Voice of Asia News

عید الفطر…… مومنوں کے انعام کا دن :محمد قیصر چوہان

اسلام ایک فطری مذہب ہے اس کے مطالعے کیلئے اس کے عملی حصوں کو دیکھئے گویا ایک پورا ایسا مکمل نظام موجود ہے جو انسانیت کی بھلائی کیلئے مرتب کر دیا گیا ہے، اس کے فرائض دیکھئے، واجبات کو دیکھئے سب کے سب انسانیت سے مربوط نظر آتے ہیں۔ رمضان المبارک کے روزے رکھے جس کے ذریعے نفس کی تطہیر ہوتی ہے انسان برائیوں سے بچا رہتا ہے اور جب یہ عمل مکمل ہو جائے تو اگلے ہی روز اﷲ تعالیٰ کے نیک بندوں کو انعام کے طور پر عید کی خوشیاں میسر آتی ہیں۔ عید کیا ہے؟ کیا محض ہلا گلا اور کپڑے پہن کر مٹھائی کھانا ہے؟ ہر گز نہیں یہاں بھی ابتداء مالک الملک کی حمد و ثنا سے ہوتی ہے رمضان المبارک کی ریاضت کے بعد اﷲ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کیلئے انعام اور خوشیوں کا دن ہے شکرانے کا دن ہے کہ مونوں نے اپنے مالک کی اطاعت کرتے ہوئے اس کے حکم کی بجا آورری کی چنانچہ عید الفطر کا چاند طلوع ہوتے ہی ماحول میں ایک فطری شکر اور خوشی کا احساس نمایاں ملتا ہے۔ زرق برق لباسوں کی تیاریاں اور ہر چہرے پر مسرت کھلنا اس سجدہ شکر کی تیاریوں کا ایک حصہ ہوتا ہے جو اگلی صبح عیدالفطر نماز کے طورپر ادا کیا جاتا ہے اس روز تمام دنوں کے مقابلے میں نسبتاً بڑی اجتماعی نماز کے ذریعے مالک الملک کا شکر ادا کیا جاتا ہے اور پھر یہی نہیں بلکہ اس خوشی میں ہر مسلمان کو شریک کرنے کے لیے اس سے قبل صدقہ فطر کا ایک نظام وضع کیا گیا ہے تاکہ وہ غریب اور مساکین بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں جو اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔ زکوٰۃ کا ایک پورا نظام تشکیل دے کر اﷲ تعالیٰ نے جہاں مسلمانوں کے احوال کو تطہیر کے عمل سے گزارا وہیں روزے کے ذریعے انسان کو اور اس کے روح کو پاکیزگی عطا کر دی اور پھر جب ایک پاک صاف معاشرہ تشکیل پا گیا تو انہیں خوشیوں کے انعام و اکرام سے نواز دیا گیا کہ جاؤ اپنے رب کے شکر کے ساتھ خوشیاں مناؤ۔ عیدالفطر کی خوشیوں کا مقصد صرف یہی نہیں کہ زرق برق لباس پہن کر خود نمائی میں حصہ لیا جائے بلکہ اصل خوشیاں تو یہ ہیں کہ غریب اور نادار لوگوں کی مدد کی جائے ان کیلئے بھی پیراہن و خوراک کا بندوبست کیا جائے عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملنے کا حکم کیوں دیا گیا؟ یہ عمل کسی اور نماز کے بعد کرنے کے لیے کیوں نہیں کہا گیا؟ عید کی نماز کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملنے کے عمل کو بھی معاشرتی بھلائی کے ایک حصے کے طور پر دیکھئے، برسوں ایک دوسرے کے گلے نہ لگنے والے کتنے خلوص اور محبت سے بڑھ کر ایک دوسرے کو گلے سے لگاتے ہیں ایسے ہی وہ گلے شکوے دور ہو جاتے ہیں جو دلوں کے درمیان حائل ہوتے ہیں، یہ عمل صرف عیدگاہ یا اہل محلہ تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر گھرانے اور خاندان کے افراد کے لیے بھی مسرت و شادمانی کا ایک ذریعہ ہے۔
اسلام نے سالانہ دو عیدوں کا تصور پیش کیا ہے ایک عید الفطر اور دوسری عیدالاضحی دونوں عیدوں میں نہ مخلوط مجلسوں کی اجازت دی گئی نہ آتش بازی کی۔ نہ چراغاں کی شکل میں دولت لٹانے کی گنجائش رکھی گئی نہ رقص و سروراور شراب و کباب کی محفلوں کی، عید کے موقع پر مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی خوشیوں میں غریبوں اور ناداروں کو بھی شامل کریں۔ نماز عیدالفطر کی ادائیگی سے پہلے مستحقین میں صدقہ، فطرانہ تقسیم کریں تاکہ وہ بھی اچھا لباس خرید سکیں اور اچھے کھانے کھا سکیں۔ باقی دنوں میں پانچ نمازیں ادا کرنے کا حکم ہے لیکن عیدالفطر اور عیدالاضحی پر ہر عاقل اور بالغ مسلمان کو چھ نمازیں ادا کرنا ہیں۔ پانچ نمازیں محلہ کی مسجد میں ادا ایک نماز کھلے میدان یا بڑی مسجد جہاں علاقہ بھر کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوں۔ عیدالاضحی پر جانور قربان کرن کا حکم ہے۔ مسلمان جانور قربان کر کے ان کا گوشت خود بھی کھاتے ہیں اور رشتہ داروں ، دوستوں، اور ضرورت مندوں میں بھی تقسیم کرتے ہیں۔ کہاں داد عیش دینے والوں کی عید اور کہا مسلمانوں کی اﷲ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت میں گزاری جانے والی عید۔
عیدالفطر کی خوشیاں ان خوش نصیبوں کیلئے ہیں جنہوں نے ماہ رمضان میں اﷲ کی حکم برداری کرتے ہوئے روزے رکھے اور ان کے تقاضوں کو پورا کیا۔ یہ عید ان کیلئے پیغام مسرت ہے جنہوں نے رمضان المبارک کی راتوں کو قیام کیا اور قیام کے تقاضوں کا خیال رکھا۔ عید ان کیلئے شادمانیوں کی نوید ہے جنہوں نے قرآن کریم کی تلاوت کی سعادت حاصل کی۔ عید ان سعادت مندوں کیلئے خوشیوں کا پیغام ہے جنہوں نے رمضان میں دوسروں کی غم خواری کی۔ محتاجوں اور ضرورت مندوں کی تکلیفوں اور پریشانیوں میں شریک ہو کر ان کی ہمدردی کی۔ جو صدقے دے دے کر اﷲ کو راضی کرتے رہے۔ نوافل میں جتے رہے۔ ذکر الٰہی میں مشغول رہے۔ جنہوں نے اعضاء وجوراح کو اﷲ تعالیٰ کی نافرمانیوں سے روکے رکھا میں روزے سے ہوں، جو حرام خوری سے بچے رہے۔ بد دیانتی، لوٹ کھسوٹ، ہیرا پھیری، گالی گلوچ، غیبت، بہتان تراشی، راہزنی، قتل وغارت ، بے حیائی، جھوٹ، مکرو فریب اور ظلم سے گریز کرتے رہے۔ عید کی مسرتیں ان کیلئے ہیں جو شرک جلی یعنی اﷲ تعالیٰ کی ذات، صفات، احکام اور عبادات میں کسی کو شریک ٹھہرانے اور شرک غفی یعنی ریاکاری سے مکمل اجتناب کرتے رہے عید کا چاند نظر آنے سے صحیح معنوں میں فرحاں و شاداں وہ ہوں گے جنہوں نے نیکیوں کے موسم بہارکے ریفریشر کورس میں روح کی تازگی کا سامان کرلیا اور آئندہ کیلئے تمام فواحش و منکرات سے مکمل پرہیز کا عزم مصمم کر لیا۔
عید کی گھڑیاں ان کیلئے مسرت کا پیغام نہیں لائیں گی جو ملاوٹ،چور بازاری، ذخیرہم اندوزی، ناپ تول میں کمی سے اور اعلیٰ نمونہ دکھا کر گھٹیا او ر غیر معیاری اشیاء فروخت کر کے لوگوں کی جیبیں لوٹتے رہے۔ وہ بد نصیب بھی ان خوشیوں میں شریک نہیں ہو پائیں گے جنہوں نے رمضان کی بیش قیمت گھڑیاں لہو و لعب میں گزار دیں۔ جن خوش نصیبوں نے ایمان و احتساب کے ساتھ روزے پورے رکھے وہ عید الفطر کی نماز کی ادائیگی کیلئے اپنی بساط کے مطابق نہا دھو کر اچھا لباس زیب تن کر کے نکلیں گے اور زبانوں پر اﷲ کی کبریائی کے بول ہوں گے۔ اﷲ اکبر اﷲ اکبر لا الہ الا اﷲ واﷲ اکبر اﷲ اکبر وﷲ لحمد (اﷲ سب سے بڑا ہے۔ اﷲ سب سے بڑا ہے۔ اﷲ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اﷲ سب سے بڑا ہے۔ اﷲ سب سے بڑا ہے اور عبادت کیلئے مخصوص تمام تعریفیں اﷲ ہی کیلئے ہیں)
نمازیں تو اس سے پہلے پڑھی جاتی تھیں اور ان میں بار بار تکبریں بھی کہی جاتی تھیں لیکن نماز عیدالفطر میں چھ زائد تکبریں ہوں گی۔ گویا اﷲ کی کبریائی کا اعلان عام دنوں سے بڑھ کر ہو گا۔مختلف کنبوں قبیلوں کے لوگ مختلف پیشوں سے تعلق رکھنے والے وسائل کے اعتبار سے مختلف درجوں میں تقسیم، رنگوں، نسلوں اور زبانوں کے اختلافات کو بھلا کر کندھے سے کندھا ملا کر کھڑے ہوں گے۔ اﷲ کی کبریائی کے بول بول کر نماز کا آغاز کریں گے اور دو رکعت نماز عید الفطر ادا کریں گے۔ جو اظہار تشکر کیلئے ہے۔ شکر اس ذات کا جس نے زندگی میں ایک دفعہ پھر رمضان کے بابرکت مہینے میں اپنی غلطیوں ، کوتاہیوں اور خطاؤں پر گڑ گڑا کر رب سے معافی مانگنے کا موقع فراہم کیا، جس نے اپنے فضل و رحمت سے ایک دفعہ پھر وہ مہینہ دکھایا جس میں نفل کا ثواب فرض کے برابر اور فرض کا اجر کم از کم ستر گنا کر دیا جاتا ہے۔ اﷲ کی کبریائی کے اقرار کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی اور دیگر مخلوقات کی بڑائی کی نفی کرے۔ ساری مخلوقات کو محتاج اور صرف اﷲ کو غنی مانے اور شکر کا ایک معنی تو اﷲ کے احسانات کا اقرار و اعتراف ہے اور دوسرا اور دراصل معنی اس کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر یعنی ان کا صحیح استعمال ہے۔ مسلمان نماز عید ادا کر کے ایک طرف تو رمضان المبارک شکل میں اﷲ تعالیٰ کے بے بہا احسانات کا شکر ادا کرتے ہیں دوسری طرف وہ سجدہ ریز ہو کر اﷲ سے عہدے کرتے ہیں کہ اے تمام نعمتیں عطا کرنے والے آقا مولا! ہم آج سے تیری بخشی ہوئی تمام نعمتوں کو اس طرح استعمال کریں گے جس طرح تو نے حکم دیا۔ گویا آنکھیں ، کان، ناک، منہ، زبان، دل، دماغ، ہاتھ، پاؤں، سب اعضاء اور ان کی صلاحیتیں تیرے حکموں پر قربان۔ سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔ اس سے بڑھ کر مال، اولادو عزت، اقتدار، برادری، رشتے، ناطے، غرضیکہ سب کچھ اسی طرح کام میں لائیں گے جس طرح تیرا ارشاد ہوگا۔ یہ وہ مقام ہے کہ جب مسلمان اس طرح اپنے رب کا ہو جائے تو رب اس کا ہو جاتا ہے۔ پھر دنیا و آخرت میں بندہ مومن کو کسی مرحلے پر ناکامی کا کوئی خطرہ نہیں رہتا۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •