا۔نہ سیکریٹری نہ چپڑاسی اور نہ کوء پیش کار۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان ممالک نے ترقی کیسے کی اور دنیا بھر پر کیسے حکمرانی کر رہے ہیں۔ایک ہم ہیں کہ 1958ء سے قرض پر قرض لیے جاریے ہیں اور ہمارے حکمرانوں کا طرز زندگی اور طرز حکمرانی شہنشاہوں جیسا ہے۔ہمارے حکمران تو قرض بھی اپنے محل سراوں کو چلانے کے لیے ہی لیتے ہیں۔عوام نے اپنی خون پسینے کی کماء سے ان قرضوں کو اتارنا ہے بس یہ ہی ان کی محب الوطنی ہے اور یہ ہی ان کے حقوق و فرائض۔ اب ہمارے لیےIMF کا حکم یہ ہے کہ اپنے قومی ادارے جو خسارے میں ہیں ان کو فرخت کرو۔عوام پر ٹیکسوں میں اضافہ کرو۔تمام سبڈی ختم کرو۔بجلی اور گیس کی قیمٹوں میں اضافہ کرو۔ان شرائط میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ اپنی صنعت کی بنیاد کو مضبوط بناو۔زراعت کو جدید بناو،فرسودہ جاگیردارانہ طریقہ پیداوار ختم کرو، تعلیم لازمی اور فری کرو، حکومتی پالیسیوں کے نتیجہ میں خسارے میں چلنے والے اداروں کو منافع بخش بنیادوں پر چلانے کی منصوبہ بندی کرو انتظامی اخراجات کو ایک حد سے بڑھنے نہ دو۔ عوام سے سیل ٹیکس اور دیگر خفیہ طریقوں سے ٹیکس وصول کرنے کی بجاے دولت پر ٹیکس اکٹھا کرو۔آج تک 70 سال میں 90 ارب ڈالر قرض سے بھی اس ملک کے عوام کو صاف پانی اور علاج کے لیے ہسپتال تک نہ دینے والے حکمرانوں کو تو IMF والے بھی ان سہولیات کو عوام تک پہنچانے کا نہی کہتے۔ ظاہر ہے سرمایہ دارانہ نظام کے فروغ کا یہ ادارہ بھلا کیونکر ان جھمیلوں میں پڑے گا کہ کسی ملک کے عوام کو غربت سے نکالنا ہے۔ویسے یہ کام ان کا ہے بھی نہی۔یہ کام تو خود پاکستان کے حکمرانوں کا ہے کہ وہ عوام کے معیار زندگی کو بہتر کریں جو وہ پچھلے 71 سالوں سے نہیں کر پائے اور آہندہ بھی ایسا ہونے کے کوئی امکانات نظر نہی آتے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •