Voice of Asia News

بھارتی فورسز کوپیلٹ گن کی فائرنگ کا نشانہ بنانے کی تربیت دی جارہی ہے

سری نگر( وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی فورسز کو احتجاجی احتجاجی مظاہروں کے دوران شہریوں کو کمر سے نیچے پیلٹ گن کی فائرنگ کا نشانہ بنانے کی تربیت دی جارہی ہے ۔ سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس روی دیپ سائے نے کہا ہے کہ مظاہرین کو پیلٹ سے کم نقصان پہنچنے کو یقینی بنانے اور انکھوں کو پیلٹ سے بچانے کے لیے نئے ایس او پی پر سختی کے ساتھ عمل کیا جا رہا ہے۔ ریاستی اخبار کے مطابق 2016میں پیلٹ گن کے چھروں نے1044افراد کے آنکھوں کی بنیائی کو متاثر کیا تھا66افراد دونوں آنکھوں کی بصارت سے محروم ہوئے تھے۔ بیرون ریاست سے وادی آنے والے پیلٹ کا ذخیرہ بھی اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گزشتہ سال نومبرسے پیلٹ اسٹاک آنے میں کمی واقع ہوئی ہے،جبکہ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے ہ پیلٹ کے استعمال میں کمی،کے نتیجے میں ان کے ہتھیاروں کے اسٹوروں میں غیر استعمال شدہ پیلٹ کا بہت زیادہ اسٹاک موجود ہے۔ امسال شمالی کشمیر کے ہندوارہ میں پارلیمانی الیکشن کے پہلے مرحلے کے دوران7ویں جماعت کے طالب علم اوئیس مشتاق پیلٹ کا شکار ہوئے تھے،جبکہ سرکاری ریکاڑ کے مطابق 2019میں صرف ایک موت ہی پیلٹ کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔ سی آر پی ایف کے پاس موجود اعداد شمار میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ امسال جنوری سے فورسز اہلکاروں نے امن و قانون سے نپٹنے کے دوران10فیصد سے کم پیلٹ گولوں کا استعمال کیا ہے۔سی آر پی ایف کے سنیئر افسر نے بتایا2016میں پیلٹ کا تمام موجودہ اسٹاک ختم ہوا،اور ہمیں مزید سپلائی پر انحصار کرنا پڑا،جبکہ2017میں بھی بھی سی آر پی ایف اہلکاروں نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پیلٹ کا استعمال کیا،جبکہ موجودہ اسٹاک کا70فیصد اس دوران استعمال میں لایا گیا۔ انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ2018کے گرما کے بعد پیلٹ کے استعمال میں تنزلی دیکھنے کو ملی،جبکہ امسال بھی کھبی کھبار ہی پیلٹ کا استعمال کرنا پڑا ،کیونکہ2016اور2017کی طرز پر احتجاجی مظاہرے زیادہ خطرناک ثابت نہیں ہوئے۔ سی آر پی ایف کے انسپکٹر جنرل آف پولیس روی دیپ سائے نے انٹریو میں بتایا کہ امسال پیلٹ کا کم استعمال کرنے کی وجہ یہ ہے کہ احتجاجی مظاہروں مین زیادہ شدت نہیں تھی۔انہوں نے کہاوادی میں احتجاجی مظاہروں کی تعداد اور شدت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ آئی جی سی آر پی ایف نے کہا کہ احتجاجی مظاہرین کو پیلٹ سے کم نقصان پہنچنے کو یقینی بنانے اور انکھوں کو پیلٹ سے بچانے کا اہم جز ایس او پی پر سختی کے ساتھ عمل کیا گیا،جبکہ کمر سے نیچے پیلٹ لگانے کی تربیت دی گئی۔روی دیپ سہائے کا کہنا تھا ایس او پی میں واضح کیا گیا ہے،کہ پیلٹ کا استعمال آخری ہتھیار کے طور پر ہونا چاہئے۔2016کی طرح2018میں بھی پیلٹ کا قہر اور دہشت وادی میں جاری رہا ،جس کے دوران725افراد پیلٹ کا نشانہ بنے،جن میں آنکھوں میں پیلٹ لگنے والے لوگ بھی موجود ہے۔ڈاکٹروں کا تاہم ماننا ہے کہ2018میں2016اور2017کے مقابلے میں پیلٹ سے زخمی ہونے والی کی تعداد مین واضح کمی واقع ہوئی۔2018میں حبا نثار نامی ایک بچی پیلٹ کا نشانہ بنی تھی،جو سب سے کم عمر زخمی ہونے والی بچی تھی،اور انکی عمر20ماہ کی تھی۔ وادی میں پیلٹ بندوقوں کے استعمال پر پہلی ہی بین الاقوامی سطح پر فورسز کو سخت تنقید کا نشانہ بننا پڑاتھا،جبکہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نامی بشری حقوق کی عالمی تنظیم نے پیلٹ پر پابندی کی بار بار وکالت کی۔ سال2016 میں وادی میں پیلٹ کا سب سے زیادہ استعمال ہوا،اور ایک اندازے کے مطابق زائد از9ہزار پیلٹ کا شکار ہوئے تھے،جبکہ کئی نوجوانونوں کی موت بھی واقع ہوئی۔
وائس آف ایشیا23مئی2019 خبر نمبر23

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •