Voice of Asia News

اقوامِ متحدہ انسانی حقوق کونسل کا بھارت سے صرف وضاحت طلب کرنا کافی نہیں علی گیلانی

سری نگر( وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کی طرف سے قتل وغارت گری اور انسانی حقوق کی بدترین پامالیوں کا نوٹس لیتے ہوئے بھارت سے وضاحت طلب کرنے کو اگرچہ خوش آئیند قرار دیا، لیکن اس ضمن میں اقوامِ متحدہ کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کی ذمہ داری کو نبھانے کی اشد ضرورت ہے۔کے پی آئی کے مطابق حریت راہنما نے بھارت کے 8لاکھ سے زائد قابض افواج کے علاوہ نیم فوجی دستے، پولیس ٹاسک فورس اور غیر وردی پوش ہتھیار بند سرکاری ایجنٹوں کے ہاتھوں ریاست کے ہر طرف قتل وغارت، مارپیٹ، اندھا دھند گرفتاریوں، زیرِ حراست قتل کرنے کی وارداتیں اور خواتین کے عزت وناموس کو پامال کئے جانے کے شرمناک واقعات میں آئے روز تشویشناک اضافے کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے ان پر روک لگائے جانے کے لیے بھارت پر سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھایا جانا چاہیے۔ حریت چیرمین نے مسئلہ کشمیر کے پُرامن تصفیے کے لیے ریاستی عوام کی طرف سے حقِ خودارادیت کے دیرینہ مطالبے کے لیے ایک سیاسی تحریک کو بزور طاقت دبانا ایک سامراجی اور نوآبادیاتی حربہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی عوام کی مزاحمتی جدوجہد انکا ایک جمہوری حق ہے اور اس کو فوجی طاقت کے بل پر روک دینا انسانی حقوق کی بدترین پامالی ہے۔ آزادی پسند راہنما نے بھارت کے فوجی شکنجے میں ایک جہنم نما زندگی گزارنے والی انسانی بستی کو اگرچہ ایک وسیع جیل خانے میں محصور رکھا گیا ہے، لیکن ریاست جموں کشمیر کے حریت پسند محبوسین کو جن جیل خانوں میں مقید کیا گیا ہے ان میں قیدیوں کے حقوق پر ظالم اور حاسد جیل انتظامیہ کی طرف سے شب خون مارنے کے حوالے سے سنجیدہ نوٹس لینا اور عملی اقدامات اُٹھانا اقوامِ متحدہ کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ حریت راہنما نے انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے بھارت کے نام صرف جواب طلبی کے خطوط ہی کافی نہیں، بلکہ اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن سمیت ایمنسٹی انٹرنیشنل اور عالمی ریڈکراس کمیٹی کو شورش زدہ ریاست کا از خود دورہ کرکے عام لوگوں کے علاوہ قیدیوں کی حالت زار کا مشاہدہ کرنا چاہیے۔ حریت چیرمین نے اندرون اور بیرون ریاست قیدخانوں میں محبوسین کے بلند حوصلوں کو پوری قوم خراج تحسین ادا کرتی ہے اور ان سبھی قیدیوں کے عزم صمیم اور تحریکی جذبات کی قدر کرتی ہے۔ حریت راہنما نے بھارت کے بدنامِ زمانہ جیل خانوں کے اندر رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی ناگفتہ بہہ تکالیف کے باوجود صبروثبات کا مجسمہ بنے ہوئے جملہ قیدیوں بشمول محمد یٰسین ملک، مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر حمید فیاض، ڈاکٹر شفیع شریعتی، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، نائیدہ نسرین، غلام قادر بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اﷲ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہدالاسلام، فاروق احمد ڈار، سید شاہد یوسف، سید شکیل احمد، ظہور احمد وٹالی، مظفر احمد ڈار، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، ایڈوکیٹ زاہد علی، نور محمد کلوال، شکیل احمد یتو، محمد یوسف میر، عبدالاحد پرہ، حکیم شوکت، اسداﷲ پرے، نذیر احمد شیخ، محمد ایوب میر، محمد ایوب ڈار، منظور احمد، طارق احمد، ٹکا خان، محمد شفیع وانی، مولانا سرجان برکاتی، غلام مصطفیٰ، بشارت بزاز، مشتاق احمد حرہ، یٰسین احمد حرہ، ڈاکٹر محمد سلیم ڈار، بشیر احمد کشمیری، عبدالحی وغیرہ کو عقیدت کا سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ان محبوسین کی رُوداد ابتلاء عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے ایک روشن مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔
وائس آف ایشیا23مئی2019 خبر نمبر30

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •