Voice of Asia News

کے الیکٹرک قانون ، قواعد و ضوابط پر عملدر آمد نہیں کرتی ، سیکرٹری پاور کا انکشاف

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری پاور نے انکشاف کیا ہے کہ کے الیکٹرک قانون ، قواعد و ضوابط پر عملدر آمد نہیں کرتی،وہ حکومت کی جانب سے جاری کسی ضابطے کو نہیں مانتے۔ جمعہ کو پی اے سی ذیلی کمیٹی کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا جس میں کے الیکٹرک سے متعلق سیکرٹری پاور ڈویژن نے بتایاکہ کے الیکٹرک قانون ، قواعد و ضوابط پر عملدر آمد نہیں کرتی،وہ حکومت کی جانب سے جاری کسی ضابطے کو نہیں مانتے۔ انہوں نے کہاکہ کے الیکٹرک نے 2015 سے سندھ ہائیکورٹ سے حکم امتناع لے رکھا ہے۔ سیکرٹری پاور نے کہاکہ اسی حکم امتناع پر وہ گیس اور تیل حاصل کر رہے ہیں۔ ایاز صادق نے کہاکہ اس کا مطلب ہے کہ کے الیکٹرک والے سب سے بڑی بدمعاش ہیں،کیا کے الیکٹرک کیساتھ معاہدے میں ثالثی کی کوئی شق موجود ہے؟ ۔سیکرٹری پاور نے کہاکہ کے الیکٹرک کیساتھ معاہدے میں ثالثی کی کوئی شق موجود نہیں۔ ایاز صادق نے کہاکہ یہ بتا دیں کہ کے الیکٹرک کی نجکاری کا معاہدہ کس وزیر کے دور میں ہوا؟ سیکرٹری پاور نے کہاکہ میرا خیال ہے نوید قمر اس وقت وزیر تھے۔نوید قمر نے جواب دیا کہ میرے دور میں یہ معاہدہ نہیں ہوا۔ نوید قمر کے جواب پر اجلاس میں قہقہے لگے ۔ایاز صادق نے کہاکہ چیک کر لیں یہ معاہدہ موجودہ مشیر خزانہ اور اس وقت کے وزیر نجکاری حفیظ شیخ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہاکہ معاملہ ان کو بھیج دینا چاہیے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ انھوں نے حکومت کے مفاف پر سمجھوتہ کیا۔ آڈٹ حکام نے بتایاکہ وزارت پاور ڈویژن کے ذیلی اداروں کے ذمے 293 ارب واجب الادا ہیں،واپڈا، جینکوز اور تقسیم کار کمپنیوں نے سی پی پی اے کو 293 ارب روپے دینے ہیں۔ سید نوید قمر نے کہاکہ یہی وجہ ہے جس سے گردشی قرضہ میں اضافہ ہو رہا ہے۔سید نوید قمر نے کہاکہ جن تقسیم کار کمپنیوں کو بہترین قرار دیا گیا انہوں نے بھی اربوں روپے دینے ہیں۔آڈٹ حکام اور پاور ڈویژن کے اعداد و شمار میں تضاد کے بعد کمیٹی نے معاملہ محکمانہ اکاؤنٹس کمیٹی کو بھیج دیا۔ سید نوید قمر نے کہاکہ اعداد و شمار درست کرکے دوبارہ کمیٹی میں آئیں۔ نندی پور تھرمل پاور سٹیشن میں گنجائش سے کم بجلی کی پیداوار کا انکشا ف ہوا ۔ بتایاگیا کہ پاور پلانٹ نے 2015 سے 2016 کے دوران پیداواری گنجائش سے 91 کروڑ 21 لاکھ یونٹس کم پیداوار کی۔آڈٹ حکام کے مطابق کم پیداوار سے نو ارب بارہ کروڑ پندرہ لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔سید نوید قمر نے بتایاکہ ٹھیکہ دار نے معاہدے کے مطابق ساری مشینری اپنے مقررہ وقت میں لگانی تھی۔حکام توانائی ڈویژن نے بتایاکہ جس وقت کا یہ آڈٹ پیرا ہے اس وقت پلانٹ میں پیداواری یونٹ پورے نہیں تھے۔حکام نے بتایاکہ پلانٹ ڈھائی ماہ بند رہا تھا کیونکہ ہمارے لوگ ان مشینوں کو نہیں چلا سکتے تھے۔حکام نے بتایا کہ تین ہفتے پلانٹ مطلوبہ معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے بند رہا۔حکام نے بتایاکہ نندی پاور پلانٹ پہلے فرنس آئل پر چلتا رہا۔انہوں نے کہاکہ اب نندی پاور پلانٹ مکمل طور پر ایل این جی پر چلایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہاکہ یہ معاملہ تو نیب میں بھی ہے۔ نیب حکام نے وضاحت کی کہ نیب صرف نندی پور پاور پلانٹ ون کا معاملہ دیکھ رہا ہے۔حکام نے بتایاکہ پلانٹ اس وقت پانچ سو میگا واٹ سے زیادہ پیداوار دے رہا ہے۔ ذیلی کمیٹی نے آڈٹ پیرا نمٹا دیا۔

image_pdfimage_print