Voice of Asia News

امریکی گلوکارہ ریانا نے محبت کا اعتراف کرلیا

بارباڈوس(وائس آف ایشیا )شمالی امریکی کیریبین ملک بارباڈوس نژادامریکی گلوکارہ ریانا نے حال ہی میں دنیا کی امیر ترین گلوکارہ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ریانا کی مجموعی دولت 60 کروڑ امریکی ڈالر ہے جو پاکستانی 70 ارب روپے سے زائد بنتی ہے۔ریانا کی کمائی میں اضافہ نہ صرف گلوکاری کی وجہ سے ہوا بلکہ ان کی جانب سے میک اپ، خواتین کے زیر جامہ، گارمنٹ اور فیشن برانڈز میں سرمایہ سے بھی ان کی کمائی میں اضافہ ہوا۔دنیا کی امیر ترین گلوکارہ بننے سے قبل بھی وہ میڈیا میں دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے والے عرب ارب پتی سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی تھیں۔ریانا سعودی عرب کے کاروباری شخص حسن جمیل سے تعلقات کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، جن سے ان کے 2017 سے تعلقات ہیں۔دونوں کے درمیان جون 2018 میں اختلافات بھی سامنے آئے تھے اور رپورٹس تھیں کہ دونوں الگ ہوگئے ہیں، تاہم ایک بار پھر رواں برس مارچ میں دونوں کے درمیان صلح ہونے کی خبریں سامنے آئیں۔دونوں کے درمیان صلح کی خبریں سامنے آنے کے بعد انہیں ملتے ہوئے بھی دیکھا گیا، تاہم دونوں کو کبھی بھی سرعام ایک ساتھ نہیں دیکھا گیا۔ماضی میں ریانا سعودی نوجوان حسن جمیل کی شخصیت سے متعلق یہ اقرار کر چکی ہیں کہ وہ ماضی میں ان کے رہنے والے تمام مرد دوستوں سے بہتر اور سنجیدہ ہیں۔اور اب گلوکارہ نے تازہ انٹرویو میں اعتراف کیا ہے کہ یہ سچ ہے کہ وہ کسی سے محبت کرتی ہیں۔ انٹرویو میں ریانا نے اعتراف کیا کہ وہ محبت کرتی ہیں، تاہم انہوں نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جن سے وہ محبت کرتی ہیں۔گلوکارہ سے جب اس شخص کا نام پوچھا گیا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ ’وہ کس سے محبت کرتی ہیں یہ معلوم کرنے کے لیے لوگوں کو ’گوگل‘ کا سہارا لینا پڑے گا‘۔ریانا نے شادی سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کوئی جواب نہیں دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ انہیں جلد سے جلد ماں بننے کی جلدی ہے۔ریانا کا کہنا تھا کہ ان کے لیے ماں بننا دیگر کاموں سے زیادہ اہم ہے، تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کب تک اور کس کے بچوں کی ماں بنیں گی؟۔گلوکارہ کی جانب سے تازہ انٹرویو میں محبت کے اعتراف اور محبت کرنے والے شخص سے متعلق ’گوگل‘ سے مدد لینے کی بات کیے جانے کے امریکی و برطانوی میڈیا میں چہ مگوئیاں ہیں کہ انہوں نے عرب نوجوان حسن جمیل کا حوالہ دیا۔
 

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •