Voice of Asia News

مقبوضہ کشمیر میں مظالم جاری، ذاکر موسیٰ ساتھی سمیت شہید،علاقے میں کرفیو نافذ

سرینگر(وائس آف ایشیا ) بھارتی فوج نے مقبوضہ کشمیر میں داعش کی ذیلی تنظیم سمجھی جانے والی انصار غزوۃ الہند کے سربراہ ذاکر موسیٰ کو ساتھی سمیت شہید کر دیا ہے جس کے بعد علاقے میں کشیدگی اور ہنگامے پھوٹ پڑے جس کے باعث انتظامیہ کو حالات کنٹرول کرنے کیلئے کرفیو نافذکرنا پڑا،واقعہ ترال کے علاقے ڈاڈ سرہ میں پیش آیا،قابض فورسز نے ایک مکان کو بھی دھماکے سے اڑا دیا،علاقے میں ہنگامے پھوٹ پڑے،کرفیو کے باجود لوگوں کا سڑکوں پر نکل کر احتجاج،مساجد سے جہادی ترانے نشر کئے جانے لگے،کشیدگی کے باعث دکانیں،بازار اور تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے،انٹر نیٹ،موبائل اور ریل سروس بھی معطل ،ذاکر رشید بٹ برہان وانی کا قریبی ساتھی تھا جس نے وانی کی شہادت کے بعد حزب المجاہدین کو چھوڑ کر الگ جہادی تنظیم بنالی تھی۔مقبوضہ کشمیر میں بھارتی میڈیا کے مطابق قصبہ ترال کے علاقے ڈاڈ سرہ کی بستی باٹی پورہ میں محاصرہ کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں انصارغزو الہند سربراہ ذاکر موسی جاں بحق ہوئے جبکہ رات دیر گئے تک یہاں فائرنگ کا تبادلہ جاری تھا۔ذاکر موسی کی ہلاکت کی خبرپھیلنے کے ساتھ ہی جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں کے مساجد میں نوجوانوں نے ترانے لاوڈا سپیکر وں پر ترانے شروع کئے اور کئی علاقوں میں شدید ترین جھڑپیں ہورہی تھیں ۔ادھر انتظامیہ نے امن قانون کی صورت حال کو برقرار رکھنے کے لئے پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کردی اور کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا ۔فورسز کے مطابق جنوبی کشمیر کے قصبہ ترال سے تقریبا5کلو میٹر دور ڈاڈسرہ کے باٹی پورہ بستی کو 42آر آر،176بٹالین سے وابستہ سی آر پی ایف اہلکاروں اور پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ نے جمعرات کی شام 6بجے کے قریب محاصرے میں لے کر گھر گھر تلاشی کارروائی شروع کی۔اس دوران جب فورسز کی تلاشی پارٹی مدثر احمد گانگو داماد غلام محی لدین راتھرکے مکان کے صحن میں داخل ہوئے تو مکان میں موجود جنگجوؤں نے فورسز پارٹی پر فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی جس دوران فورسز نے جوابی حملہ کر کے تمام راستوں کو بند کر کے انہیں فرار ہونے کا موقعے نہیں دیاجس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان گولیوں کا شدید تبادلہ ہوا۔اس دوران غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جھڑپ میں انصار غز الہند کے چیف ذاکر رشید بٹ ولد عبد الرشید بٹ ساکن نور پورہ ترال ایک ساتھی سمیت شہید ہو گیا۔موسیٰ کے ساتھ مارے جانے والے دوسرے نوجوان کی شناخت کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا گیا۔ بھارتی فورسز نے ایک مکان کو بھی دھماکے سے اڑا دیا ۔ جھڑپ کے دوران ہی جہاں انتظامیہ نے پوری وادی میں انٹرنیٹ سروس بند کی وہیں جنوبی کشمیر میں کئی مقامات پر فون سروس پر بھی روک لگائی گئی اور پوری وادی میں جمعہ کو تمام تعلیمی اداروں میں کام کاج بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اس دوران ذاکر موسی کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی پوری وادی کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے اکثر علاقوں جس میں پلوامہ،رتنی پورہ ،ترال اور شوپیان اور نور پورہ میں نوجوانوں نے مساجد میں لاوڈ سپیکروں پر جہادی ترانے شروع کئے جبکہ ذاکر موسی کے آبائی گاؤں میں رات دیر گئے تک لوگ احتجاج کر رہے تھے۔علاقے میں ہنگامے پھوٹنے اور کشیدگی کے باعث بھارتی فوج نے کئی علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا اس کے باجود لوگ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کر رہے تھے۔آخری اطلاعات تک بھارتی فوج نے شہدا کی لاشیں قبضے میں لے رکھی تھیں ۔علاقے میں دکانیں اور بازار بند جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب تھی ۔قابل ذکر بات یہ ہے مزکورہ خبر کی اطلاع ملنے کے ساتھ ہی کئی اعلی سابق و موجودہ پولیس اور فورسز افسران نے اس کامیابی پرفورسز کو مبارک باد پیش کی ہے ۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج اور فورسز نے جمعرات کی شام کو ڈاڈسرہ کے باٹی پورہ میں جنگجوؤں کمانڈ ذاکر موسی کے ساتھی سمیت موجود ہونے کی اطلاع کے بعد محاصرے میں لیا جس دوران طرفین کے درمیان تلاشی کارروائیوں کے ساتھ ہی جھڑپ شروع ہوئی جو آخری اطلات ملنے تک جاری تھی ۔ذاکر موسیٰ کا شمار برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔وہ حزب المجاہدین کا اہم کمانڈر تھا تا ہم بعد میں اس نے حزب سے الگ ہو کر انصار غزوۃ الہند کی بنیاد رکھی تھی جسے وادی میں داعش کی زیلی تنظیم قرار دیا جا رہا تھا۔
وائس آف ایشیا23مئی2019 خبر نمبر19

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •