Voice of Asia News

پاکستان کو ترقی یافتہ بنانے میں جاپان اپنا کردار ادا کر ر ہا ہے بلوچستان میں مقیم جاپان کے اعزازی قونصل جنرل سید ندیم عالم شاہ کا خصوصی انٹرویو محمد قیصر چوہان محمد جمیل بھٹی

کسی بھی زمانے میں دوستوں کی اہمیت سے انکار نہیں کیا گیا۔ ہر دور کا انسان ایک مخلص اور سچا دوست چاہتا ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں مخلص دوست کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔پاکستان اس حوالے سے خوش قسمت ملک ہے کہ اس کو چڑھتے سورج کی سرزمین جاپان جیسے جدید اور ترقی یافتہ ملک سے دوستی کا شرف حاصل ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا۔جاپان کی حکومت نے پاکستان میں بزنس کیمونٹی سمیت دیگر لوگوں سے اچھے تعلقات استوار کرنے کیلئے اعزازی قونصلر جنرل تعینات کئے ہیں انہی میں سے ایک سید ندیم عالم شاہ صاحب بھی ہیں۔جو2000 ء سے بلوچستان میں جاپان کے اعزازی قونصل جنرل کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔سید ندیم شاہ کو جاپان اور پاکستان کے مابین دوستانہ تعلقات کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے، کوئٹہ میں جاپانی شہریوں کی مدد اور بلوچستان میں جاپانی کلچر کو فروغ دینے میں نمایاں کردار ادا کرنے پر جاپان کی حکومت نے غیر ملکیوں کو دیا جانے والا سب سے بڑا سول ایوارڈ ’’دی آرڈر آف رائزنگ سن‘‘ سے نوازا ہے۔ گزشتہ دنوں نمائندہ’ ’ وائس آف ایشیا‘‘نے پاک جاپان دوستی کو فروغ دینے میں اہم ترین کردار ادا کرنے والے سید ندیم عالم شاہ سے ان کی رہائش گاہ پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا۔ اس دوران ہونے والی گفتگو قارئین کی خدمت میں حاضر ہے۔
سوال: سب سے پہلے تو آپ یہ بتائیں کہ جاپان حکومت کا بنیادی مشن کیا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:جاپان انسانیت کی بے لوث خدمت کے مشن پر گامزن ہے۔ جاپان حکومت نے غریب ممالک میں عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر اربوں، کھربوں ڈالر خرچ کئے ہیں۔ جاپان کا مشن دُنیا بھر میں امن کو فروغ دینا ہے اس مشن کو پورا کرنے کیلئے وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور اس پر بھاری رقم بھی خرچ کر رہا ہے۔ جاپان کی حکومت اپنے عوام کے ٹیکس سے غریب ممالک کے عوام کی فلاح و بہبود کے منصوبے مکمل کرتی ہے۔ مختلف طریقوں سے امداد کرتی ہے ۔جاپان کی حکومت جو رقم عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کرتی ہے اس کو بہت محتاط انداز سے مانیٹر بھی کرتی ہے کیونکہ جاپانی حکومت اس بارے میں اپنی پارلیمنٹ کو جواب بھی دیتی ہے۔
سوال:پاکستان اور جاپان کے تعلقات کس نوعیت کے ہیں اور یہ بھی بتائیں کہ جاپان نے پاکستان کی کن شعبوں میں مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان پاکستان کا دیرینہ اور مخلص ترین دوست ہے۔ جاپان کی حکومت اور عوام اپنے برادر ملک پاکستان سے بے پناہ پیار کرتے ہیں جبکہ جاپان نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے اور ہمیشہ دیتا رہے گا۔ جاپان اور پاکستان کے درمیان دوستی کو 66سال کا طویل عرصہ ہوچکا ہے۔ جاپان حکومت کسی بھی ملک میں اپنی جاپانی تنظیم ،جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے ذریعے فلاحی منصوبے مکمل کرتا ہے۔جاپانی حکومت کاجائیکا کے ذریعے پاکستان کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے کیا جانے والا کام دونوں ملکوں کی دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔پاکستان میں سیاسی اور معاشی استحکام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری بین الاقومی برادری کیلئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔جاپان حکومت نے کولمبو پلان کی روشنی میں اپنی تنظیم برائے بین الاقوامی تعاون ،جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے ذریعے تکنیکی تربیت فراہم کرتے ہوئے 1954 میں پاکستان میں سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) کا آغاز کیاتھا جبکہ پہلا جاپانی سرکاری ترقیاتی امداد کا قرض 1961 میں دیا گیا اور 1970 میں امدادی گرانٹ پیش کی گئی ۔2011میں، جاپان کے تیکنیکی تعاون کی مجموعی رقم 46.4 ارب ین کے قریب تھی بعد ازاں اس میں مزید اضافہ کیا گیا ۔ جبکہ جاپان نے 5000 سے زائد تربیت کنندگان کو جاپان بھجوایا، اور 1200 سے زائد ماہرین جاپانی علم اور تجربے کا تبادلہ کرنے کیلئے پاکستان بھجوائے جاچکے ہیں۔ اسلام آباد میں قائم کئے گئے ’’ماں اور بچے کی صحت کا مرکز‘‘ اور ’’اسلام آباد چلڈرن ہسپتال‘‘امدادی تعاون کے قابل ذکر اثاثے ہیں۔جاپان نے وسائل آمدورفت اور توانائی جیسے شعبوں میں جاپانی قرضوں کے ذریعے پاکستان میں ترقیاتی ڈھانچے کی شکیل میں تعاون کیا ہے۔ ان ترقیاتی کاموں میں ’’انڈس ہائی وے پراجیکٹ‘‘ خاص طور پر دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی ایک علامت ہے۔ پاکستان کو 1961 سے دئیے جانے والے قرضوں کی مجموعی مالیت 2011 میں 976 ارب ین کے قریب پہنچ چکی ہے۔ جاپان حکومت اپنی تنظیم برائے بین الاقوامی تعاون ، جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے ذریعے 1954ء سے حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستانی عوام کے مستقبل کو ترقی پسندانہ اور درخشاں بنانے کیلئے کام کر رہی ہے۔جائیکا جاپان کی سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) کے اطلاق کا ذمہ دار ہونے کی وجہ سے، صحت، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت، بجلی، پانی اور حفظان صحت، ذرائع آمدورفت، صنعتی ترقی، زراعت اور آفت کے خطرے سے نمٹنے جیسے شعبوں میں بہت سے منصوبے مکمل کرچکاہے اور کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی ( جائیکا) کے پاکستان میں نمائندہ خصوصی مٹسویوشی کا واساکی ہیں نے پاکستان میں ترقیاتی ڈھانچے کی تشکیل میں جو کردار ادا کیا ہے وہ ہمیشہ سنہری حروف میں لکھا جائے گا۔تعلیم کے فروغ اور امن کے قیام کیلئے جاپانی حکومت نے پاکستان کی بے پناہ مدد کی ہے۔ اس کے علاوہ پاکستان میں توانائی بحران کو مد نظر رکھتے ہوئے جاپانی حکومت نے پاور سیکٹر میں بھی پاکستان کی بہت زیادہ مدد کی ہے۔ جاپان کی حکومت نے پاکستان کو توانائی کے بحران سے نجات دلانے کیلئے سولر انجری پراجیکٹ متعارف کرایا ہے۔ سولر انجری کا پراجیکٹ شاندار طریقے سے چل رہا ہے اس سولر انرجی سسٹم کی سپلائی آن گریڈ ہے۔ سولر انرجی کا پراجیکٹ پاکستان انجینئرنگ کونسل اور پلاننگ کمیشن کے ساتھ جاپانی انجینئرز کا پاک جاپان دوستی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ کوہاٹ ٹنل کا منصوبہ بھی جاپان حکومت اور انجینئرنگ کا ایک شاہکار ہے۔
سوال:پاکستان میں انسانی تحفظ اور سماجی ومعاشی ڈھانچے کی بہتری کیلئے جاپان نے کیا اقدامات کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: ایک چوتھائی پاکستانی آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے ۔جس وجی سے ملک کیلئے ایک بڑی سطح پر ترقیاتی کام درکار ہیں۔غربت سمیت دیگر مسائل کو حل کرنے سے پاکستان کو مستحکم ہو گا بلکہ بین الاقوامی برادری میں پاکستان کا وقار بلند ہوگا۔1954 میں آغاز سے لے کر پاکستان کو اس کی ایک ’’معتدل اور جدید مسلم ریاست‘‘ میں تشکیل کیلئے جاپان سے ایک قابل ذکر امداد حاصل ہوئی ہے ۔تعاون کی بنیادی پالیسی معاشی نشوونماء کے ذریعے ایک مستحکم اور دیرپا معاشرے کی تعمیرہے۔اُمید کی جاتی ہے کہ 2050 میں پاکستان، آبادی کے لحاظ سے دنیا کا چوتھا بڑا ملک ہوگا۔ لہٰذا پاکستان کیلئے یہ بات ناگزیر ہے کہ وہ اپنے معاشی حالات کے استحکام کو قائم رکھتے ہوئے نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نشودنماء کے حصول کیلئے ایک مستحکم اور دیرپا معاشرہ تعمیر کرے۔ اس ہدف کے حصول کیلئے، جاپان نے درج ذیل تین ترجیحی شعبے طے کئے ہیں۔جن میں معاشی ڈھانچے کی بہتری،انسانی تحفظ اور سماجی ڈھانچے کی بہتری کو یقینی بنانا،متوازن اور مربوط علاقائی ترقی بشمول سرحدی علاقے شامل ہیں ۔معاشی ڈھانچے کی بہتری کیلئے ۔جاپان بجلی کی فراہمی کا ایک موثر اور دیرپا نظام قائم کرتے ہوئے بجلی شدید کمی پر قابو پانے کیلئے پاکستان کی مدد کرنے کا کواہش مند ہے۔ علاوہ ازیں، جاپان موثر، مقامی اور بین الاقوامی رابطے کی صلاحیت کیلئے ذرائع مواصلات کے ڈھانچے؛ غربت میں کمی؛ زرعی اجناس کی پیداوار میں بہتری اور سرمایہ کاری کی فضا اور برآمدات کے فروغ سمیت صنعتی شعبے کی مضبوطی کیلئے تعاون فراہم کرتا ہے ۔انسانی تحفظ اور سماجی ڈھانچے کی بہتری کو یقینی بنانے کیلئے ۔جاپان، پاکستان کو بنیادی تعلیم میں تعاون فراہم کرے گا، خصوصاً تکنیکی تعلیم میں تعاون فراہم کیا جائے گا تاکہ ملازمت اور معاشی نشودنماء کے مواقع پیدا کیے جاسکیں۔ علاوہ ازیں، پانی اور حفظان صحت کے خصوصاً شہری علاقوں میں خراب حالات، پولیو کے خاتمے کے پروگراموں سمیت کمیونٹیوں میں صحت کی خدمات میں بہتری؛ اور وقفے وقفے سے قدرتی آفات کے جواب میں آفات کا مقابلہ کرنے کی استعداد کو مضبوط بنانے کیلئے تعاون فراہم کیا جارہا ہے۔ جبکہ متوازن اور مربوط علاقائی ترقی بشمول سرحدی علاقوں کے حوالے سے ۔پاکستان، افغانستان کے سرحدی خطے کے استحکام میں بہتری لانے کیلئے، جاپان متاثرہ علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے تعاون فراہم کرنے کا خواہش مند ہے۔ علاوہ ازیں، پورے جنوبی ایشیائی خطے کو مستحکم کرنے کیلئے یہ پاکستان کے اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ تجارتی اور معاشی تعاون میں اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ جاپان خطے میں موجود تضادات کی وجہ سے پیدا ہونے والی سماجی بے چینی سے دور رکھنے کیلئے ترقی پذیر خطوں کو بھی تعاون فراہم کررہا ہے ۔جائیکا عالمی ایجنڈے پر عمل کرتے ہوئے جاپان کے سرکاری ترقیاتی امداد کا اطلاق کررہا ہے۔ اس ایجنڈے کا مقصد مساوی نشوونماء کے ذریعے غربت کو کم کرنااور حکمرانی کو بہتر کرنا ہے تاکہ انسان کو تحفظ حاصل ہوسکے۔1965میں ’’جاپان اوورسیز کوآپریشن والنٹیئرز‘‘ کے نام سے جاپانی سرکاری ترقیاتی امداد کی چھتری تلے رضا کار پروگرام کا آغاز کیا گیا۔ اس پروگرام کے تحت جاپانی رضا کار بھرتی کئے جاتے ہیں اور نچلی سطحوں پر تکنیکی معلومات اور تجربے کی منتقلی اور تبادلے کیلئے انہیں ترقی پذیر ممالک میں بھجوایا جاتا ہے۔ یہ رضا کار عام طور پر دو سال تک ترقی پذیر ملکوں میں مقامی لوگوں کے ساتھ رہتے ہوئے کام کرتے ہیں۔جائیکا رضا کارپروگرام کے تحت دو بڑی اسکیمیں ہیں۔جاپان اوورسیز کو آپریشن والنٹیئرز۔جاپان اوورسیز کو آپریشن والنٹیئرز کے رضا کار 20سے 39 سال تک کی عمر کے جاپانی نوجوان ہوتے ہیں۔ یہ مختلف شعبوں میں تربیت یافتہ اور کوالیفائیڈ رپوفیشنلز ہوتے ہیں جو میزبان تنظیموں کی ضروریات پوری کرنے کیلئے مقامی سطح پر کام کرتے ہیں۔ جائیکا کی طرف سے جاپان اوورسیز کو آپریشن والنٹیئرز کو پاکستان میں 1995ء میں وسعت دی گئی اور صحت و آگاہی، خواندگی و تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، ووکیشنل ٹریننگ، زراعت، کھیلوں ، کمیونٹی ڈیولپمنٹ اور سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے شعبوں میں اب تک 150 سے زیادہ رضا کار کام کرچکے ہیں۔سینئروالنٹیئرز۔سینئر والنٹیئرپروگرام ایسی اسکیم ہے جو درمیانی عمر کے افراد کیلئے مخصوص ہے جو ترقی پذیر ممالک میں تکنیکی تعاون سے متعلق سرگرمیوں میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور تجربے کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں۔ اس اسکیم کے تحت بے پایاں صلاحیتوں اور بیش بہا پیشہ وارانہ تجربے کے حامل 40 سے 69 سال تک کی عمر کے افراد بھرتی کئے جاتے ہیں۔ جائیکا نے سینئر والنٹیئرز کو پاکستان بھیجنے کا آغاز 2001ء میں کیا اور اب تک 50 سے زیادہ سینئر والنٹیئرز پاکستان میں سائنس و ریاضی، تعلیم، انفارمیشن ٹیکنالوجی، جاپانی زبان، سیاحت، صنعتی شعبے (ٹیکسٹائل اور آٹو موبائل) کے شعبوں میں اپنی خدمات فراہم کرچکے ہیں۔
سوال: یہ بتائیں کہ جاپان نے بلوچستان میں عوام کی فلاح و بہبود کیلئے کون سے پراجیکٹ مکمل کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان نے کاؤنٹرر ویلیو فنڈز کے طریقہ کار کے تحت بلوچستان کے غریب عوام کی فلاح و بہبود کے کئی منصوبے مکمل کئے۔ غریب فشر مین کو زندگی کی بنیادی ضروری اشیاء کیلئے جاپان حکومت نے 800 ملین روپے کاؤنٹر ویلیو فنڈز کے ذریعے پسنی فش ہاربر ڈیپارٹمنٹ کو ٹرانسفر کئے۔ اسی طرح بلوچستان میں غریبوں کے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کیلئے 200 سکول تعمیر کئے گئے۔ صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی کافی کام کیاگیا۔ ساڑھے تین سو کے قریب بلڈوزر بھی دیئے گئے۔ بلوچستان میں چونکہ بارشیں کم ہوتی ہیں اس لیے وہاں پر پانی زمین کے کافی نیچے ہے۔ اس لیے وہاں پر ڈرلنگ کیلئے 22 سے زائد ڈرلنگ مشینیں دی گئیں۔ بولان میڈیکل کالج کی بھی امداد کی گئی۔ اس کے علاوہ بلوچستان یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اینڈ منیجمنٹ سائنسز میں اندرون ملک تربیت اور آلات کی فراہمی،گرڈ سسٹم آپریشن اور دیکھ بھال پر تربیتی استعداد کی بہتری کیلئے منصوبہ ،قومی آفت سے نمٹنے کے منصوبے کیلئے منصوبہ، ایئرپورٹ سکیورٹی کی بہتری کا منصوبہ،پاکستان میں پولیو وائرس پر قابو پانے اور خاتمے کیلئے منصوبہ، سیلاب کی وارننگ اور انتقامی استعداد کی اسٹریٹیجک مضبوطی،قومی ٹرانسمیشن لائنز اور گرڈ اسٹیشنز کی مضبوطی کا منصوبہ، پولیو کے خاتمے کا منصوبہ ، دادو۔ خضدار ٹرانسمیشن سسٹم منصوبہ،(LA) مشرقی۔ مغربی سڑک کی بہتری کا منصوبہ،انڈس ہائی وے کی تعمیر کا منصوبہ شامل ہے۔
سوال: جاپانی حکومت کس پالیسی کے تحت پاکستان کی امداد کرتی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: حکومت جاپان کی پالیسی کے تحت، جائیکا پاکستانی حکومت کی جانب سے کی جانی والی درخواستوں پر مبنی سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) فراہم کرتا ہے۔ جائیکا کی جانب سے منظم کی جانے والی سرکاری ترقیاتی امداد (او ڈی اے) کی تین اقسام میں درجہ بندی کی گئی ہے جس میں تکنیکی تعاون،امدادی گرانٹ اور اوڈی اے قرضہ جات شامل ہیں۔تکنیکی تعاون ۔تکنیکی تعاون استعداد کی تشکیل پر توجہ دیتا ہے۔ جاپانی علم اور تجربے کو پاکستانی عوام کو منتقلی کیلئے جاپانی ماہرین کو پاکستان کیلئے روانہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ، پاکستان کے سرکاری اہلکاروں کو تربیت فراہم کی جاتی ہے۔ تکنیکی تعاون کو اس طرح ترتیب دیا گیا ہے کہ لوگ خود انحصاری، اور اپنے مسائل خود اپنی کوششوں کے ذریعے سے حل کرسکیں۔امدادی گرانٹ،امدادی گرانٹ، صحت، تعلیم، پانی کی فراہمی کے منصوبوں وغیرہ سمیت بہت سے شعبوں میں ترقیاتی منصوبوں اور سماجی شعبے کیلئے مالی تعاون ہے۔ یہ رقم کی واپسی کی ذمہ داری کے بغیر ایک تعاون ہے۔اوڈی اے قرضہ جات ۔جاپان کا اوڈی اے قرضہ نرم شرائط پر دیا جاتا ہے، اور سود کی کم شرح اور اس کی خاصیت ادائیگی کیلئے لمبا عرصہ اس قرضے کی خاصیت ہے۔ او ڈی اے کے قرضے زیادہ بنیادی، معاشی اور سماجی اساس کے ایسے منصوبوں کو دیئے جاتے ہیں جو پاکستان کی قومی ترقی کیلئے ناگزیر حیثیت کے حامل ہیں۔ اس طرح یہ قرضہ ’’معاشی افزائش‘‘ اور ’’استعداد اور ادارہ سازی‘‘ کے ذریعے غربت میں کمی میں مدد دیتا ہے۔
سوال: پاکستان میں توانائی کے بحران پر قابوپانے کیلئے جاپان نے پاکستان کی کیا مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:جاپان حکومت نے جائیکاکے ذریعے پاکستان میں جاری توانائی بحران کے خاتے کیلئے کافی سارے اقدامات کئے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق، پاکستان میں بجلی کا شدید بحران ملک کی سالانہ گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) کے 3.0-2.5 فی صد کے نقصان کا ذمہ دار ہے۔ بجلی کی کمی کے علاوہ، شعبے کو جن اہم مسائل کا سامنا ہے ان میں بجلی کی مہنگی پیداوار اور ٹرانسمیشن اور تقسیم کاری نظام کی انتظامی نااہلی شامل ہیں، جنہیں درست کرنے کیلئے جاپان جہد مسلسل کے طور پر پاکستان کے ساتھ تعاون کررہا ہے۔گزشتہ تین عشروں کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ جائیکا نے بن قاسم، کراچی،جام شورو، حیدرآباد اور غازی بروتھا ہائیدرو پاور پراجیکٹ سمیت بجلی کے پیداواری منصوبوں میں پاکستان کی مدد کی ہے۔ بجلی تقسیم کاری کے نقصانات میں کمی کیلئے، جائیکا نے قومی ٹرانسمیشن اور ڈسپیچ کمپنی (این ٹی ڈی سی) کی 12 نئے گرڈ اسٹیشن 1487 کلو میٹر لمبی تقسیم کاری لائنز تعمیر کرتے ہوئے اور تربیتی سہولتوں کو اپ گریڈ کرتے ہوئے گرڈ نظام کو پھیلانے میں مدد کی ہے۔ تاریخ میں پہلی مرتبہ، بجلی کے قومی کنٹرول سسٹم کو کامیابی کے ساتھ انالاگ سے ڈیجیٹل نظام میں تبدیل کیا گیا ہے جو اس شعبے میں گورننس کو بہتر کرنے میں مدد دے گا۔ بجلی کی تقسیم کاری میں، جائیکا نے پاکستان کے طول و عرض میں 6000 سے زائد دیہاتوں کو بجلی کی فراہمی میں ایک بڑا کردار ادا کیا ہے۔جائیکا ایک موثر اور دیر پا بجلی فراہمی کا نظام قائم کرنے میں تعاون کا ارادہ رکھتا ہے کیونکہ بجلی کی شدید کمی پاکستان میں سماجی استحکام اور معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
سوال: جاپان حکومت صنعتی ترقی کیلئے پاکستان کے ساتھ کیا تعاون کر رہی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: پاکستان میں تقابلی صنعتی بنیاد اور بہتر سرمایہ کاری کی آب و ہوا کو یقینی بنانے کیلئے بھی جائیکااپنا کردار ادا کر رہا ہے۔غربت کے خاتمے اور لوگوں کو زندگی کے اعلیٰ معیار سے لطف اندوز ہونے کے قابل بنانے کیلئے ضروری ہے کہ پاکستان میں صنعتی ترقی اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) پر توجہ دی جائے۔ پاکستان کو بچت، سرمایہ کاری میں خلا کا سامنا ہے اور (ایف ڈی آئی) اس خلا کو پُر کرتے ہوئے معاشی نشوونماء کے عمل پر اثر انداز ہوتی ہے جو صنعتی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی سرگرمیوں کا گڑھ ہونے کے ناطے کراچی سے یہ امیدیں وابستہ ہیں کہ وہ پاکستان کی بے پناہ معاشی نشوونماء میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔جائیکا چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ای)، خصوصاً آٹو موبائل شعبے کو تکنیکی تعاون فراہم کرنے کے علاوہ صنعت، تجارت اور سرمایہ کاری کیلئے پالیسی سازی میں مدد کیلئے کردار ادا کررہا ہے۔ جائیکا سرکاری اور نجی شعبے میں متعلقین کی استعداد سازی میں اضافہ کرنے، اور مارکیٹ کی توجہ حاصل کرنے کیلئے مقامی صنعت کے ساتھ تعاون کے طور پر جدید ٹیکنالوجی منتقل کرنے کا خواہش مند ہے چونکہ پاکستان میں ہموار (ایف ڈی آئی) کے داخلے دیر پا معاشی نشوونما کو یقینی بنانے کیلئے قومی پیداوار میں اضافہ اور مارکیٹ کا پھیلاؤ پر توجہ مرکوز ہے۔ جائیکا کی مدد سے، جاپان کی صارف مارکیٹ کو تاریخ میں پہلی مرتبہ پاکستانی آموں کیلئے کھولا گیا تھا۔جائیکا نے فرسٹ مائکرو فنانس بینک آف پاکستان (ایف ایم ایف پی) کے ساتھ مل کر غریب اور کم آمدنی رکھنے والے کاشتکاروں،چھوٹے پیمانے کے کاروباری منتظمین اور پاکستان کے دیگر شہریوں کو اپنی آمدنی میں اضافہ کرنے اور زندگی کا معیار بہتر بنانے کیلئے خدمات فراہم کرنے کا کام شروع کیا۔
سوال: پاکستان میں ذرائع آمد ورفعت کو بہتر حوالے سے جاپان حکومت نے کیا اقدامات کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ:جائیکا آمدورفت کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کیلئے مختلف ممالک کے ساتھ بھرپور تعاون کرتا ہے ۔وسائل آمدورفت معیشت کا ایک اہم شعبہ ہے جو جی ڈی پی میں اپنا 10 فی صد اور گراس کیپیٹل فارمیشن میں 17 فی صد سے زائد حصہ ڈالتا ہے۔ برسوں پرانی سڑکوں کے نیٹ ورک اور نئی شاہراہوں اور موٹرویز کی اس میں شمولیت کے باوجود پاکستان کی سڑکوں کے نیٹ ورک کو اب بھی 22کروڑ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی شدید ضروریات کو پورا کرنے کیلئے معیاری وسائل آمدورفت کی خدمات میں کمی کا سامنا ہے، وسائل آمدورفت کے شعبے میں، جاپان کا تعاون سڑکوں اور ریلویز کی شکل میں فراہم کیا گیا ہے۔جائیکا کے تعاون نے انڈس ہائی وے کے 92 فی صد (1024 کلومیٹر میں سے 945 کلومیٹر) حصے کی تعمیر اور بحالی کرتے ہوئے پاکستان کے جنوبی اور شمالی حصوں کو آپس میں منسلک کردیا ہے۔ مزید برآں، انڈس ہائی وے پر تعمیر کی جانے والی پہلی جدید ترین 1.9 کلومیٹر لمبی کوہاٹ سرنگ نے فاصلے کو خاصا کم اور انسانوں اور گاڑیوں کے تحفظ میں اضافہ کردیا ہے۔ پاکستان میں آمدورفت کے مطابق کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے جائیکا نے مختلف منصوبوں کے ذریعے امداد فراہم کی ہے۔پلاننگ کمیشن کے زیر نگرانی قومی تجارتی راہداری کی بہتری کے پروگرام پر عملدرآمد ہورہا ہے جبکہ ترقیاتی شراکت دار اس پروگرام میں معاونت کررہے ہیں۔ قومی تجارتی راہداری کی ترقی کا مقصد کراچی سے پشاور تک شاہراہ کو مستحکم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے کاروباری نقل و حمل پراٹھنے والے اخراجات کوم کم کرنا ہے۔ انڈس ہائی وے منصوبہ کے تحت اضافہ کیرج وے کی تعمیر قومی تجارتی راہداری کی ترقی کا لازمی حصہ ہوگی۔ انڈس ہائی وے کی بحالی سے کراچی اور پشاور کے درمیان فاصلہ نیشنل ہائی وے کی روایتی مین روٹ کے مقابلے میں 500 کلومیٹر کم ہوکر رہ جائے گا۔ کوہاٹ ٹنل سرکاری ترقیاتی امداد کے قرضے کے تحت شروع کیا جانے والا منصوبہ درہ کوہاٹ کیلئے ایک متبادل روٹ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس منصوبے کا مقصد سفر کیلئے فاصلے کو کم کرنا، ٹریفک جام کا خاتمہ کرنا اور وڈسیفٹی کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ صوبہ سندھ میں دیہی سڑکوں کی تعمیر سے صوبے کے دیہات میں رہنے والی آبادی کی زندگی میں بہتری آنے کا امکان ہے۔ اسلام آباد میں ٹیکنالوجی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (امداد گرانٹ کے تحت منصوبہ) کی تعمیر پاکستان، جاپان دوستی کی ایک زندہ مثال ہے۔ یہ انسٹی ٹیوٹ مؤثر اور جامع تعمیراتی ٹیکنالوجی سے وابستہ تکنیکی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ یہ مواصلات کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیکھ بھال کے لئے معیاری روک فورس کی بھرتی میں وزارت مواصلات کی معاونت کرتا ہے۔دیہاتوں کو شہروں کے ساتھ منسلک کرنے کیلئے کل 1000 کلومیٹر لمبی دیہاتوی سڑکوں تعمیر کی گئی اور بحال کی گئی ہیں تاکہ دیہاتوں میں زندگی گزارنے کا معیار بہتر بنایا جاسکے۔ شہری علاقوں میں بڑھتی ہوئی آبادی اور اس سے منسلک ٹریفک کے دباؤ سے نمٹنے کیلئے، جائیکا نے کراچی اور لاہور میں ٹرانسپورٹ کیلئے ایک مجموعی ماسٹر پلان تشکیل دینے میں مدد کی ہے تاکہ شہری علاقے ایک دیر پا اور منصوبہ بندی کے انداز میں پروان چرھ سکیں اور براہ راست بیرونی سرمایہ کاری کیلئے زیادہ متحرک ہوتے ہوئے انہیں اپنی جانب متوجہ کرسکیں۔
سوال: آبپاشی اور زراعت کے نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے جاپان نے پاکستان کی کیا مدد کی ہے ؟
سید ندیم عالم شاہ:پاکستان میں 70 فی صد آبادی زرعی سرگرمیوں سے منسلک ہے جبکہ زرعی پیداوار کا کم معیار اور فصلوں کا پیداواری عمل غریب گھرانوں کی روزی کو متاثر کررہا ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ، خوراکی تحفظ پاکستان میں ایک تشویش کی شکل اختیار کرتا جارہا ہے جس پر قابو پانے کیلئے طلب اور رسد کے مسائل پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک رسد کا تعلق ہے، ہزارہا چیلنجوں کی وجہ سے آب پاشی کا نظام شدت سے متاثر ہوکر پانی کی کمی اور اس کی غیر موزوں تقسیم کی وجہ بن رہاہے جس کے نتیجے میں زرعی پیداواری عمل کمی کی جانب راغب ہے۔جائیکا پانی کے وسائل کو دیرپا بنیاد پر تشکیل دیتے ہوئے اور شرکتی آب پاشی انتقامی نظام کے ذریعے پانی کے تقسیم کاری نظام کو بہتر کرتے ہوئے زرعی اور آب پاشی کے اثاثوں کی بحالی کیلئے تعاون کررہاہے۔ جائیکا نے پانی کے موثر استعمال کو یقینی بنانے کیلئے آب پاشی کے 53,00 کلومیٹر مختلف نالوں کی بحالی اور حد بندی کا کام کیا ہے جبکہ مویشیوں اور باغات کے شعبے میں تعاون کے ذریعے کاشت کاروں کی روزی اور آمدنی میں بہتری کا مقصد حاصل کرنے کیلئے زرعی اور پرسیسڈ پیداوار کے معیار کی بہتری سمیت ویلیو ایڈیڈ مقامی اشیاء کی تشکیل پر توجہ دی گئی ہے۔اضافی پیداوار اور ویلیوایڈیڈ مقامی پیداوار کی ترقی کیلئے پانی کے وسیلے کا مشترکہ انتظام غربت میں کمی اور بہتر خوراکی تحفظ میں مدد دے گا۔
سوال:تعلیمی نظام کو بہت بنانے میں جاپان نے پاکستان کی کیا مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:جائیکا کے تعلیمی شعبے نے پاکستان میں سرکاری تعلیمی نظام کی مضبوطی کے ایک مشترکہ مقصد کے ساتھ مسائل کی ایک مختلف رینج پر توجہ دی ہے۔ خواندگی ،غیررسمی تعلیم، پرائمری سے اعلیٰ تعلیم اور تکنیکی تعلیم اور ووکیشنل تربیت (ٹی ای وی ٹی) کے شعبوں پر توجہ میں مسلسل اضافہ کرتے ہوئے بہت سے منصوبوں کا آغاز کیا ہے۔غیر رسمی تعلیم کے فروغ کیلئے جائیکا پنجاب کے تمام 36 اضلاع میں ممکنہ طالبعلموں اور اساتذہ تک رسائی حاصل کررہاہے ۔ جبکہ سندھ میں جائیکا نے لڑکیوں کے 12 پرائمری سکولوں کو سکینڈری سکول کا درجہ دینے میں تعاون فراہم کیا ہے۔ جائیکا اضافی تعاون کے ساتھ (ٹی ای وی ٹی) شعبے کیلئے بڑی معاشی نشوونماء اور استحکام کو فروغ دے رہا ہے، جو پاکستان کی لرزتی ہوئی انسانی اور دیرپا معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کررہا ہے۔ لاہور میں ریلوے روڈ پر واقع گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی (جی سی ٹی) کوسینٹر آف ایکسی لینسی کا درجہ دے دیا گیا ہے، جو اب پنجاب میں سرکاری شعبے کی دیگر اداروں کے برابری کرنے کیلئے ایک درست پیمانہ ہے۔بنیادی تعلیم میں دلچسپی برقراررکھتے ہوئے علم کی جدت اور اسٹریٹجک تکنیکی تعلیم وووکیشنل تربیت (ٹی ای وی ٹی) کی صنعت سے ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
سوال: پاکستان میں صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے حوالے سے جاپان نے کیا کام کیا ہے ؟
سید ندیم عالم شاہ:پاکستان میں ماں اور بچے کی اموات اور بیماری کی شرح اموات بہت بلند ہے جب کہ اسے درست کرنے کیلئے عالمی سطح پر مساوات کی بنیاد پر صحت کی خدمات تک رسائی کی سخت ضرورت ہے۔ پاکستان میں ان چیلنجوں پر پورا اترنے کیلئے جائیکا کی اہم ترجیحات میں ماں اور بچے کی صحت کا تحفظ،ضلعی سطح پر صحت کے معلوماتی نظام اور استعداد سازی کے عمل کی مظبوطی اور صحت کی سہولیات کی وسعت شامل ہیں۔پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں جائیکا کے تعاون سے قائم ماں اور بچے کی صحت کا مرکز اور اسلام آباد، چلڈرن ہسپتال، اسلام آباد میں ماں اور بچے کی صحت کیلئے سرکاری شعبے میں واحد سہولت جو آزاد کشمیر، خیبر پختون خواہ اور صوبہ پنجاب کے ایک بڑے حصے کی آبادی کی ضروریات کو پورا کررہی ہے۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کیلئے کی جانے والی کوششوں میں ، 1996 سے 2013 تک اقوام متحدہ ادارہ اطفال (یونیسیف) میں جائیکا کی جانب سے دی جانے والی کل گرانٹ تقریباً 90.95 ملین امریکی ڈالر ہے جس سے اب تک پولیو کے قطروں کی شکل میں دی جانے والی کل ویکسین کا تقریباً 25 فی صد حصہ حاصل کیا گیا ہے۔ جاپان حکومت نے اسلام آباد میں قومی ادارہ صحت میں پولیو کے خاتمے کیلئے ریجنل ریفرنس لیبارٹری کے آلات کی خریداری کیلئے بتیس لاکھ ڈالر فراہم کرے گا۔اس سے مولیکیولر بائیولوجی کے جدید آلات کی خریداری سے لیبارٹری میں سیمپل پراسسینگ کی گنجائش بڑی حد تک بڑھائی جاسکے گی۔ نئی گرانٹ سے پولیو کی نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے اور ملک سے پولیو کے خاتمے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ ٹی بی کنٹرول منصوبہ میں تکنیکی تعاون فراہم کیا گیا ہے۔
سوال: پاکستان میں عوام کی بڑی تعداد کوپینے کا صاف پانی میسر نہیں ہے تو اس حوالے سے جاپان ، پاکستان کی کیا مدد کر رہاہے ؟
سید ندیم عالم شاہ : پاکستان کی تقریباً 65 فی صد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی حاصل ہے جبکہ کل آبادی کے 42 فی صد کو حفظان صحت کی سہولتیں میسر ہیں۔ حکومت پاکستان کی پینے کے پانی کی قومی پالیسی (2009) اور حفظان صحت کی قومی پالیسی (2006) کا مقصد 2025 تک پینے کے محفوظ پانی تک رسائی میں اضافے اور حفظان صحت کی بہتر سہولیات تک رسائی کو بڑھا کر 100 فی صد تک لانا ہے۔جائیکا معاشی اور سماجی طور پر ایسے اہم اور بڑے شہروں میں جواب عملی طور پر آبادی میں بڑھتے ہوئے مسلسل اضافے سے دوچار ہیں ترجیحی بنیاد پر پانی کی فراہمی کی عملی سہولتیں فراہم کررہی ہے۔ عملی طور پر پانی کی سہولتیں فراہم کرنے کے علاوہ جائیکا، پانی اور حفظان صحت کے اداروں (واسا) کی استعداد سازی میں بھی تعاون کررہی ہے۔ فی الوقت جائیکا کی جانب سے شروع کئے جانے والے پینے کے صاف پانی کے منصوبوں سے 2.4 ملین سے زائد افراد استفادہ کررہے ہیں جبکہ 3.1 ملین سے زائد آبادی گندے پانی کے نکاس اور پانی کے بہاؤ کے ان منصوبوں سے استفادہ کررہے ہیں جو جائیکا کے تعاون سے مکمل کیے گئے ہیں۔پاکستان کے ان شہری علاقوں کیلئے پانی کی دیرپا سہولت فراہم کی جارہی ہے جنہیں آبادی میں بے پناہ اضافے کاسامنا ہے۔ اس مقصد کیلئے پانی کے آپریٹرز کی استعداد میں اضافہ کیا گیا۔فیصل آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام میں وسعت،کراچی میں پانی کی فراہمی میں بہتری کا منصوبہ ،ایبٹ آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کو بہتر کرنے کیلئے منصوبہ،واسا لاہور اور واسا فیصل آباد کیلئے ادارتی اصلاحات،لاہور میں نکاسی آب کیلئے امدادی گرانٹ کی فراہمی اور فیصل آباد میں نکاسی آب اور پانی کے بہاؤ کیلئے میکانیکل نظام کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہے۔
سوال: پاکستان ماحولیاتی تبدیلیوں کا شکار ہے ، اس حوالے سے جاپان ، پاکستان کی کیا مدد کر رہاہے ؟
سید ندیم عالم شاہ : فضا اور پانی کی آلودگی کی مانیٹرنگ اور تکنیکی طور پر بہتر بنیاد پر ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانے کا کام پاکستان کیلئے جائیکا کے تعاون کا ایک اہم جز ہے۔ اس تعاون کے نتیجے میں، چاروں صوبائی دارالخلافوں (لاہور، کراچی، پشاور اور کوئٹہ) اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں فضائی معیاری مانیٹرنگ اور پانی کی ٹیسٹنگ سہولتوں کا ایک نیٹ ورک تشکیل دیا گیا ہے۔ اس کام کے ذمہ دار ماحولیاتی تحفظ کے اداروں (ای پی اے) کے عملے کی استعداد کو استعداد سازی کے ایک منصوبے کے تحت مضبوط کیا گیا ہے۔ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانا ایک اور ایسا مسئلہ ہے جس نے پاکستان کیلئے ماحولیاتی تشویش میں اضافہ کردیا ہے۔ ٹھوس کوڑے کو ٹھکانے لگانے میں بھی جاپان تعاون کر رہا ہے۔
سوال:قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے جاپان نے پاکستان کی کیا مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ :پاکستان دنیا کے ان ممالک میں سے ایک ہے جو آفات کی طرف سب سے زیادہ راغب ہوتے ہیں۔ سیلاب، طوفان، قحط اور ہبوط ارض 18 کرور افراد کی اس زمین کو باقاعدگی سے تباہ کرتے رہتے ہیں۔ 2005 کے زلزلے نے اندازاً 75,000 افراد کی جان لی، جو 2011 میں جاپان کی سونامی کا شکار ہونے والے افراد سے تقریباً چار گنا زیادہ تھی۔ سیلاب تقریباً ہرسال آتا ہے، 2010 میں آنے والا سیلاب خصوصاً بہت بدترین تھا جس نے 14 ملین سے زائد کی آبادی کو متاثر کیا۔جائیکا نے 2009 تک نالہ لئی کیلئے حکومت اور کمیونٹیوں کے ساتھ مل کر پیشگی وارننگ اور خطرے کی جگہ خالی کرنے کا نظام قائم کرنے میں تعاون کیا تھا۔ اس وقت سے لے کر اب تک نالہ لئی میں سیلابی پانی آنے سے کوئی موت واقع نہیں ہوئی جبکہ 2001 میں 79 اموات واقع ہوئی تھیں۔ جائیکا کے تعاون سے ہی پاکستان نے اپنا آفت سے نمٹنے کا پہلا قومی منصوبہ حاصل کیا۔جائیکا کا آفت میں امدادی (جے ڈی آر) پروگرام قدرتی آفات میں مادی تعاون کے طور پر مدادی ٹیمیں، طبی ٹیمیں، ماہر ٹیمیں روانہ کرتا ہے اور ہنگامی امدادی سامان فراہم کرتا ہے۔امدادی ٹیم کی مرکزی ذمہ داریاں یہ ہوتی ہیں کہ لاپتہ ہوجانے والے افراد کو تلاش کرے، متاثرہ افراد کو بچائے، ابتدائی طبی امداد فراہم کرے اور متاثرہ افراد کو کسی محفوظ جگہ پر منتقل کردے۔ طبی ٹیم کی ذمہ داریاں یہ ہوتی ہیں کہ متاثرہ افراد کی تشخیص کرے یا تشخیص کرنے میں مدد کرے اور جب ضروری ہوتو انفیکشن اور امراض کے پھیلاؤ کی روک تھام کرے۔ اس اثنا میں ماہر ٹیم، آفات کی صورت میں عارضی اقدامات کرتی ہے اور یہ رہنمائی اور مشورہ فراہم کرتی ہے کہ بحالی کے حصول کے لئے سب سے بہتر طریقہ کیا ہے۔ ایک بڑی سطح پر آفت آنے کی صورت میں، جب ضروری سمجھا جائے تو دفاعی فورسز کو روانہ کیا جاسکتا ہے۔ سامان کی فراہمی میں ہنگامی امدادی سامان، جیسا کہ کمبل، خیمے، پانی صاف کرنے کے آلات، جنریٹرز، اور طبی اشیاء شامل ہوتی ہیں جو بحالی کے عمل میں معاونت کرتی ہیں۔ جائیکا نے 2005 کے زلزلے اور 2010 اور 2011 کے سیلابوں کیلئے (جے ڈی آر) تعاون پیش کیا تھا۔
سوال: پاکستان کے استحکام کے حوالے سے جاپان نے پاکستان کے ساتھ کیا تعاون کیا ہے ؟
سید ندیم عالم شاہ : پاکستان کا استحکام اور ترقی سمیت سرحدی علاقوں میں روزی کمانے کے مواقع میں بہتری لانے کیلئے جائیکا حکومت پاکستان کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے ۔جاپان حکومت نے جائیکا کو اس خطے کو مستحکم کرنے اور یہاں ترقیاتی کام کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے اور وہ ووکیشنل اور تکنیکی تعلیم اور زرعی شعبوں میں انسانی وسائل کی استعداد سازی کے ذریعے معاشی خوش حالی اور تنازعات کو پیدا ہونے سے روکنے کیلئے اپنا کردار ادا کررہا ہے۔ 2009 میں اس پروگرام کے آغاز سے اب تک، مالا کنڈ ڈویژن کے بحران سے متاثرہ زیر تربیت 105 سے ذائدنوجوانوں کو مختلف پیشوں میں تربیت فراہم کی گئی۔ خبیر پختون خواہ میں کاشت کاروں کی روزی کمانے کے مواقع میں بہتری کیلئے جائیکا صوبے بھر سے حکومت کے زرعی توسیعی عملے کے 300 افراد (40 فی صد) کی جدید ٹیکنالوجیز میں تربیت پر توجہ دے رہاہے۔ جائیکا براڈ کاسٹنگ نیٹ ورک کی اپ گریڈنگ کیلئے ریڈیو پاکستان کی مدد رکررہا ہے جس سے معاشرے میں سماجی ہم آہنگی اور روشن خیالی کے لئے خیبر پختون خواہ، فاٹا، اور گلگت۔ بلتستان میں ضروری معلومات تک رسائی کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
سوال: جاپان حکومت مزید کن شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ :جاپانی حکومت (او ڈی اے) کے ذریعے ترقی پذیر ممالک کی مختلف ضروریات کو پورا کرنے کیلئے بہت سے امدادی پروگرام پیش کرتی ہے۔ امداد کے اطلاق کا حکومت جاپان کا ایک ادارہ ہونے کی حیثیت سے، جائیکا کے پاس پاکستان کے لئے تعاون کا ایک مختلف اور لچک دار نظام ہے اور یہ اپنے تکنیکی ، گرانٹ اور قرضہ امداد کے طریقہ کار کے تحت بہت سے شعبوں میں فطرت سے ماورا مسائل کیلئے خصوصی تعاون پیش کرتا ہے۔جائیکا کا شراکت داری پروگرام (جے پی پی) کمیونٹی پر متوجہ ایک پروگرام ہے جس کا مقصد پاکستان کیلئے سرگرمیوں میں تعاون کے لئے جاپانی این جی اوز، جاپانی مقامی حکومتوں، اور جاپانی یونیورسٹیوں کو اپنے علم اور تجربے کو مجتمع کرتا ہے۔ پاکستان میں سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری کے لئے، جائیکا اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس پر جدید ترین تکنیکی آلات نصب کرتے ہوئے پاکستان میں ایئر پورٹس کی سکیورٹی سمیت بہت سی مختلف سرحدوں پر حکومت پاکستان کے ساتھ مصروف عمل ہے۔ ماضی میں بہت سے مواقع پر جائیکا نے سیلاب اور زلزلے وغیرہ جیسے ہنگامی حالات میں پاکستان کو کموڈیٹی قرضہ جات پیش کئے ہیں۔ یہ قرضے سنگین صورتوں میں امداد فراہم کرتے ہیں جیسا کہ قدرتی آفات میں اور بین الاقوامی منڈی سے اشیاء کے حصول میں پاکستان کی مدد اور بین الاقوامی تعاون کے ڈھانچے کے تحت ادائیگیوں کے توازن کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔جائیکا، امن میں اور ہنگامی صورت حال میں، فطرت سے ماوار مسائل کیلئے، سب لوگوں کیلئے ایک بہتر مستقبل کیلئے ہر ممکنہ تعاون کی پیش کش جاری رکھے گا ۔
سوال: تربیتی پروگرام کے حوالے سے جاپان حکومت، پاکستان کے ساتھ تعاون کر رہی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ :جائیکا کے تکنیکی تربیتی پروگرام میں ترقی پذیر ممالک اور خطوں میں تربیت کے اہم منتظمین، ٹیکنیشنز اور محققین کیلئے علم اور ٹیکنالوجی کی درکار منتقلی شامل ہے۔ یہ جائیکا کی جانب سے لاگو کردہ سب سے زیادہ بنیادی انسانی نشوونماء کے پراگراموں میں سے ایک ہے۔ یہ تربیت دور حاضر کے اہم عالمی مسائل، جیسا کہ ماحول، ایچ آئی وی/ ایڈز، جمہوریت کیلئے حمایت اور مارکیٹ کی معیشتوں وغیرہ کی تبدیلی کے لئے فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کے علاوہ یہ تربیت بنیادی ترقیاتی شعبوں جیسا کہ انتظامی امور، عوامی کاموں، انفراسٹرکچر، زراعت، جنگلات، ماہی گیری، تعلیم، صحت وطبی دیکھ بھال، کان کنی، اور صنعت وغیرہ میں بھی فراہم کی جاتی ہے۔1954 میں آغاز کے بعد سے اب تک، 5000 سے زائد سرکاری اہل کاروں کو مختلف شعبوں میں جاپان میں تربیت فراہم کی جاچکی ہے جب کہ ہرسال، تقریباً 180 سرکاری اہل کار 2009 سے 2013 کے درمیان جائیکا کی جانب سے پیش کئے جانے والے کئی قسم کے تربیتی پروگراموں میں شرکت کیلئے جاپان جا چکے ہیں۔ جن اقسام کی تربیت پیش کی جاتی ہے ان میں گروپ تربیتی کورس ملک پر متوجہ تربیت،طویل المدت تربیت ،اندرون ملک تربیتی پروگرام اور توجوان قائدین پروگرام شامل ہیں۔جائیکا کے تربیتی پروگرام میں ترقی پذیر ممالک اور خطوں میں کلیدی حکام، ٹیکنیشنز اور محققین کی تربیت کے ذریعے متعلقہ ملکوں کو درکار معلومات اور ٹیکنالوجی کی منتقلی شامل ہے۔ یہ جائیکا کی طرف سے انسانی ترقی کے فروغ کا سب سے بنیادی پروگرام ہے جس پر عملدرآمد کیا گیا ہے۔ 1954ء میں شامل کئے جانے والے اس پروگرام کی نہ صرف وسعت میں اضافہ ہوا ہے بلکہ نصاب میں بھی نکھار آیا ہے اور جائیکا تقریباً 275,000 افراد کو تربیت فراہم کرچکی ہے۔
سوال: جاپان میں پاکستانی پھلوں کو متعارف کرانے کیلئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان پاکستانی آم کی پراسیسنگ کیلئے کراچی پورٹ پر دنیا کا جدید ترین پلانٹ لگا رہا ہے۔ جہاں کروڑوں روپے کی لاگت سے سٹیٹ آف دی آرٹ پلانٹ نصب کیاجائے گا۔ تاکہ دنیا بھر میں پاکستان کی آم کی برآمدات بڑھانے کے ساتھ ساتھ جاپان کو بھی زیادہ سے زیادہ پاکستانی آم برآمد کیاجاسکے۔ پاکستانی آم کی جاپانی منڈیوں میں بہت طلب ہے۔ جاپان میں پاکستان کے خشک پھلوں کی بھی کافی مانگ ہے اور اس وقت جائیکا کے تعاون سے خشک خوبانی کی برآمد کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان سے دوسرے پھلوں کے علاوہ سبزیوں کی برآمدات کیلئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے اور جاپان کی کئی تجارتی فرموں نے لاہور اور کراچی میں اپنے دفاتر بھی قائم کئے ہیں۔
سوال: 2020 میں اولمپکس کھیلیں جاپان میں منعقد ہوں گی تو اس حوالے سے پاکستان کی سپورٹس مصنوعات کو جاپان میں متعارف کرانے کیلئے جائیکا نے کیا اقدامات کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: جاپان میں پاکستانی اسپورٹس مصنوعات متعارف کرانے کا فیصلے پر عمل ہو چکا ہے اس سلسلے میں ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈی اے پی) اور جائیکاکے باہمی اشتراک سے ٹوکیو میں رواں برس جولائی کے مہینے میں کھیلوں کے سامان کی تین روزہ نمائش ’’سپورٹک‘‘ کا انعقاد کیا گیا تھا۔ نمائش میں فٹ بال اور مارشل آرٹ سمیت کھیلوں کا دیگر سامان تیار کرنے والی 30 سے زائد پاکستانی کمپنیوں نے شرکت کی تھی ۔
سوال: جاپان حکومت نے پاکستان کی آٹو پا پارٹس کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے کیا اقدامات کئے ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ: آٹو پارٹس کی صنعت پاکستان میں بڑی تیز ی سے ترقی کر رہی ہے لیکن افسوس کہ تکینکی مہارت اور پیداواری جدت طرازی کے فقدان کی وجہ سے اس انڈسٹری کو عالمی منڈی میں پذیرائی نہیں مل پا رہی تھی۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے سمیڈا نے پاپام کے ساتھ ملکر جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا ) کے تعاون سے پہلی بارچار سال پر محیط ایک طویل المدتی پروگرام شروع کیا ۔جاپان کی تکنیکی معاونت سے پاکستان کی آٹو پارٹس مینوفیچرنگ انڈسٹری کی مصنوعات میں کوالٹی کے حوالے سے خاطر خواہ بہتری آئی ہے جس کی بدولت مقامی آٹو پارٹس اب عالمی منڈی میں بھی اپنی جگہ بنا سکیں گے۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا )نے پاکستان کی آٹو پارٹس انڈسٹری کیلئے چا لیس سال سے زائد تجربہ رکھنے والے پانچ جاپانی ماہرین کی ٹیم چا ر سال کیلئے پاکستان میں تعینات کی ہے۔ پاپام نے مذکورہ منصوبے کیلئے کل 39 یونٹو ں کی نشاندہی کی تھی جن میں سے 22 فیکٹریوں کو منتخب کیا گیا تاہم دیگر یونٹو ں کو اس منصوبے سے مستفید کرنے کیلئے جاپانی ماہرین کی زیر نگرانی مقامی ماہرین کی ایک ٹیم تیار کی جارہی ہے جو جاپانی ٹیم کے اخراج کے بعد ان کے بتائے ہوئے طریقوں اور تربیت کے مطابق یہ پروگرام جاری رکھے گی۔
سوال: پاکستانی ایئرپورٹس کی سیکیورٹی سسٹم کو بہتر بنانے کیلئے جاپان حکومت نے کیا مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:جاپان حکومت نے پاکستانی ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کیلئے جدید ایکوپمنٹ فراہم کئے ہیں۔ ملک میں موجود ایئر پورٹس کی سیکیورٹی کو ICAO ، TSA اور ECAC کے عالمی معیار کے مطابق بنانے اور جدید ٹیکنالوجی کے اطلاق کے پیش نظر اور یکیورٹی کے مطلوبہ اہداف کو حاصل کرنے کی غرض سے ایئر پورٹس پر فنی مہارت سے آراستہ ایکوپمنٹ کی تنصیب کی گئے ہے۔یہ ایکوپمنٹس جاپان کی حکومت کی جانب سے امدادی عطیہ کے طور پر فراہم کئے ہیں۔ جنہیں جناح انٹر نیشنل ایئر پورٹ کراچی، علامہ اقبال انٹر نیشنل ایئر پورٹ، لاہور اور بینظیر بھٹو انٹر نیشنل ایئر پورٹ اسلام آباد پر نصب کیا کیا گیا ہے ۔ان میں ایکوپمنٹ میں EDS بیگیج ا سکینر ( سنگل ویو اور سی ٹی ٹیکنالوجی دونوں)، کارگو وہیکل کنٹینر اسکینر اور وہیکل اسکینرزشامل ہیں۔ان ایکوپمنٹ کی تنصیب کے بعدسول ایوی ایشن اتھارٹیکا مسافروں کے سامان سے درپیش خدشات سے نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ اس جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے نہ صرف ا ی یو باؤنڈ بیگیج کو ایکسپلوزیو ڈٹیکشن سسٹم کے ذریعے اسکین کیا جارہا ہے بلکہ ایکسپورٹ کارگو ایریا ز کے داخلی راستوں پر کارگو اسکینرز کے ذریعے کارگو وہیکلز مع کنٹینرز کو بھی اسکین کیا جا رہا ہے۔
سوال:پاکستان میں واسا کی کارکردگی اورسسٹم کو بہتر بنانے کیلئے جاپان حکومت نے کیا مدد کی ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: متوسط علاقوں میں غریب عوام کا معیار زندگی بلند کرنے اور پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے بھی جاپان نے پاکستان میں کافی کام کیا ہے۔ فیصل آباد میں جاپانی حکومت نے اربوں روپے کے فنڈز سے وہاں کے لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگا کر دیئے ہیں۔ فیصل آباد کے بعد لاہور کے مضافاتی علاقوں میں بھی جاپانی حکومت نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے ہیں۔ جاپانی حکومت نے لاہورمیں 150 سے زائد ٹیوب ویل لگائے ہیں۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں میں پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگائے گئے ہیں اور مزید لگائے جا رہے ہیں۔ فیصل آباد شہر میں لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کیلئے تین بلین سے زا ئد رقم خرچ کی گئی ہے۔ اسی طرح ایبٹ آباد اور تھر میں بھی لوگوں کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی کے منصوبوں پر کام جاری ہے۔ لاہور میں جائیکا جاپان کے تعاون سے 2351 ملین کی لاگت سے پرانے، کم ڈسچارج،زیادہ بجلی خرچ کرنیوالے105 ٹیوب ویلوں کی تبدیلی مکمل کی گئی۔جائیکا اور واسا فیصل آباد کی مالیاتی پوزیشن اور واٹر سپلائی وسیوریج نظام کی اپ گریڈیشن بھی کی گئی ہے۔ واسا کو جن شعبوں اور منصوبوں کی اپ گریڈیشن اور امپر وومنٹ اور بحالی کی ضرورت تھی ان میں اپ گریڈیشن آف ماسٹر پلان ¾ بحالی واٹر ورکس جھال خانوآنہ ¾ بحالی سیور ٹریٹ منٹ پونڈ ز چکیر ہ ¾ تبدیلی پمپنگ مشینری ویل فیلڈ ایر یا ¾ بحالی بالائی ٹینکیاں اور سٹارم واٹر چینلز کی ری ماڈلنگ شامل ہے۔اس کے علاوہ جائیکا نے سندھ کے علاقے تھر میں بھی پینے کے صاف پانی کی فراہمی کو ممکن بنانے کیلئے کام کیا ہے۔
سوال: پاکستان اور جاپان کے مابین تجارت کی کیا صورتحال ہے ؟
سید ندیم عالم شاہ: پاکستان اور جاپان کے درمیان تجارت کا حجم زیادہ نہیں ہے۔پاکستان کی حکومت جاپان کے ساتھ تجارتی تعلقات کو ترجیحی بنیادوں پر فروغ دے کر اپنی معیشت مضبوط بنا سکتی ہے۔ پاکستان اور جاپان کے مابین اس وقت جو ٹریڈ پالیسی ہے وہ ان بیلنس ہے اگر پاکستان کی حکومت جاپان جیسے ترقی یافتہ ترین ملک کے ساتھ اپنے تجارتی تعلقات کو مضبوط بنائے اور صنعت، تعلیم، صحت، زراعت اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون بڑھائے تو پاکستان بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا۔ جاپان سے کافی چیزیں پاکستان آرہی ہیں لیکن پاکستان سے چیزیں جاپان نہیں جا رہی لہٰذا پاک جاپان ٹریڈ پالیسی بیلنس کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ جاپانی لوگ پاکستان کا آم بہت پسند کرتے ہیں ۔جاپان کی آٹو موبیل کمپنیاں مستقبل میں پاکستان میں وسیع سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہیں۔ کچھ کمپنیاں اس شعبے میں کام کر بھی رہی ہیں۔پاکستان جاپان بزنس فورم بنا ہوا ہے جس کا ہیڈ کواٹر کراچی میں ہے اس فورم کو چاہیے کہ وہ دونوں ممالک کے مابین تجارتی حجم کو بڑھانے کیلئے اقدامات کرے اور دونوں ملکوں کی حکومتوں کو تجارت بڑھانے کے حوالے سے تجاویزدے۔ اس کے علاوہ (جیٹ رو) جاپان ایکسٹنل ٹریڈ آرگنائزیشن جو جاپان کا سرکاری ادارہ ہے اس کا آفس بھی کراچی میں موجود ہے یہ آرگنائزیشن تجارتی بنیادوں پر بزنس مینوں کو معلومات فراہم کرتا ہے یہ مختلف سیمنارز منعقد کراتی ہے۔ جیٹ رو کے بارے میں پاکستان کے چھوٹے تاجروں کو معلومات ناکافی ہیں اس گیپ کو فل کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ جاپان انٹرنیشنل کوآپریشن ایجنسی (جائیکا) کے ماہرین بورڈ آف انوسٹمنٹ، ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان اور انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔جائیکاماہرین پاکستان کیلئے ایک انوسٹمنٹ گائیڈ بک تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں تا کہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو پاکستان میں بہتر طور پر فروغ دیا جا سکے۔جائیکاماہرین پاکستان میں انڈسٹری کی آٹومیشن کرنا چاہتے ہیں تا کہ صنعتی شعبہ بہترانداز سے ترقی کر سکے۔ جاپان کی کمپنیوں کو پاکستان کی مارکیٹ میں مزید آسان رسائی فراہم کرنے کی ضرورت ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
سوال: کیا آپ پاکستان کی طرف سے کاروبار اور سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے مطمئن ہیں؟
سید ندیم عالم شاہ:میں موجودہ حالات میں پاکستان اور جاپان کے مابین ہونے والی تجارت کی صورتحال سے بالکل بھی مطمئن نہیں ہوں۔ پاکستان کو ایڈ نہیں بلکہ ٹریڈ پالیسی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔ ٹریڈ پالیسی کو مضبوط اور فروغ دے کر ہی پاکستان کو معاشی طور پر مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔ پاکستان کی حکومت کو معاشی ترقی کیلئے جاپان کو رول ماڈل بنانا ہو گا۔ پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے ہماری حکومت کو سب سے پہلے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانا ہو گا۔سرمایہ کاروں کو تحفظ فراہم کرنا ہوگا۔ صنعتی یونٹوں کو بجلی اور گیس کی فراہمی کو یقینی بناناہوگا۔ پاکستان کو خوشحال بنانے کے لیے حکومت کو امن قائم کر کے سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول بنانا ہو گا اور سب سے اہم چیز یہ ہے کہ حکومت ٹریڈ پالیسی کو مضبوط بنائے۔
سوال: آپ کے نزدیک پاکستان کی تجارت و برآمدات کوکس طرح بڑھایا جا سکتا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ: مختلف ممالک کے ساتھ پاکستان کی تجارت و برآمدات کو بہتر فروغ دینے کیلئے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کو چاہیے کہ وہ فزیبیلیٹی سٹیڈیز تیار کرے اور ان کو اپنی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرے تا کہ تاجر برادری ان سٹیڈیز سے استفادہ حاصل کر کے تجارت و برآمدات کو بہتر کرنے کی کوشش کرے۔ بیرونی ممالک میں تعینات پاکستان کے کمرشل قونصلرز کو مزید فنڈز فراہم کئے جائیں تا کہ وہ برآمدات کو فروغ دینے کی کوششوں میں نجی شعبے کی بہتر معاونت کر سکیں۔اس کے علاوہ بورڈ آف انوسٹمنٹ کو چاہیے کہ وہ غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے مزید پرکشش پالیسیاں بنائے تا کہ صنعتکاری کو بہتر فروغ ملے ، برآمدت ترقی کریں اور ملک کا غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم ہو۔ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ کو چاہیے کہ وہ نجی شعبے کے ساتھ مل کر انجینئرنگ شعبے کی صنعتوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دے تاکہ پاکستان برآمدات کیلئے ٹیکسٹائل مصنوعات پر انحصار کرنے کی بجائے انجینئرنگ مصنوعات کی برآمدات کو فروغ دے کر معیشت کو مضبوط کر سکے کیونکہ اس وقت دنیا میں انجینئرنگ مصنوعات کی زیادہ مانگ پائی جاتی ہے۔
سوال: آپ کے نزدیک جاپان کی ترقی کا راز کیا ہے؟
سید ندیم عالم شاہ:میں سمجھتا ہوں کہ جاپان کی ترقی کا راز تعلیم ،محنت،ایمانداری اوراجتماعی سوچ میں پوشیدہ ہے ۔
جاپان نے جدید انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم کو فروغ دے کر ترقی حاصل کی ہے۔جاپان میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہے۔ دراصل جاپان نے 1868 میں اپنے دروازے بیرونی دنیا کے لیے کھول دیئے اور پہلی مرتبہ ماڈرن حکومت تشکیل پائی اس سے پہلے جاپان کے قبائلی نظام میں بیرونی دنیا سے رابطہ نہیں رکھاجاتا تھا ماڈرن maji حکومت نے ہر فرد کیلئے تعلیم لازمی قرار دی۔ تعلیمی نصاب فرد کوبہتر انداز میں سوچنے سمجھنے کے لیے تیار کرتا تھا۔ تعلیم عام کرنے سے یہ فائدہ ہوا کہ دنیا میں جب ٹیکنالوجی کا دور شروع ہوا تو جاپان اس کے لیے پوری طرح تیار تھا۔ ٹیچرز کو اچھی تنخواہیں اور معاشرے میں مقام دیاجاتا ہے۔ اسی لیے امریکن بھی جاپان میں خوشی خوشی پڑھانے آتے ہیں۔ ٹیکنالوجسٹس کو بہت زیادہ تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ ان اقدامات نے جاپان کو تعلیم و ٹیکنالوجی میں صف اوّل میں کھڑا کر دیا۔ جاپانی لوگ جانتے ہیں تعلیم ایک میرٹ ہے۔ اگر ایک کسان کا لڑکا تعلیمی اہلیت رکھتا ہے تو وہ بھی اسی جاب کا اہل ہے جو ایک منسٹر کا بیٹا کر سکتا ہے۔ جاپان کے لوگ سو فیصد تعلیم یافتہ ہیں ہر طرف صاف ستھرا ماحول ہے۔شہروں کی طرح دیہات میں بھی یکساں ترقی ہے۔ زراعت کا نظام جدید بنیادوں پر استوار ہے۔ جاپان کی اقتصادی حالت بہت مضبوط ہے۔ لوگ مطالعے کے شوقین ہیں۔ فکشن سے خصوصی لگاؤ رکھتے ہیں۔ہر طبقے کو تمام سہولتیں میسر ہیں، جرائم کی شرح کم ہے قومی مفادات ہر شخص کے پیش نظر ہیں۔ طرزِ حکومت جمہوریت ہے، بادشاہ کی حیثیت علامتی ہے لیکن اس کا احترام برقرار ہے، استاد اور ڈاکٹر کا احترام بھی بہت زیادہ ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •