Voice of Asia News

مذہبی رواداری : حسنین جمیل

معاشرے میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہا پسندی تشویش ناک ہے۔ برداشت ، تحمل مزاجی کا فقدان ہو چکا ہے۔ ہم سب بحیثیت معاشرہ غلط سمت کی طرف جا رہے ہیں۔ کوئی بھی ہماری راہنمائی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اگر کوئی ہمیں کہے کہ ایک سیکولر معاشرہ بنایا جائے تو ہم اس پر کفر کے فتوے لگا دیتے ہیں۔ اصل میں لفظ سیکولر کی غلط تشریح کی گئی ہے۔ نامور ترقی پسند ادیب صحافی سبط حسن نے اپنی کتاب ’نویدفکر‘ میں لفظ سیکولرازم کا ترجمہ مذہبی رواداری کیا ہے۔ لہٰذا ہم لفظ مذہبی رواداری کے فروغ کی بات کرنے میں عام معاشرے میں خاص طور پر تعلیمی اداروں میں رواداری کی روایات کو فروغ دینے کی بہت ضرورت ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مردان اور بہاول پور کے واقعات ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ مشال خان اور پروفیسر صاحب کا قتل سفاک واقعات میں ہمارے ارباب اختیار کو اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتے ہیں آخر ہم تعلیمی نصاب میں کیا پڑھاتے ہیں۔ جس کے باعث تعلیمی اداروں میں ایسی سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ نوجوانوں میں انتہا پسندی اور شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مکالمے اور بات چیت کی روایات کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی اداروں میں نصابی تعلیم کے ساتھ ساتھ غیر نصابی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیمی نصاب کے اندر سے نفرت آمیز مواد ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزرا برائے تعلیم راجہ یاسر ہمایوں اور ڈاکٹر مرادراس کو ٹھوس اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ایسا تمام نفرت آمیز مواد جو دوسرے مذاہب کی توہین کے مترادف ہے فوراً نصاب سے نکال دینا چاہیے۔ اس کے بعد تعلیمی اداروں میں غیر نصابی سرگرمیوں کا فروغ بہت ضروری ہے۔ خاص طور پر جامعہ پنجاب جہاں ایک فسطانی طلبہ تنظیم کی اجارہ داری اس کا ختم ہونا بہت ضروری ہے۔
غیر نصابی سرگرمیوں میں ثقافتی تقریبات کا باقاعدگی سے منعقد ہونا بہت ضروری ہے۔ ادبی سرگرمیاں ہوں، طالب علموں کے ساتھ شاعروں، ادیبوں، صحافیوں کا مکالمہ ہو۔ شاعری، موسیقی، تاریخ ، سیاست، فلم ڈرامہ کے حوالے سے بات کی جائے۔ موسیقاروں و اداکاروں کو جامعات اور کالجوں میں مدعو کیا جائے۔ ہفتہ وار نشست ہو، جس میں طالب علم آپس میں فلم، ادب پر گفتگو کی جائے۔ مصوری، سنگ تراشی، خطاطی اور دیگر اصناف پر بات ہو۔ یاد رکھیں مکالمہ جمود کو توڑتا ہے۔ اگر جامعات اور کالجوں میں مکالمے کی روایت کا آغاز ہوتا ہے اور سلسلہ جاری رہتا ہے تو اس کے دوررس نتائج معاشرتی سطح پر برآمد ہونا شروع ہو جائیں گے۔ تعلیمی اداروں میں جو بیانیہ اپنانا ہوگا اس میں نیشنل ایکشن پلان اور سب سے پہلے پاکستان کے پیغام کو عام کرنا ہوگا۔ اساتذہ کی تربیت کرنا بہت ضروری ہے۔ انہوں نے ہی طالب علموں کو پڑھانا ہے۔سوشل میڈیا کی تعلیم کو عام کیا جائے وہاں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے موثر قانون سازی کی جائے، تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس تنظیموں کو فعال کیا جائے ۔ ادارہ برائے جمہوری تعلیم اور ایڈوکیسی نے پنجاب یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف ایجوکیشن دونوں جامعات میں طلبہ و طالبات میں مکالمہ کی روایت کو فروغ دینے کے لیے مجلس مشاورت منعقد کروائی جائیں۔ دونوں جامعات کے سربراہ ڈاکٹر نیاز احمد اختر اور ڈاکٹر روف اعظم نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان مجالس میں نامور صحافیوں نے شرکت کی اور طالب علموں کے ساتھ مکالمے کا آغاز کیا۔اس سلسلے کو ان دونوں جامعات سے نکال کر پورے صوبے اور ملک میں پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ سماج میں مکالمے کی روایت پنپ سکے۔ جب تک کسی نکتے موضوع پر بات چیت نہیں کی جائے گی تب تک کوئی راستہ نکالنا مشکل ہے۔
وطن عزیز میں اس وقت پہاڑ جیسے مسائل موجود ہیں۔ دہشت گردی ، معیشت کی بربادی، امن و امان یہ سب صلیبیں ہیں جو ہمارے دریچوں میں گڑھی ہیں۔ ان سب مسائل کو ہم سب نے مل کر حل کرن اہے۔ یہ وطن ہمارا ہے یہاں کے مسائل حل کرنے کے لیے باہر سے لوگ نہیں آئیں گے۔ نیشنل ایکشن پلان پر من و عن عمل کرنے کے لیے عسکری قیادت، سیاسی قیادت، عدلیہ ،صحافیوں اور دانشوروں کا ایک نکتے پر یکسو ہونا بہت ضروری ہے۔ دہشت گردی کا جن بوتل میں بند ہوگا تو معیشت بہتر ہو گی اور بدعنوانی کے خاتمے کی طرف سمت درست ہو گی۔ ہم نے ثابت کرنا ہے کہ بحیثیت قوم ہم ایک ہیں اور فیصلے کرنے میں بیرونی اشارات کے منتظر ہیں ہیں۔ کسی مسیحا کے آنے کے کی توقع نہ رکھیں خود اٹد کر یکسو ہو کر اپنے مسائل حل کریں۔
hassnainjamil@yahoo.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •