Voice of Asia News

گوادر کو چاہ بہار سے منسلک کرنے کی تجویز لے کر پاکستان آیا ہوں،ایرانی وزیر خارجہ

 
اسلام آباد( وائس آف ایشیا )ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ وہ گوادر کو چاہ بہار بندرگاہ سے جوڑنے کی تجویز لے کر پاکستان آئے ہیں ۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد جواد ظریف نے ایرانی خبرررساں ادارے ارنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو امریکی جارحانہ حکمتِ عملی کو روکنے کے لیے عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری امریکا کو بالادستی کی پالیسی پر عمل پیرا ہونے سے روکنے میں ناکام ہوگئی تو دنیا کا کنٹرول ان کے ہاتھوں میں چلا جائے گا جو قانون پر یقین نہیں رکھتے۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اور خطے کی ریاستوں کو خطے کی سالمیت کے لیے اپنا فعال کردار ادا کرنا چاہیے خطے کی ریاستوں کو اپنے مفادات کے لیے پابندیوں کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔ان کامزید کہنا تھا کہ ایران پاکستان کے مضبوط تعلقات کا خواہاں ہے، اور اپنے ہمسایوں کے ساتھ مضبوط تعلقات قائم کرنا ایران کی خارجہ پالسی میں اولین ترجیح رکھتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنا چاہتے ہیں جس کے ذریعے گوادر کو ایران سے لے کر ترکمانستان، قازقستان، آذربائیجان، روس اور ترکی کے ذریعے پوری شمالی راہداری سے منسلک کیا جاسکے گا۔ایرانی وزیر خارجہ سے بتایا کہ وہ حکومت پاکستان کے لیے چاہ بہار کو گوادر سے منسلک کرنے کی تجویز لے کر پاکستان آئے ہیں۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے منصب سنبھالنے کے بعد ایرانی وزیر خارجہ کا یہ تیسرا دورہ پاکستان ہے جبکہ 2013 میں ان کے وزیر خارجہ بننے کے بعد وہ پاکستان کے دورے پر 10ویں مرتبہ آئے ہیں۔
وائس آف ایشیا23مئی2019 خبر نمبر153

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •