Voice of Asia News

ہندوستانی انتخابات اور نئے خدشات: شوکت علی چوہدری

ہندوستانی انتخابات کا ہنگامہ خیز دور اختتام پذیر ہوچکا ہے اور ان انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے 303 نشتیں حاصل کر کے سب پر سبقت حاصل کر لی ہےBJP کی سب سے بڑی حریف انڈین نیشنل کانگریس کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا ہے اور اس نے بڑی شرافت کا مظاہرہ کرتے ہوے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔اسی BJP کی مخالف دیگر جماعتیں بھی مجموعی طور پرکسی قابل زکر کارکرگی کا مظاہرہ نہیں کر پائی ہیں۔BJP نے تسلسل سے دوسری مرتیہ یہ فتح اپنے نام کی ہے اور تمام سیاسی تجزیہ نگاروں کے تجزیوں کے برعکس پچھلے دور سے زیادہ نشتیں حاصل کر کے سب کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔پاکستان میں BJP کی فتح کو زیادہ تر تجزیہ نگار بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانے کے تناظر میں ہی دیکھ رہے ہیں۔جبکہ میرے نزدیک یہ سارے کھیل کا صرف ایک رخ ہے۔اس الیکشن کے دیگر عوامل کا اگر جائزہ لیا جائے تو اس ایکشن میں ہونے والے اخراجات کے حوالے سے جو اعدادوشمار سامنے آے ہیں۔ ان کے مطابق انتخابات میں BJP کے حمایتی صنعت کاروں اور کاروباری لوگوں نے اس الیکشن پر امریکی الیکشن سے بھی زیادہ اخراجات کیے ہیں۔ جس نے BJP کی فتح میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ BJP کی حکومت کو امریکہ کی سیاسی اور اخلاقی حمایت بھی حاصل تھی جس کے نتیجہ میں بین الاقوامی کاروباری برداری اور ملٹی نینشل کی سپورٹ بھی BJP کے حصہ میں آئی کہ مودی سرکار نے اپنے سابقہ دور حکومت میں دنیا کی سب سے بڑی کنزیومر سوسائٹی کے دروازے ان پر کھول دئیے تھے اب جس لبرل مالی ایجنڈے پر عمل درآمد کا وعدہ مودی سرکار نے ان ساہوکاروں سے کیا ہے اس میں ہندوستان کی قومی صنعت کی نجکاری سر فہرست ہے اور اس نجکاری کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مزدوروں کے مسائل سے نبٹنے کے لیے مودی حکومت نے ہندوستان کے لیبر قوانین میں ان کی من مرضی کی ترمیم بھی کردی ہیں۔ان تمام حقائق کے علاوہ BJP کے مقابلہ میں دیگر جماعتیں خاص کر انڈین کانگریس اس الیکشن میں تنظیمی کمزوریوں اور لیڈر شپ کے بحران کا شکار نظر آئے۔اس کے علاوہ BJP کا ہندوستان کی آبادی کے بڑے حصے کے مذہبی جذبات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا حربہ بھی خاصا کامیاب رہا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام عوامل نے مل کر BJP کو تاریخی فتح سے ہمکنار کیا ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک ارب بیس کروڑ آبادی کے ملک انڈیا کے تقریبا”60۔70 کروڑ غریب لوگوں کو ان کے روزی روزگار،علاج معالجہ،رہائش اور دیگر بے شمار مسائل کو صرف ہندوستان کو ایک ہندو ریاست بنانے کے نعرے کی بنیاد پر زیادہ عرصہ تک ٹالا جا سکتا ہے جب کہ انڈیا میں مزدوروں اور کسانوں کی تنظیمیں سیاسی سطح پر خاصی منظم بھی ہیں اور ان میں لاکھوں کی تعداد میں سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے کا رواج بھی ہے۔اس کے علاوہ کیا طبقاتی جدوجہد کو مذہبی انتہا پسندی کے نعروں سے زیادہ عرصہ تک روکا جا سکتا ہے۔بھوکا پیٹ تو روٹی مانگتا ہے اور جب روٹی کے حصول کے لیے جدوجہد کا آغاز ہوتا ہے تو پھر بڑی بڑی رکاوٹیں بھی خشوخاشاک کی طرح ڈھ جاتی ہیں۔مودی صاحب نے ہندوستان میں مذہب کے تن مردہ میں جان ڈال کر اسے اپنی جس سیاست اور کامیابی کا زریعہ بنایا ہے کیا BJP کا یہ بیانیہ زیادہ عرصہ ہندوستانی عوام کو اپنے سحر میں مبتلا رکھ پاے گا۔میرے نزیک اس کا جواب نہ میں ہے۔ایسا ممکن نہیں ہے کہ کوئی حکومت زیادہ عرصہ تک صرف مذہب کی بنیاد پر اپنے عوام کو اپنے بنیادی حقوق مانگنے سے روک سکے۔ میرے خیال میں مودی صاحب نے انڈیا میں ایک ایسے سوئے ہوئے مسئلہ کو جگا دیا ہے جو آنے والے دنوں میں انڈیا کی سلامتی کے لیے بھی بہت سے سوالات کھڑے کر دے گا۔کیونکہ اول تو ملٹی نیشنل اور نیو لبرل ایجنڈے کے تحت چلنے والی انڈین حکومت اپنے ملک کی بڑی آبادی کی بنیادی ضرویات کو پورا کرنے سے قاصر ہو گی۔دوئم جب عوام کی بڑی اکثریت کے سر سے مزہیبی انتہا پسندی کا بھوت اترے گا تو وہ پہلی فرصت میں استحصال سے چھٹکا را پانے کی جدوجہد کی طرف مائل ہوں گے اور جب BJP کی حکومت جو بین الاقوامی ساہوکاروں کے ساتھ مل کر اپنے ہی عوام کے استحصال میں ساجھے دار ہوگی اور عوام کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں لا پائے گی تو انڈیا جیسے وسیع وعریض ملک میں امن و امان قائم رکھنا ایک بہت بڑا سوالیہ نشان ہو گا۔

mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •