Voice of Asia News

شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو اپنے مداحوں سے بچھڑے سات برس بیت گئے

لاہور( وائس آف ایشیا) شہنشاہ غزل استاد مہدی حسن کو اپنے مداحوں سے بچھڑے سات برس بیت گئے ان کی ساتویں برسی آ ج جمعرات کو منائی جائے گی۔ کلاسیکل موسیقی کے خاندان سے تعلق رکھنے والے استاد مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو بھارتی ریاست راجھستان میں پیدا ہوئے۔انہوں نے 1957ء میں کراچی میں ریڈیو پاکستان سے باقائدہ گلوکاری کا آغاز کیا۔انیس سو باسٹھ میں فلم فرنگی کے گیت گلوں میں رنگ بھرے بادِ نور بہار چلے مہدی حسن کی پہلی مشہور غزل تھی۔ مہدی حسن کے چاہنے والے نہ صرف پاکستان اور بھارت بلکہ ساری دنیا میں موجود ہیں۔اور جہاں غزل گائی اور سنی جاتی ہے وہاں مہدی حسن کی مدھر آواز کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ان کا گیت اک حسن کی دیوی سے مجھے پیار ہوا تھا اتا مشہور ہوا کہ یہ گیت آج بھی مہدی حسن کے سب سے زیادہ مشہور گانوں میں شمار ہوتا ہے۔ مہدی حسن نے اپنی زندگی میں پچیس ہزار سے زائد فلمی گیت اور غزل گائیں۔مہدی حسن کو مشکل راگوں پر بھی کمال گرفت حاصل تھی وہ آوازجو دلوں کو چھو لیتی تھی،وہ شہنشاہ غزل مہدی حسن کی آواز تھی۔ ایسی آواز،اب ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی۔مہدی حسن کو حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اور ہلال امتیاز سمیت تمام نمایاں قومی سطح کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔گائیکی کے میدان میں بام عروج پر پہنچنے کی طویل جدوجہد کے بعد مہدی حسن فالج، سینے اور سانس کی مختلف بیماریوں کا شکار ہوگئے اور طویل علالت کے بعد 13 جون 2012 کو کراچی میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے لیکن ان کے گائی ہوئی غزلیں اور گیت آج بھی کانوں میں رس گھول رہی ہیں۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •