Voice of Asia News

سیکولرازم کے لبادھے سے ایک بار پھرہندو ازم برآمد:محمد قیصر چوہان

بتوں اور گؤماتا کے پجاریوں کی سرزمین بھارت کے معروف شہر گجرات کے ریلوے اسٹیشن پر کچھ دیر کیلئے ٹھہرنے والی گاڑیوں کی بوگیوں کے سامنے ’’چائے گرم، چائے گرم‘‘ کی بلند آواز میں پھیری لگانے والا بابائے قوم مہاتما گاندھی کی قاتل راشٹریا سوام سیوک سنگھ میں شامل ہو کر اس کی ذیلی تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کا کارکن اور بعدازاں اس کا رہنما بن کر جب گجرات کا وزیراعلیٰ بنا تو اس نے 2002 میں گجرات کے بے گناہ مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل کر متعصب ہندو اکثریت کی حمایت حاصل کی پھر اسی حمایت کے سہارے اور غریبوں کا خون چوسنے والے سودخور ساہو کاروں کی حرام کی کمائی سے 2013 میں بھارت کے الیکشن میں حصہ لیا۔ تو ان انتخابات میں سیکولرازم کے لبادھے سے جب ہندو ازم برآمد ہوا تو گجراتی مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی پہلی مرتبہ بھارتی وزیراعظم بنا، اس کے بعد سے دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی سفاکی اور تنگ نظری پوری دُنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی اور بھارت میں جنونی ہندوؤں کی انتہا پسندی عروج پر جا پہنچ ، نریندر مودی کے دورہ اقتدار میں پڑوسی ملک میں ایسے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں جنہوں نے بھارتی جمہوریت کے گھناؤنے چہرے کو دُنیا کے سامنے بے نقاب کیا اور گؤ ماتا کے پجاری انتہا پسندوں نے سیکولرازم کے دعوؤں کی بھی قلعی کھول دی تھی۔
اب 2019 میں بھارت میں ہونے والے بھارت کے پارلیمانی انتخابات میں دہشت گرد ی کے عالمی چمپئن امریکا اور اسرائیل کی مدد سے امن کے دُشمن ’’ نریندر مودی‘‘ کو دوبارہ پردھان منتری منتخب کرلیا گیا ہے۔ بھارت میں 29 ریاستوں، دارالحکومت دہلی اور مرکز کے تحت چلنے والے 6 علاقوں کی 542 نشستوں پر مشتمل لوک سبھا (ایوان زیریں ) کے انتخابات ہوئے اور غیر حتمی نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی کی نفرت آمیز انتہا پسندانہ پالیسیوں اور چال بازیوں کا سحرجنونی ہندوؤں پر تاحال قائم ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق لوک سبھا کی 543 میں سے 542 نشستوں پر ہونے والے انتخابات کی ووٹنگ مکمل کرلی گئی جس میں انفرادی طور پر بھارتیہ جنتا پارٹی نے 300، کانگریس نے 52، اے ڈی ایم کے نے 23، شیو سینا 18 اور دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں نے 102 نشستیں حاصل کیں۔غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق بھارتیہ جنتا پارٹی کے اتحاد ’’ نیشنل ڈیمو کریٹک الائنس ‘‘ نے 345 نشستیں حاصل کیں جس کے مقابلے میں انڈین نیشنل کانگریس کے اتحاد ’’یونائٹیڈ پروگریسیو الائنس ‘‘نے 94 نشستیں حاصل کیں۔حکومت بنانے کیلئے کسی بھی جماعت کو 272 نشستیں درکار ہوتی ہیں اور بی جے پی نے انفرادی طور پر مطلوبہ تعداد سے زیادہ 300 نشستیں حاصل کرلیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے باضابطہ اعلان کے بعد بی جے پی باآسانی مسلسل دوسری مرتبہ حکومت بنانے میں کامیاب ہوجائے گی۔انتہا پسند اور تنگ نظر مودی کا ٹولہ پھر سے اقتدار میں آ گیا ہے۔ مسلمانوں سمیت دوسری اقلیتوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم اور نہتے عوام بھی خوفزدہ ہیں کہ ان پر ظلم و ستم کی مزید نئی نئی کہانیاں لکھی جائیں گی۔بھارت میں ایک بار پھر اقتدار ،انتہا پسند اور تشدد پر یقین رکھنے والی مودی سرکار کے ہاتھوں میں آگیا ہے جہاں پھرخوف اور دہشت کی وہ کہانیاں لکھی جائیں گی جنہیں سن کر ہی روح کانپ جائے۔مسلمانوں پر بھی زمین مزید تنگ کی جائے گی اور ان کے خلاف گھیرا تنگ کیا جائے گا۔نفرت اور تعصب کی دیوار اور بلند کی جائے گی۔ گاؤں رکھشک کے نام پر بے قصور اور نہتے مسلمانوں کا خون بہایا جائے گا۔ان کی املاک کو نقصان پہنچایا جائے گا،مودی سرکار اب مسلمانوں پردروازے بندکرے گی اوربنگلہ دیش یا میانمار سے آئے پناہ گزینوں کو ملک سے باہر نکال پھینکے گی۔ریاستی دہشت گردی کا بدترین مظاہرہ مقبوضہ کشمیر میں بھی دیکھنے کو ملے گا چادر اور چار دیواری کا تقدس مودی کے درندہ بنے اہلکار پامال کریں گے۔جعلی آپریشن کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو بے دردی سے شہیدکیاجائے گا۔صرف ایک بھارتی مسلمان ہی نہیں دوسری اقلیت بھی عجیب و غریب خوف و ہراس کا شکار ہے۔بھارت میں رہنے والے مسلمان اور عیسائی سہمے ہوئے ہیں کہ بھارتیا جنتا پارٹی کے غنڈے اب ان کی عبادت گاہوں پر حملے کریں گے۔ ظلم اور بربریت کا وہ سورج طلوع ہوگا جو مودی کے اقتدار سے رخصت ہونے پر ہی غروب ہو گا۔
نریندرمودی کے دوبارہ وزیر اعظم منتخب ہونے پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ سیکولرازم ہار گیا اور ہندوتوا جیت گیا۔ دو قومی نظریہ سچ ثابت ہوگیا کہ بھارت میں ہندو اکثریت مسلمانوں کو ختم کردینے پر یقین رکھتی ہے۔ مودی کا پورا کیریئر ہی اسلام اور مسلمان دشمنی پر مبنی ہے اس لئے نریندر مودی کے دوبارہ انتخاب پر پورے بھارت میں مسلمانوں سمیت تمام اقلیتوں میں دہشت کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اب ہر جگہ گجرات کے فسادات اور سمجھوتا ایکسپریس میں دھماکے جیسے واقعات کے اندیشے ظاہر کئے جارہے ہیں۔مودی کے برسراقتدار آنے کے سے بھارت میں شدت پسندی اپنے عروج پر رہی۔ بی جے پی کے سورما نئی فتح کے بعد اب مزید بے قابو ہوجائیں گے جس کا نتیجہ بھارت میں اقلیتوں کے جان و مال کی تباہی کی صورت میں نکلے گا۔ بھارت میں رہنے والی اقلیتوں کے ساتھ پاکستان کو بھی اب چوکنا رہنا پڑے گا کہ بھارت کسی بھی وقت پاکستان میں کوئی مہم جوئی کرسکتا ہے۔ پلوامہ کے بعد سے پاکستان اور بھارت میں تناؤپہلے ہی موجود ہے۔ اندیشہ ہے کہ اس تناؤمیں اب اضافہ ہی ہوگا۔ گو کہ مودی کے جیتنے کے بعدپاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے مودی کے نام مبارکباد کے اپنے پیغام میں جنوبی ایشیا میں آگے بڑھنے اور مل کر کام کرنے کی خواہش کا اعادہ کیا ہے تاہم اس کی اُمیدیں انتہائی کم ہیں۔امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں بھارت اور افغانستان کی پاکستان میں در اندازی کے خطرے کے اندیشے ظاہرکئے جارہے ہیں۔ مودی کے دوبارہ انتخاب سے یہ اندیشے مزید قوی ہوگئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان فوجی طور سے تیار رہنے کے ساتھ ساتھ سفارتی سطح پر بھی متحرک ہوجائے اور دنیا کو بھارت کی بدمعاشی سے آگاہ کیا جائے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہے کہ مصداق پیش بندی کرلی جائے تو بہتر ہوگا۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •