Voice of Asia News

پاکستان میں نئے صوبے:حسنین جمیل

 
سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے تحریک میں اچانک تیزی آگئی ہے ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہو ئے کہا ، کہ صوبہ جنوبی پنجاب ملتان ، بہاولپور ڈویژن اور ڈیرہ غازی خان کے اضلاع پر مشتمل ہو گا ۔ آبادی کی بنیا د پر سینٹ میں نمائندگی ملے گی ۔ قومی اسمبلی کی چالیس اور صوبائی اسمبلی کی 125 نشستیں ہو ں گی ۔سرائیکی صوبے کے قیام کے حوالے سے پچھلے تیرہ برسوں سے تحریک شدت اختیار کر چکی ہے ۔ پیپلز پارٹی کی حکومت میں سابق صدر آصف علی زرداری نے سرائیکی بنک کے قیام کے حوالے سے بھی بات کی تھی ۔ گزشتہ پانچ سال مسلم لیگ (ن) کی حکومت رہی ۔ اس دوران بہاولپور صوبے اور سرائیکی صوبے کے قیام کے بِل پیش کئے گئے ۔ چونکہ ن لیگ سرائیکی صوبہ بنانے کے حق میں نہیں تھی ،لہٰذا بِل سیاسی پوائنٹ سکورنگ تھا ۔ اس وقت ن لیگ کے پاس مرکز اور پنجاب میں دو تہائی اکثریت تھی ۔ اگر ن لیگ سنجیدہ ہوتی تو اب تک سرائیکی صوبہ بن چکا ہوتا ۔ حال ہی میں تحریک انصاف نے قومی اسمبلی میں صوبہ جنوبی پنجاب کا بِل پیش کیا ۔ تو سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے مخالفت کی ۔ بعدازاں ترجمان ن لیگ مریم اورنگ زیب نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی کی باتوں کو غلط رنگ دیا جارہا ہے ۔ دراصل بہاولپور صوبے کے قیام کی بات سرائیکی صوبے کی تحریک کو ناکام کر نے کے لیے ہے ۔ اس میں کو ئی شک نہیں ماضی میں بہاولپور یاست کا وجود رہا ہے ۔ مگر اب آبادی کے تناسب سے بہاولپور صوبہ نہیں بن سکا ، ہا ں یہ ممکن ہے کہ جنوبی صوبے کے قیام کے بعد بہاولپور اور ملتان دونوں کو یکساں اہمیت دے دی جائے ۔ ایک شہر میں وزیر اعلیٰ بیٹھے ، دوسرے میں گورنر ۔اسمبلی ایک شہر میں ہو اور دوسرے میں ہائیکورٹ ۔ پاکستان کی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے کم ازکم آٹھ صوبے بنانے کی ضرورت ہے ۔ پنجاب ، سرائیکی ،خیبر پختونخواہ ، ہزارہ ، سندھ ، کراچی ، بلوچستان ، اور گلگت بلتستان ۔ پنجاب کی بارہ کر وڑ آبادی کے لیے ایک وزیر اعلیٰ ، چیف سیکرٹری ، چیف جسٹس ، آئی جی اور گورنر ناکافی ہے ۔ لہذا انتظامی بنیادوں پر صوبے بنانے میں کو ئی حرج نہیں ۔ بدقسمتی سے اس وقت جنوبی پنجاب میں تخت ِ لاہور کے خلاف نفرت عروج پر ہے اور یہ آج کی بات نہیں ہے ۔ 2006 میں راقم روزنامہ خبریں میں سٹاف رپورٹر تھا ، مدیر اعلیٰ نے لاہور میں سرائیکی مشاعرہ کرایا ۔ تقریباً پندرہ سرائیکی شعرا لاہور آئے ، ان کی تخلیقات میں تخت لاہور کے جبر پر ماتم صاف دکھائی دیتا تھا ۔ سب سے زیادہ داد شاکر شجاع آبادی کوملی تھی ۔
نئے صوبے کے قیام سے سرائیکی علاقوں میں لاہور کے خلاف نفرت ختم ہوجائے گی۔ اسی طرح بلوچستان خیبر پختونخواہ اور سندھ میں پنجاب کے خلاف نفرت ختم ہوگی اور یہ نعرہ کہ سارے وسائل تخت لاہور کے لیے ہیں ، بے اثر ہوجائے گا۔ اسی طرح سند ھ پہ ایک نظر ڈالیں تو مہاجر سندھی تضاد عرصہ دراز سے موجود ہے ۔ گزشتہ دنوں کراچی میں خالد مقبول صدیقی نے پریس کانفرنس میں کہا کہ غیر اعلانیہ طور پر دو حصوں میں تقسیم ہو چکا ہے ، آج تک کسی اردو بولنے والے کو سندھ کا وزیر اعلیٰ نہیں بنایا گیا ۔ کراچی جو کبھی پاکستان کا سب سے جدید اور ترقی یافتہ شہر تھا ۔آج مسائل کا گڑھ ہے ۔ اندرون سندھ میں قیادت پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہے جبکہ کراچی پہلے ایم کیو ایم اور اب تحریک انصاف کے پاس ہے ۔ اردو بولنے والے اور سندھی ایک دوسرے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں ۔ ماضی میں ممتاز بھٹو اور حال میں ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اور الطاف حسین لسانی بنیادوں پر سیاست کرتے رہے ہیں جس کا نقصان پاکستان کی سالمیت کو ہے ۔ لہذا اعلانیہ طور پر کراچی کو سندھ سے الگ کرکے صوبہ بنا دینا چاہیے ۔ حیدرآباد سندھ کا دارالحکومت بن جائے گا ، جس کے ساتھ ساتھ سکھر اوردوسرے شہروں کو بھی ترقی ملے گی ۔ اسی طرح ہزارہ صوبے کے قیام سے ایبٹ آباد جیسا خوبصورت شہر ترقی یافتہ ہوگا اور ساتھ ساتھ ہر ی پور بھی ترقی کرے گا ۔حرف آخر : پاکستان کی بقا اسی میں ہے ، کہ کم از کم آٹھ صوبے بنائے جائیں ۔طاقتور حلقوں کواس نکتے پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے ، آپس کی نفرتیں انسانوں کی تقسیم در تقسیم صرف اسی صورت میں ختم ہو سکتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ صوبے بنائے جائیں ۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •