Voice of Asia News

مہنگائی نے محنت کشوں سے ان کی خوشیاں چھین لی ہیں: شوکت علی چوہدری

پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ترقی کا عمل اس کی آزادی کے بعد لگ بھگ 71 سال قبل شروع ہوا۔اگر آزادی سے قبل کے حالات کا جاہزہ لیا جاے تو یہ علاقہ صنعتی طور پر کوئی ترقی یافتہ خطہ نہیں تھا۔ البتہ زراعت میں اس خطہ کی صورت حال قدرے بہتر تھی اور نہری نظام کے موجود ہونے کی وجہ سے زرعی پیداوار بھی زیادہ تھی لیکن اس زرعی پیداوار اور زرعی زمینوں پر قبضہ بڑے بڑے وڈیروں،خانوں،ملکوں اور جاگیرداروں کا تھا اور ان زمینوں پر دن رات محنت کر کے پیداوار کرنے والے ہاریوں اور کسانوں کی حالت کبھی بھی قابل رشک نہیں رہی تھی اور نہ آج تک ہے۔ تعلیمی میدان میں بھی صورت حال انتہائی پسماندہ تھی اور آج تک ہے۔زندگی کی وہ سہولیات جو اصولی طور پر ہرشہری کا حق ہوتی ہیں وہ ان سے ہمیشہ محروم رہیاور آج تک ہیں۔البتہ اس ملک کے وڈیروں۔خانوں۔ملکوں اور جاگیرداروں کی اُولادوں نے دنیا کی بہترین تعلیمی درسگاہوں سے ڈگریاں حاصل کیں اور بتدریج انہوں نے پاکستان کی سیاست اور صنعت کے ساتھ ساتھ اقتدار پر بھی اپنی گرفت کو مضبوط کیااور قانون سازی کے علاوہ پالیسی سازی جیسے اہم امور کو اپنے قبضہ قدرت میں کر لیا،اعلی ڈگری یافتہ ان جاگیرداروں، وڈیروں ،خانوں اور ملکوں نے ملک میں طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آنے والے فوجی حکمرانوں کے ساتھ اشراک عمل کرتے ہوے اپنی سماجی مالی اور سیاسی حیثیت کو مزید مضبوط کرتے ہوے قومی وسائل کو اپنی زاتی شان و شوکت کو بڑھانے کے لیے استعمال کیا اور آج تک پاکستان میں ایسی پالیسی سازی ممکن نہی ہو سکی جس کے بارے میں کوء یہ کہہ سکے کہ یہ پالیسیاں اس ملک کے محنت کشوں کسانوں اور غریب عوام کی فلاح و بہبود کے لیے بنائی گی ہوں اس کے علاوہ پاکستان میں صنعت کاروں اور کاروباری حضرات کی کوئی خاص قابل ذکر تعداد موجود نہی تھی اس لیے یہاں صنعت کاری کا عمل بھی ہمیشہ کمزور ہی رہا اور آج تک کمزور ہی ہے۔ٹیکساٹیل کا شعبہ پاکستان کی صنعت میں کلیدی حیثیت رکھتاہے اور اس شعبہ سے محنت کشوں کی بھی بہت بڑی تعداد اپنا رزق حاصل کرتی ہے لیکن اس شعبہ کی پس ماندگی کا یہ عالم ہے کہ اس شعبہ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز سمیت مشینری تک اربوں ڈالر خرچ کرکے ترقی یافتہ ممالک سے درآمد کی جاتی ہے اور اس شعبہ سے زرمبادلہ کمانے کے جو اعداوشمار سرکاری رپورٹس میں قوم کو پڑھنے کو ملتے ہیں اگر ان کا موازنہ اس شعبہ کے لیے منگواے گے کیمیکلز اور مشینری کے لیے خرچ کیے گے زرمبادلہ سے کیا جاے تو نتیجہ کبھی بھی ہمارے قومی مفاد میں نہیں ہو گا۔دن رات کی محنت اور خون پسینہ ایک کر کے اس ملک کا ننگے بدن اور ننگے پاوں سردی گرمی کو برداشت کرنے والے کسان کی ساری کی ساری محنت کو اس ملک کے پالیسی ساز بڑی آسانی سے ترقی یافتہ ممالک کے حوالے کردیتے ہیں اور اس کے عوض اپنی اولادوں اور خاندانوں کے لیے کیا کیا مراعات حاصل کرتے ہیں ان کا علم اس ملک کے محنت کشوں کونہ ہوسکا ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکے گا۔اس ملک میں حکمرانوں کی طرف سے ترقی اور خوشحالی کے چرچے ہر وقت سننے کو ملتے ہیں اور یہ وہ شعبہ ہے جس میں ہر حکمران نے ہمیشہ جھوٹ بولا ہے اور کمال ڈھٹاء سے بولا ہے اور مسلسل بولتے چلے جارہے ہیں۔ اول تو وطن عزیز میں صنعت کاری نہ ہونے کی بنا پر روزگار کے مواقع ہی بہت کم ہیں دوسرے ان محبت کشوں کو ملکی قوانین کے مطابق بہت ہی کم مراعات دی جاتی ہیں۔اس وقت حکومتی اعلانات کے مطابق محنت کشوں کی کم سے کم ماہانہ تنخواہ 16 ہزار روپے ہے اور یہ 16 ہزار بھی بہت سے مالکان فیکٹری محنت کشوں کو ادا نہی کرتے۔ایک محتاط اندازے کے مطابق 60 فیصدسے زیادہ اداروں میں محنت کشوں کو ماہانہ 8 ہزار سے 12 ہزار روپے سے زیادہ ادا نہیں کیا جاتا اس کے علاوہ مارکیٹ میں بڑھتی ہوے افراط زر کی وجہ سے قیمتوں میں ہونے والا اضافہ محنت کشوں کی قوت خرید کو روز بہ روز کم سے کم کرتا جارہا ہے۔ایک سروے کے مطابق 5 افراد کی فیملی کو گھر کے کراے کی ادائیگی سے لے کر دیگر اخراجات کے لیے کم سے کم 45 ہزار روپے ماہانہ کی ضرورت ہے۔ اصل میں تو حکومت کو تنخواہوں میں اضافہ مارکیٹ میں موجود افراط زر کی مناسبت سے کرنا چاہیے جو کہ آج تک کسی بھی حکومت نے نہی کیا۔دوسرے مارکیٹ میں قیمتوں پر حکومتی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے روز مرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں جس تیزی سے اضافہ ہوتا ہے وہ محنت کشوں کو جیتے جی مار دیتا ہے۔ماہ رمضان کے بابرکت مہینہ سے عید کے عرصہ میں جس رفتار سے قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے وہ 16 ہزار روپے ماہانہ کمانے والے محنت کشوں کو زندہ درگور کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہ ہی وجہ رہی کہ اس عید پر نہ تو محنت کش اپنیخاندانوں کے لیے مناسب حد تک خریداری کر سکے اور نہ ہی مارکیٹوں میں خریداری کا رحجان مثبت رہا۔ اس سے اگر ایک طرف محنت کش عید کی خوشیوں سے محروم رہے تو دوسری طرف پاکستانی صنعت کاروں کی پیداوار بھی متاثر ہوء اور محنت کشوں کے نئی مللازمتوں کے مواقع میں کمی ہوء۔ اس طرح حکومتی پالیسیوں اور انتظامی کمزوریوں نے صنعت کاروں اور محنت کشوں کو بری طرح متاثر کیا۔اور IMF سے قرض لینے کیلیے بجلی گیس اور آے روز پٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور آنے والے بجٹ میں 700 ارب روپے کے نیے ٹیکسوں کو عوام پر مسلط کرنے کی افواہوں نے بجٹ سے قبل ہی ہر شے کی قیمتوں کو پر لگا دہیے ہیں۔اس مہنگاء سے سب سے زیادہ متاثر ہمیشہ کی طرح تنخواہ دار طبقہ کے ساتھ ساتھ دہاڑی دار مزدور۔کسان ہاری اور غریب عوام ہی ہوں گے۔آپ کہہ سکتے ہیں کہ بڑھتی ہوء مہنگاء نے ملک کے کروڑوں محنت کشوں کسانوں اور ہاریوں سے ان کی تمام خوشیاں چھین لی ہیں۔ڈالر کی قیمتوں میں اضافہ نے بھی مارکیٹ پر بہت منفی اثر ڈالا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ مہنگائی کا نہ تھمنے والا طوفان ہر شے کو روندتے ہوے کسی آسیب کی طرح آگے بڑھ رہا ہے۔
mazdoormahaz@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •