Voice of Asia News

’’میاں صاحب مریم نوں سیاست وچ آن دو‘‘:سیف اعوان

خدا جانے میاں نواز شریف کی قسمت ایسی ہے یا حالات کچھ ایسے پیدا کر دیے جاتے ہیں کہ نواز شریف کو وزارت عظمیٰ سے الگ ہونا پڑجاتا ہے۔۔۔ایسا ہی دوسری بار 1998میں میاں نواز شریف سے ہوا۔جنرل پرویز مشرف نے دوتہائی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہونے والے میاں نواز شریف کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور جنرل صاحب خود اقتدار پر قابض ہو گے۔میاں نواز شریف کو بما اہل و عیال ملک سے جلا وطن کردیا گیا۔میاں نواز شریف نے نو سالہ جلاوطنی کاٹی لیکن جب نواز شریف دوبارہ پاکستان واپس آیا تو پہلے سے مزید طاقتور بن کر آیا ۔پھر 2013کے الیکشن میں ایک بار پھر میاں نواز شریف دوتہائی اکثریت سے وزیر اعظم منتخب ہوئے ۔میاں نواز شریف کی طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام آباد کے ڈی چوک میں ایک انقلابی مولوی اور نئے پاکستان کانعرہ لگانے والے کپتان نے اپنے بلوائیوں کی مدد سے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کردیا ۔اس حملے کے بعد میاں نواز شریف نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران انکشاف کیا کہ مجھے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس پی آر عاصم باجوہ نے دو آفرز کی پہلی یا وزرات عظمیٰ سے الگ ہو جاؤ دوسری یا پاکستان سے نکل جاؤ اور کسی اور ملک مین بما اہل و عیال مستقل رہائش پذیر ہو جاؤلیکن میں نے دونوں آفرز مسترد کردی۔دھرنہ ختم ہوا پھر ایک نیا عالمی سکینڈل ’’پاناما لیکس ‘‘ کی شکل میں سامنے آیا۔جس میں میاں نواز شریف کے تینوں بچوں مریم نواز،حسین نواز اور حسن نواز کے نام سامنے آئے۔پاناما لیکس میں میاں نواز شریف کے بچوں کے نام سامنے آنے پر کچھ لوگ جمع تفریق کرنے والے کی خواہش پر سپریم کورٹ میں نواز شریف کیخلاف عرضی لے کر گئے لیکن اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا یہ کیس سپریم کورٹ آف پاکستان کے سننے والا نہیں آپ لوگ ایف آئی اے اور دیگر متعلقہ فورم سے رابطہ کریں۔جسٹس تصدق حسین جیلانی کی ریٹائرڈ منٹ کے بعد دوبارہ ایک عرضی نواز شریف کیخلاف سپریم کورٹ میں آئی جس کو سپریم کورٹ نے خوش آمدید کہا اور قصہ مختصر میاں نواز شریف کو تیسری بار وزرات عظمیٰ سے الگ کردیا گیا۔یاد رہے جس طریقے سے میاں نواز شریف کو تیسری مرتبہ وزارت عظمیٰ سے الگ کیا گیا یہ پیشگوئی بھارت کے ایک نامور صحافی 2016میں اپنی ایک سٹوری میں تفصیل سے بیان کر چکے ہیں کہ اس مرتبہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فوج ٹیک اوور نہیں کرے گی اور نواز شریف کو عدالت کے ذریعے اقتدار سے الگ کیا جائے۔پھر ایسا ہی ہوا نواز شریف کو عدالت کے ذریعے ہی وزارت عظمیٰ سے الگ کیا گیا۔
اب ہم آتے ہی اصل بات کی طرف ۔۔۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب میاں نواز شریف جلاوطنی کے دوران لندن میں رہائش پذیر تھے ۔میاں نواز شریف کے ایک قریبی دوست اور ہمدرد لندن میں نواز شریف کے گھر میں موجود تھے ۔قریبی دوست،مریم نواز اور نواز شریف ایک ہی صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے مریم نواز نے ان صاحب کی کمر میں کونی ماری تو وہ قریبی دوست بولے ’’میاں صاحب مریم نوں سیاست وچ آن دو‘‘ لیکن نواز شریف نے کوئی جواب نہ دیا مریم نواز نے پھر ان صاحب کو کونی ماری انہوں نے وہی الفاظ پھر دہرادیے لیکن نواز شریف کی جانب سے کوئی جواب نہ آیا مریم نواز نے پھر وہی کیا اور ان صاحب نے پھر وہ الفاظ دہرائے اوراس مرتبہ میاں نواز شریف نے دونوں کی طرف غور سے دیکھا اور کمرے سے باہر چلے گئے ۔مریم نواز اور ان صاحب کے درمیان یہ باتیں پہلے سے طے پا چکی تھی مریم نواز خود بھی سیاست میں آنا چاہتی تھی لیکن میاں نواز شریف کی طرف سے کوئی حوصلہ افزاء جواب نہ آنے پر دونوں مایوس ہوئے۔اسی دن پاکستان سے ایک صاحب میاں نواز شریف کے لیے آموں کی تین پیٹیاں لے کر آئے تھے کیونکہ میاں نواز شریف کو آم بہت پسند ہیں ۔وہ شخص تین مرتبہ میاں نواز شریف کے گھر کے باہر آئے اور نواز شریف سے ملنے کی درخواست کی لیکن میاں نواز شریف نے ان سے ملنے سے انکار کردیا مجبورا وہ صاحب آم میاں نواز شریف کے دروازے پر چھوڑ کر چلے گئے ۔وہی آم مریم نواز نے نواز شریف کے قریبی دوست اور ہمدرد کے سامنے لا کر رکھ دیے ۔ان صاحب نے آم کھاتے ہوئے کہا بیٹا آم تو بہت مزے دار ہیں ۔مریم نواز نے کہا انکل یہ آم پاکستان سے ایک صاحب ابوکیلئے لائے ہیں ۔ابو کو آم بہت پسند ہیں ۔وہ صاحب صبح کے تین چکر لگا چکے ہیں لیکن ابو ان سے ملاقات نہیں کر رہے پھر وہ مجبورا آم چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔میاں نواز شریف کے قریبی دوست نے پوچھا بیٹا یہ آم کو ن لائے ہیں مریم نواز نے کہا انکل چوہدری شجاعت حسین لے کر آئے ہیں ۔پھر وہی صاحب لندن سے واپسی پر جس جہاز میں بیٹھے اس میں چوہدری شجاعت بھی بیٹھے تھے اور قسمت سے ان صاحب کی سیٹ بھی چوہدری شجاعت صاحب کے ساتھ والی تھی ۔ان صاحب نے بیٹھتے ہی کہا چوہدری صاحب آپ کے آم بہت مزہ دار تھے چوہدری شجاعت ہکے بکے رہ گئے ان صاحب کو آموں کے بارے میں کیسے پتہ چلا ہے ۔
پھر ایک وقت آیا۔۔۔ جب مریم نواز کا سیاست میں طوطی بولنے لگا ۔مریم نواز نے پوری قوم اور میڈیا کی توجہ حاصل کرلی ۔مریم نواز کی سیاست میں انٹری سے مسلم لیگ ن میں جیسے کسی نے نئی روح ڈال دی ہو۔ مریم نواز کا ایک نعرہ جیسے بہت پذیرائی ملی ۔مریم نواز نے یہ نعرہ اپنی بیمار والدہ بیگم کلثوم نواز کی لندن میں عیادت کے بعد میڈیا سے گفتگو کے دوران لگایا’’ڈرتے ہیں بندوقوں والے ایک نہتی لڑکی سے‘‘پھر اس نعرے نے ملک گیر شہرت حاصل کرلی۔کہا جاتا ہے یہی نعرہ مریم نواز کو بھی جیل لے کر جانے کا باعث بننا۔کچھ عرصے کے بعد مریم نواز وہی انکل سے ملی جہنوں نے میاں نواز شریف سے مریم نوازکو سیاست میں آنے کی اجازت مانگی تھی ۔مریم نواز کے وہی انکل مریم نواز کی کامیابیوں سے بہت خوش ہوئے اور ان کو دعائیں دی۔آج مریم نواز مسلم لیگ ن کی پہچان بن چکی ہیں ْاب یہ دیکھنا ہے کہ مریم نواز اپنے والدکے مشن میں کامیا ب ہوتی ہیں یا نہیں۔

saifawan60@gmail.com

 

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •