Voice of Asia News

اوپن مارکیٹ میں ڈالر 153روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

کراچی( وائس آف ایشیا)انٹر بینک میں امریکی ڈالر کی قدر میں 2 روپے اضافے سے انٹر بینک میں ڈالر کی قدر 152 روپے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر 2 روپے اضافے کے بعد 153 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے . واضح رہے کہ پیر کے روز دن کے اختتام پر بھی انٹربینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالرکی قدر 152 روپے ہوگئی تھی .مارکیٹ میں کاروبار کے آغاز میں انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 148.25 روپے تھی، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس میں پہلے 75 پیسے کا اضافہ دیکھنے میں آیا جس کے بعد اس کی قدر 149.50 روپے ہوگئی تھی.اسی قدر کے ساتھ کاروباری روز کے اختتامی لمحات تک ڈالر مستحکم رہا لیکن کمرشل بینکوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کی جانے والے خریداری کی وجہ سے دن کے اختتام پر اس کی قدر مجموعی طور پر 3 روپے 75 پیسے اضافے کے ساتھ 152 روپے تک پہنچ گئی تھی.مارکیٹ تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کی قیمت میں اضافہ آخری ایک گھنٹے کے دوران دیکھنے میں آئی‘اگر اوپن مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کا آغاز 151 روپے کے ساتھ ہوا تھا تاہم اس کا اختتام 152.50 پر ہوا. حکومت پاکستان کی جانب سے نیشنل انوسٹمنٹ ٹرسٹ (این آئی ٹی) کے تحت 20 ارب روپے کے فنڈ کے اعلان کے بعد حصص مارکیٹ میں بہتری دیکھنے میں آئی.پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری دن کا آغاز 33,166 پوائنٹس کے ساتھ ہوا، تاہم آغاز میں کے ایس ای 100 انڈیکس تنزلی کا شکار رہا.انڈیکس 814 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 32,352 کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا تاہم اس میں بہتری دیکھنے میں آئی اور انڈیکس 333,22 پوائنٹس کی سطح پر آگیا جو مجموعی طور پر 155 پوائنٹس کی بہترین تھی.پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس 84 پوائنٹس کی بہتری کے ساتھ 33,250 پوائنٹس پر بند ہوا. تفصیلات کے مطابق ملک میں جاری معاشی بے یقینی کے باعث اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان جاری ہے جبکہ ڈالر بھی مزید مہنگا ہوگیا ہے. نئے کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری سرگرمیوں کا آغاز انتہائی منفی انداز میں ہوا ہے پیر کے روز جب کاروبار شروع ہوا تو ہنڈریڈ انڈیکس 33 ہزار 162 پر تھا تاہم ابتدا میں ہی سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کا عنصر غالب رہا اور انڈیکس 800 سے زائد پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 32 ہزار 352 کی سطح پر پہنچ گیا.دوسری جانب آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان آج کیا جائے گا، ماہرین کے مطابق شرح سود میں اضافے کا امکان ہے. ماہرین کے مطابق شرح سود بڑٰھنے سے کاروباری لاگت اور حکومتی قرضوں میں اضافہ ہوگا، حکومتی مقامی قرضوں میں 300 ارب روپے اضافہ کا خدشہ ہے، گاڑیوں اور گھروں کی خریداری پر قرض لینا مہنگا پڑے گا، گاڑیوں اور گھروں کی خریداری میں کمی آئے گی.ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح سود میں اضافے سے نئی سرمایا کاری تعطل کا شکار ہو جائے گی، اس وقت شرح سود 10 اعشاریہ 75 فیصد ہے، گذشتہ 17 ماہ میں شرح سود میں 5 فیصد کا اضافہ ہوا. ادھر اسٹیٹ بینک کے مطابق رواں مالی سال کی تیسری سہ ماہی کے آخر پر بیرونی قرضوں کاحجم 105ارب 84کروڑ ڈالر ہوگیا ہے. ذرائع کے مطابق گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ قرضے92 ارب 29کروڑ ڈالر تھے‘رواں مالی سال کی تین سہہ ماہی میں13 ارب 55 کروڑ ڈالر کے قرض کا اضافہ ہوا ہے.وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان کے قرضے جی ڈی پی کا تقریبا 75 فیصد ہوگئے ہیں‘ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان رواں سال دسمبر تک 5ارب 72کروڑ ڈالر کے قرضے واپس کرنا ہیں. ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کو اگلے ماہ کے آخر تک 1ارب 27 کروڑ ڈالر جبکہ جولائی سے دسمبر تک 4ارب 44کروڑ ڈالر واپس کرنا ہیں واجب الادا قرضوں میں آئی ایم ایف ،عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے قرضے شامل ہیں اور دسمبر سے پہلے 1ارب ڈالرمالیت کے بانڈ کی مدت بھی ختم ہو رہی ہے،بانڈ کی رقم بھی سرمایہ کاروں کو واپس لوٹانی ہوگی. 
image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •