Voice of Asia News

بچوں کی نشو و نما کے لیے انہیں تازے پھل بہتر ہیں

 

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)دنیا بھر کی مائیں عام طور پر اپنے شیر خوار اور کم عمر بچوں کو دودھ ہی دیتی ہیں، چاہے وہ ٹیٹرا پیک یا ملک پاؤڈر ہی کیوں نہ ہو، مگر کچھ مائیں اپنے بچوں کی بہتر نشو و نما کی غرض سے انہیں پھل اور جوس سمیت دیگر چیزیں بھی دیتی ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ماں کے دودھ کے ساتھ تازہ پھلوں اور گندم سے تیار خوراک بچے کی نشو و نما کے لیے بہتر ہوتی ہے، مگر ماہرین صحت کے مطابق بچوں کے لیے فروٹ جوس ہرگز بہتر نہیں ہےماہرین صحت کے مطابق تازہ پھلوں کے مقابلے فروٹ جوس میں چینی، کیلوریز اور دیگر چیزوں کا استعمال کیا جاتا ہے، جو بچوں کے دانتوں، پیٹ اور بہتر صحت کے لیے اچھی نہیں ہوتیں۔

امریکن اکیڈمی آف پیڈیاٹرکس (اے اے پی) کے مطابق فروٹ سے تیار شدہ جوس وقتی طور پر فائدہ پہنچاتے ہیں، کیوں کہ ان میں فائبر، دودھ اور فریش فروٹ جیسے اجزاء نہیں ہوتے، اور ان میں کیلوریز، شگر اور دیگر مصنوعی چیزوں کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔ماہرین نے کم عمر بچوں کو کتنی مقدار میں کتنا جوس دینا چاہئیے، اس حوالے سے ایک گائیڈ لائن بھی تیار کی ہے، جسے آئندہ ماہ جون میں سائنس جنرلز کے ذریعے شائع کیا جائے گا۔بچوں کی صحت پر جوس کے پڑنے والے اثرات سے متعلق گائیڈ لائن کو یونیورسٹی آف کیلی فورنیا، سان فرانسسکو (یو سی ایس ایف) اور یونیورسٹی آف ٹیکساس کے ڈیل میڈیکل آف اسکول کے ماہرین نے مشترکہ طور پر تیار کیا۔

گائیڈ لائن میں والدین کو تجویز دی گئی ہے کہ 6 ماہ تک بچوں کو فروٹ جوس بلکل نہیں دینا چاہئیے، جب کہ ایک سے 3 سال کی عمر کے بچوں کو یومیہ صرف 110 گرام تک جوس دینا چاہئیے۔اسی طرح 7 سال سے بڑے بچوں کو یومیہ 220 گرام تک فروٹ جوس دینا چاہئیے، جب کہ ماہرین نے خصوصی طور پر والدین کو ہدایت کی ہے کہ 18 سال تک بچے کو کبھی بھی جوس کا مکمل ڈبہ نہیں دینا چاہئیے۔

ماہرین نے جوس کے ڈبے کی مقدار کی وضاحت نہیں کی، البتہ تجویز دی ہے کہ 18 سال تک بچوں کو یومیہ 220 گرام تک فروٹ جوس دیا جاسکتا ہے۔ماہرین نے والدین کو تجویز دی ہے کہ بچوں کی بہتر نشو و نما کے لیے انہیں تازے پھل دئیے جائیں۔خیال رہے کہ ماہرین نے بچوں کو جوس دینے کے کوئی خطرناک نتائج نہیں بتائے، البتہ تجویز دی ہے کہ بچوں کی بہتر صحت کے لیے انہیں جوس نہ دیا جائے، یا پھر بلکل کم مقدار میں دیا جائے، ماہرین نے ایسی تجویز 2001 کے بعد پہلی بار دی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •