Voice of Asia News

میڈیا بحران ، سازشیں اور حقائق: محمد نوازطاہر

معروف خیبر میل ایکسپریس کو پاکستان ریلویز کی مین لائن کی پہلی ٹرین کا اعزاز حاصل ہے ۔ ریلوے ریکارڈ میں اس کا نمبر ون اپ اور ٹو ڈاؤن ہے ،درہ خیبر سے منسوب یہ ٹرین پشاور سے کراچی تک بتیس سٹاپ کرتے ہوئے سترہ سو اکیس کلومیٹر کا سفر کم و بیش بتیس گھنٹوں میں طے کرکے منزل پر پہنچتی ہے ۔ کبھی اس ٹرین کو تیز رفتار گاڑی قراردیا جاتا تھا ، وقت گذرنے پر اسے بہت سے لوگ ’کچھوا‘ کہنے لگے ہیں ۔
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس ( پی ایف یو جے) کی بھی قریب قریب یہی پوزیشن ہے ۔ یہ یونین انیس سو بیالیس میں قائم ہونے والی پنجاب یونین آف جرنلسٹس ( پی یو جے) ۔ اس کی قریب قریب ہم عصر سندھ یونین آف جرنلسٹس( موجودہ کراچی یونین آف جرنلسٹس ) اور راولپنڈی یونین آف جرنلسٹس ( موجودہ راولپنڈی اسلاب آباد یونین آف جرنلسٹس )، ڈھاکہ و چٹا گانگ یونین آف جرنلسٹس کی فیڈریشن تھی ۔ کارکنوں کے جملہ حقوق ، آزادی اظہار رائے کے ساتھ ساتھ شہری آزادی کی علمبردار ہونے کا تحریری نصب العین ( دستور) رکھنے کا بھی امتیاز اسی کو ہے جبکہ تب تک پاکستان کا کوئی تحریری دستور نہیں تھا ۔
پی ایف یو جے کو میں نے سنہ دو ہزار پانچ میں خیبر میل قراردیا تھا ، تالیاں بجانے اور صفیں سیدھی کرنے کی لمبی مسافت کے بعد میں تب پہلی بار مرکزی یونین کا حصہ بنا تھا یعنی سینئر نائب صدر منتخب ہوا تھا۔ اس الیکشن میں کچھ اصولوی اختلاف رائے کی بنا پر بلوچستان یونین آف جرنلسٹس( بی یو جے ) کے ساتھی ناراض ہوگئے تھے اور پہلی ایف ای سی میں بائیکاٹ کرگئے تھے ۔، اسی ایف ای سے نے اُس وقت کے صدر پرویز شوکت( اسلام آباد ) اور سیکرٹری جنرل مظہر عباس( کراچی) کوذمہ داری سونپی کہ وہ ناراض ساتھیوں کو منائیں لیکن مگر عملی طور پر کچھ نہ کیا گیا بلکہ ہر ایف ای سی میں اس حوالے سے کوئی نہ کوئی عذر جواز پیش کیا جاتا رہا ، تب یونین کے فنانس سیکرٹری محمد ابراہیم کاتعلق پشاور سے تھا ، میں سنیئر نائب صدر لاہور ، ایک نائب صدر بلال تھہیم اسلام آباد سے ۔ ایک اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل ( جاوید صدیقی )فیصل آباد اور دوسرے مخدوم بلال لاہور سے تھے۔ میرا موقف تھا کہ پی ایف یو جے چاروں صوبوں کی نمائندگی نہیں کررہی اس کی حیثیت خیبر میل جیسی ہو کر رہ گئی ہے ۔ خیبر میل ہمارے فنانس سیکرٹری محمد ابراہیم کو پشاور ست اٹھاتی ہے ۔راولپنڈی میں پہلا سٹاپ کرتی ہے جہاں سے صدر پرویز شوکت اور نائب صدربلال تھہیم کو لیتی ہوئی لاہور پہنچتی ہے جس میں سینئر نائب صدر ( میں خود ) اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل مخدوم بلال ایف ای سی کے کچھ ساتھیوں سمیت سوار ہوتے ہیں اور کراچی پہنچ جارتے ہیں جہاں سیکرٹری جنرل مظہر عباس رہتے ہیں ۔ خیبر میل کم و بیش پورے پاکستان کا سفر کرتی ہے بس بلوچستان کی سرحد کے قریب سے گذر جاتی ہے( البتہ چلتن ایکسپریس کو چاروں صوبوں سے گذرنے کا اعزاز حاصل ہے) جیسے پی ایف یو جے سارے پاکستان کے صحافیوں کی نمائندہ ہے لیکن بلوچستان والے ساتھی ناراض ہیں اور اس کے اجلاس ( کچھ) میں شریک نہیں ہورہے ۔ناراض ساتھیوں کو منانے میں کوتاہی کی بنیادی وجہ یونین کو توڑنے کی طرف ایک قدم تھا جسے بلوچستان کے ساتھیوں نے بھانپ لیا تھا اور یہ کوشش اگلی مدت میں سنہ دو ہزار سات میں منتخب ہونے والے صدر ہما علی نے ناکام بنادی تھی اور خیبر میل پھر سے چلتن ایکسپریس کی طرح پورے پاکستان مین چلنے لگی یعنی پی ایف یو جے مکمل طور پر نہ صرف ؓحال ہوگئی بلکہ دوسرے اسٹیشن بھی شامل ہوگئے ۔ اس کے بعد سنہ دو ہزار نو میں ہما علی کو الیکشن میں ناکام کرنے کیلئے کئی قوتیں میدان میں اتریں،ایسے ساتھی بھی چمک سے چندھا گئے جو اپنے نام سے پہلے ہما علی کا ذکر انتہائی احترام سے کرتے تھے لیکن الیکشن میں وقتی مفاد کی خاطر طعنہ بنے س مقابل کھڑے تھے ، کچھ ( اﷲ معاف فرمائے ) وقت کی سخت گرفت میں بھی ہیں ۔یہ ریاست اور میڈیا میں تصادم کا دور تھا ، کچھ مسائل کارکنوں کے بجائے ایسے تھے جو قطعی طور پر میڈیا مالکان کے ذاتی مفاد پر مشتمل تھے اور ہما علی میڈیا مالکان کی پچ پر کھیلنے سے انکاری تھے۔نئی باڈی منتخب ہوتے ہی وہ سارے کام مرحلہ وار ہونے لگے جن کی کچھ ریاستی عناصر اور زیادہ میڈیا مالکان کو ضرورت تھی پھر سنہ دوہزار چودہ ہو پی ایف یو جے ضیا الحق کے دور کی طرح ایک بار پھر ٹوٹ گئی اور دو حصے بن گئے جس کی یونی فکیشن کی کوشش کی گئی جو یونین توڑنے والوں نے کامیاب نہ ہونے دی، اسی دوران ایک نئی ایپنک بھی بنادی گئی ، یہ ایپنک ختم ہوئی تو ڈیڑھ سال قبل اس پر ایک اور وار کیا گیا جو پاری طرح سے کارگر ثابت نہ ہوسکا اسی دوران ریئسِ ایپنک شفیع الدین اشرف انتقال کرگئے تو قائد کے شہر کے آئی آئی چندری گڑھ روڈ پر ایک اور جال بنا گیا ۔ اس میں کچھ کریکٹر ز ’فِٹ ‘ کئے گئے ، جو خطوط کھینچے گئے ان کے مطابق ایک نئی ایپنک ، ایک نئی پی ایف یو جے کا خاکہ تیار کیا ۔ یہ خاکہ ایسا ہے جس کی نشاندہی میں نے کراچی میں سنہ دو ہزار چودہ میں یونین ٹوڑے جانے کے بارے میں الیکشن سے پہلے انکشاف کیا تھا لیکن کسی نے کان نہیں دھرا تھا ۔
اب سکرین پر ویسا ہی منظر پیش کیا جانے والا ( اﷲ ناکام فرمائے، آمین ) ہے ۔ اس کا سکریپٹ تیار اور اس پر عملدرآمد تیزی سے جاری ہے ۔ نئی ایپنک میں سے رنگ نکال کر ایک بلیک چہرے والی ایپنک لانے کی تیاری کی جارہی ہے ۔ یہ کارکنوں سے ملک گیر ہڑتال کروانے کا کئی عشروں بعد لیا جانے والا بدلہ ہوگا ، یہ اس شکست کا بدلہ بھی ہو گا جو میڈیا مالکان کو ساتویں ویج ایوارڈ کیس میں عدالتوں میں ہوئی تھی ۔ یہ الیکٹرانک میڈیا کے کارکنوں کو اپنے روزگار کے تحفظ کیلئے نیوز پیپز ایمپلائیز ( کنڈیشنز آف سروس) ایکٹ کی طرز پر قانون سازی کے مطالبے سے دور رکھنے کیلئے ایک واضح پیغام بھی ہوگا ۔
اس منصوبے پر عملدرآمد کے تمام تجربے کامیاب ہوچکے ہیں ۔ ان تجربات کے دوران میڈیا مالکان نے کارکنوں کو بھر پور بھڑکایا ، معاشی قتل کیا اور حکومتِ وقت کے خلاف موثر انداز سے استعمال کیا ، یعنی ایک تیر سے کئی نشانے کئے حالانکہ غیر جانبدارانہ تجزیہ کرنے والے کارکن اور صحافی جانتے ہیں کہ میڈیا کا بحران موجودہ حکومت کا پیدا کردہ ہرگز نہیں ہے لیکن میڈیا مالکان کی لائن پر چلنے والے مخصوص عناصر سوسائٹی اور کم فہم میڈیا ورکرز کو یہ باور کرانے میں کامیاب رہے ہیں کہ میڈیا کے بحران کہ ذمہ دار مو جودہ حکومت ہے ، اسی ’تجربے ‘ کے دوران عاقبت نااندیش ، اپنی جسامت اور طاقت کے برعکس گردن میں لوہے کا راڈ لئے قوت سے پرواز کی کوشش میں چھکے مارنے والے فواد چودھری ایک سازش کا شکار ہوکراطلاعات کی وزارت سے ہاتھ دھو بیٹھے اور میڈیا مالکان فرینڈلی سابق وزیر اطلاعات کو مشیر کے نام پر وزیر بنادیا گیا ہے،فواد چودھری یہ بھی نہ جان سکے کہ وہ اپنی پارٹی میں شیری رحمان جیسی مضبوط پوزیشن اور حیثیت نہیں رکھتے تھے جنہیں فردوس اعوان نے ری پلیس کیا تھا ۔ کیااس میں صداقت نہیں کہ فواد چودھری کو ہٹائے جانے کے بعد حکومت اور میڈیا مالکان کس طرح شیرو شکر ہوئے ہیں ، مختصر وقت میں میڈیا مالکان کو حکومت نے اربوں روپے کے چیک جاری کردیے جبکہ کارکنوں کو ان کچھ بھی نہیں ملا ۔۔۔؟ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کس اشاعتی و نشریاتی ادارے نے حکومت سے بھاری رقوم کے چیک لینے کے بعد کارکنوں کی تمام زیر التوا تنخواہیں ادا کردیں ؟ ( ایک ادارے نے تو حکومت سے چیک وصول کرنے سے پہلے ہی کارکنوں کے واجبات ادا کئے تھے جبکہ باقی اداروں کو صورتحال جوں کی توں ہے۔ جس ادارے نے جس بہانے سے اپنے اخبار بند کرکے کارکن بے روزگار کیے تھے ، وہ بحال ہوگئے ؟ حقیقت یہ ہے کہ کارکنوں کو مخصوص عناصر کے ذریعے حکومت اور خود ان کے مفادات کے خلاف استعمال کیا گیا اور فائدہ چند لوگوں نے اٹھایا ۔ اب بھی اگر کوئی کھیل سمجھ سے باہر سمجھتا ہے تو اس کی سادگی پر کیا کہا جائے ۔۔۔؟ وقت خود ہی بولے گا اور چیخ چیخ کر بولے گا ، الفاظ بہر حال ’ٹیپو‘ کے ‘ وفادار‘ کے نہیں ہونگے۔۔۔وہی ہونگے ، تاریخ پکارے گی ،، میر ،، میر ،،،میر ۔۔۔۔
reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •