Voice of Asia News

شوپیاں میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی،مزید 2نواجوان شہید

 
سرینگر( وائس آف ایشیا )شوپیاں میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی،مزید 2نواجوان شہید،لوگوں کا احتجاج،جھڑپوں میں متعدد زخمی ،اہلیان علاقہ کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی قابض اہلکاروں پر پتھراؤ،بھارتی فورسز کی جانب سے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کے ساتھ پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال ،علاقے میں کاروباری مراکز ،تجارتی ادارے ،سکول اور کالج بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل۔ تفصیلات کے مطابق منگل کو مقبوضہ کشمیر کے ضلع شوپیاں میں بھارتی فوج نے مزید دو نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے۔یہ واقعہ علی الصبح زینہ پورہ کے قریبی گاؤں آونیرہ میں پیش آیا۔فورسز کے مطابق علاقے میں مبینہ مجاہدین کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی جس پر آونیرہ گاؤں کو محاصرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا ۔ اس دوران ایک گھر میں چھپے دو مبینہ مجاہدین نے فائرنگ کر کے فرار ہونے کی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی۔اس دوران فورسز نے گھر کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا اور مکان کے ملبے سے دو لاشوں کو نکالا گیا جن کی شناخت سیار احمد بٹ ولد ثنا اﷲ ساکنہ ماچھوا کولگام اور شاکر احمد وگے ساکنہ آونیرہ کے طور پر ہوئی ہے۔بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ مذکورہ دونوں جنگجو انصار غزو الہند نامی عسکری گروہ کے ساتھ وابستہ تھے۔بھارتی فوج نے دعویٰ کیا ہے مارے جانے والے ذاکر موسیٰ کے قریبی ساتھی تھے۔ دریں اثناء واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگوں کی بڑی تعداد جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور بھارتی فورسز کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا ۔ اس موقع پر بھارتی فوج اور پولیس نے لوگوں کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس،لاٹھی چارج اور پیلٹ گنوں کا بے دریغ استعمال کیا جس کی زد میں آکر متعدد افراد زخمی ہو گئے۔اس موقع پر کشیدگی کے باعث کاروباری مراکز،دکانیں ،بازار اور تعلیمی ادارے بند کر دئیے گئے ،انٹر نیٹ اور موبائل سروس بھی معطل کر دی گئی۔ادھر شمالی کشمیر کے سوپور علاقے میں فورسز نے منگل کو جنگجو مخالف آپریشن عمل میں لاتے ہوئے تلاشی شروع کی۔یہ کارروائی سوپور کے وڈورہ پائین گاؤں میں عمل میں لائی جارہی ہے جہاں فورسز کو جنگجوؤں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔اطلاعات کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور اس او جی اہلکاروں نے مل کر وڈورہ کو محاصرے میں تلاشی آپریشن شروع کیا ہے۔گاؤں کے تمام راستے بند کردئے گئے ہیں اور فورسز کی کارروائی آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھی۔دریں اثناء وادی کے دیگر علاقوں میں بھی بھارتی فوج کے ہاتھوں نوجوانوں کی حالیہ شہادتوں کے خلاف تعزیتی ہڑتال اور احتجاج کا سلسلہ جاری رہا ۔ اس دوران کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند،بیشتر علاقوں میں انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی۔
وائس آف ایشیا11جون 2019 خبر نمبر1

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •