Voice of Asia News

انصاف چاہئے جو اس وقت ہی پورا ہوسکتا ہے جب تمام ملزمین کو پھانسی کی سزا ملے، آصفہ کا والد

 
کٹھوا( وائس آف ایشیا)جب پٹھان کورٹ کی عدالت میں اٹھ سال کی معصوم بچی آصفہ کی آبروریزی اور قتل کا فیصلہ سنا یا جارہا تھا اس وقت متوفی کے والدین دور پہاڑوں میں اپنی روزہ مرہ کی زندگی کی جدوجہد میں مصروف تھے۔ بھارتی ٹی وی رپورٹ کے مطابق آصفہ کا تعلق جموں وکشمیر کے مسلمان قبائیلی بکروال خاندان سے ہے ۔ سال میں دو مرتبہ قبائیلی بکروالوں کے سفر کی شروعات ہوتی ہے۔ان کی بیٹی10جنوری2018جو غائب ہوگئی تھی اور اس کی نعش ایک ہفتہ بعد جنگل سے ملی۔آصفہ والد نے کہاکہ ایسا کوئی دن نہیں جس روز میں اس کے متعلق سوچتانہیں ہوں۔وہ ہمیشہ میری آنکھوں میں ہے۔وہ مجھے بار بار یادآتی ہے۔وہ جانتے تھے کہ پیر روز فیصلہ آنے والا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فیصلے کے لیے باربار ان ہی باتوں کو دہرایاجارہا ہے جس کو عدالت میں رہ کر سننے میرے لئے برداشت نہیں ہے۔انہیں احسا س تھا کہ کیس کے تمام ملزمین قصور وار قرارنہیں دئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ کافی وقت لگا مگر تسلی نہیں ہوئی۔سب کو سزا ملنی چاہئے۔انہوں نے کہاکہ میری بیٹی کے اغوا عصمت ریزی او رقتل ہونے کے مہینوں بعد وہ واپس اس علاقے میں گئے تاکہ متوفی کی قبر میں دعا کرسکیں۔ بے قصور بچی کو بلاوجہہ قتل کردیاگیا اور ان تمام ملازمین کو جنھوں نے ہماری بچی ہم سے دور کردی وہ سزا کے مستحق ہیں تب ہی انصاف ہوگا۔مذکورہ ماں غمزدہ تھیں مجھے میری بیٹی کے ساتھ انصاف چاہئے جو اس وقت ہی پورا ہوسکتا ہے جب تمام ملزمین کو پھانسی کی سزا ملے۔ما ں نے کہاکہ دو ماہ قبل ہم اس کی قبر پر گئے تھے بہت یادآتی ہے ہم اب بھی رورہے ہیں۔ بھائی کی بیٹی کو ا س وقت گود لیاتھا جب ایک بس حادثے میں ان کے دونوں بچوں کی موت ہوگئی تھی۔متوفی کے والدین بکروال قبائیلی ہیں جو جموں کشمیر کی بارہ درج فہرست قبائیلی طبقات میں ہیں ۔بکروال قبائل کی آبادی محض 60,000کی ہے۔وہ اپنی زندگی پہاڑوں کے ہائی وے اور جنگلی علاقوں میں بسر کرتے ہیں۔ اس مقام پر رک جاتے ہیں جہاں پر ڈیرہ ڈالنے کا انہیں موقع مل جاتا ہے وہ سال میں چار ماہ گھاس والے میدان کی تلاش میں چلتے ہیں

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •