Voice of Asia News

ممتاز مجاہد کمانڈر زاکر موسی کی شہادت کے بعدمقبوضہ کشمیر کے7 شہروں میں کرفیو

 
سری نگر(وائس آف ایشیا) حزب المجاہدین کے شہید کمانڈربرہان وانی شہیدکے قریبی ساتھی اورانصارغزو الہند کے سربراہ ممتاز مجاہد کمانڈر زاکر موسی کے قتل کے بعد جمعہ کو مقبوضہ کشمیر کے7 شہروں میں کرفیو لگا دیا گیا ۔ سرینگر ، پلوامہ ، ترال ، اونتی پورہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور بڈگام بھارتی فورسز کے اضافی دستے تعینات کر دیے گئے۔کے پی آئی کے مطابق زاکر موسی کو بھارتی فوجیوں نے جمعرات اور جمعہ کی درمیانی رات ضلع پلوامہ کے علاقے ڈاڈ سر ترال میں تلاشی اور محاصرے کی کارروائی کے دوران ایک ساتھی سمیت قتل کردیاتھا۔ مجاہد کمانڈر کے قتل کے بعد وادی کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے ، ذاکر موسی کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی پوری وادی کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں جس میں پلوامہ،رتنی پورہ ،ترال اور شوپیان اور نور پورہ میں نوجوانوں نے مساجد میں لاوڈ سپیکروں پر ترانے شروع کئے جبکہ ذاکر موسی کے آبائی گاؤں میں رات دیر گئے تک احتجاج کیا گیاجنوبی کشمیر اور سری نگر میں شدید شبانہ احتجاجی مظاہرے ہوئے جس دوران فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، آنسو گیس کی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں درجنوں افراد زخمی ہو گئے جس کے بعد انتظامیہ نے سرینگر ، پلوامہ ، ترال ، اونتی پورہ ، شوپیاں ، اسلام آباد اور بڈگام کے علاقوں میں کرفیو اور پابندیوں کے نفاذ کا اعلان کیا۔بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں زاکر موسی اور اسکے ساتھی کے قتل کے خلاف طلبا کو احتجاج سے روکنے کیلئے پوری وادی کشمیرمیں تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے بارے میں خبریں اور تصاویر سوشل میڈیا پر جاری کرنے سے روکنے کیلئے موبائیل انٹرنیٹ سروس معطل کر دی ۔ کے پی آئی کے مطابق پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کر دی گئی جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر فون سروس بھی بند رہی اور پوری وادی میں جمعہ کو تمام تعلیمی اداروے بند کر دیے گئے۔ادھر سرینگر، پلوامہ ، اسلام آباد، شوپیاں ، کولگام ، بڈگام ، گاندربل ، بانڈی پورہ ، کپواڑہ اور بارہمولہ کے اضلاع میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد کو تعینات کیاگیا ہے ۔دریں اثنا کشمیر یونیورسٹی سرینگراوراسلامی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ نے تمام امتحانات ملتوی کر دیئے ہیں۔ جمعہ کو ترال میں ممتاز مجاہد کمانڈر زاکر موسی کو سپردخاک کر دیا گیا نماز جنازہ میں ہزاروں شہریوں نے شرکت کی اس موقع پر آزادی کے حق اور بھارت مخالف نعرے لگائے گئے۔ جمعہ کو مقبوضہ کشمیر بھر اور خطہ بانہال میں بھی احتجاجی ہڑتال رہی ۔ ہڑتال سے معمولات زندگی درہم برہم ہوکر رہ گئے۔ کسی بھی تنظیم نے ہڑتال کی کال نہیں دی تھی۔ ۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بری طرح سے متاثر رہا بیش پیٹرول پمپ بند دیکھے گئے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس بھی معطل کردی گئی ہے۔ ذاکر موسی نے سنہ 2013 میں انجینئرنگ کی تعلیم ادھوری چھوڑ کر حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ حزب المجاہدین کے شہید کمانڈر برہان مظفر وانی کے قریبی ساتھیوں میں شمار کئے جاتے تھے۔برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد انہوں نے 2017 میں اپنی تنظیم ‘انصار غزو الہند بنالی تھی۔
وائس آف ایشیا23مئی2019 خبر نمبر14

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •