Voice of Asia News

کیا پھٹی ایڑھیوں کی وجہ سے پریشان ہیں؟ یہ نسخہ آزمائیں

لاہور(وائس آف ایشیا)پھٹی ایڑھیاں یا جلد پر زخم عام طور پر دیکھے جاتے ہیں, اس قسم کے داغ یا زخم شدید گرمی کی وجہ سے ہوتے ہیں. ہر عمر کے لوگوں کو پھٹی ایڑھیوں کا مسئلہ ہوتا ہے، اور یہ بہت درد ناک ہوتا ہے. یہاں تک کہ چلتے ہوئے پاؤں میں درد ہوتا ہے اور جلن کے ساتھ خون بھی نکلتا ہے.
پھٹی ایڑھیوں کی وجوہات
ان کے ہونے کی کچھ بھی وجوہات ہو سکتی ہیں اور یہ کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے. ہم یہاں پھٹی ایڑھیوں کی کچھ وجوہات بیان کر رہے ہیں. جو طریقے ہم بیان کر رہے ہیں اپنی ایڑھیوں کی حفاظت کے لئے آپ انکو نہیں اپنائیں گے
طویل مدت کے لئے چلنا یا کھڑے ہونا
اگر آپ بہت زیادہ عرصے تک چلنے کے عادی ہیں یا آپ زیادہ دیر تک کھڑے رہتے ہیں تو اس وجہ سے آپکے پاؤں کے پٹھوں پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے یہ پھٹ جاتے ہیں. لہذا اگر آپ کے لئے زیادہ دیر چلنا یا کھڑے رہنا بہت ضروری ہے تو ہمیشہ ایسے جوتوں کا انتخاب کریں جو آپکی ایڑھیوں کے لئے چلنے اور کھڑے ہوتے وقت آرام دہ ہوں. اب جب بھی جوتے خریدیں اس بات کو ذہن میں رکھیں.
کھلے جوتے یا سینڈل
ایڑھیوں کی خوبصورتی اور نرمی کو خراب کرنے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے. کھلے جوتوں اور سینڈل میں مٹی کے ذرات داخل ہو جاتے ہیں. مٹی اور گندگی کے ذرات جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں. اسکے علاوہ سینڈل اور کھلے جوتے بآسانی سے پاؤں کے کسی بھی حصے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. ہمیشہ بند جوتوں کا انتخاب کریں کونکہ یہ آپکے پاؤں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتے.
چھوٹے سائز کے جوتے
جب بھی آپ جوتا خریدنے جائیں ہمشہ عقلمندی سے جوتوں کا انتخاب کریں وہی جوتے لیں جن کا سول اندر سے نرم ہو اور آپکے پہننے کے لئے بھی آرام دہ ہوں، جوتا پہن کر چلیں اگر آرام دہ ہو تو فورا خرید لیں . آرام دینے والے جوتے ہی پاؤں کے لئے فائدہ مند ہیں تنگ جوتے بھی پھٹی ایڑھیوں کی وجہ بنتے ہیں.
دیگر عوامل
موسمی تبدیلیاں بھی پھٹی ایڑھیوں کی وجہ بنتی ہیں کیونکہ موسم سرما میں ایڑھیاں خشک ہو جاتی ہیں. آپکو چاہیے کہ اپنی ایڑھیوں پر لوشن لگائیں.
زیتون اور ناریل کا تیل
شیمپو کی مدد سے اپنے پاؤں اچھی طرح دھو لیں. کچھ دیر انکو خشک ہونے دیں پھر ان پر نیم گرم زیتون اور ناریل کا تیل مکس کر کے لگائیں. بچوں کی طرح نرم ملائم پاؤں حاصل کرنے کے لئے اس عمل کو دن میں دو مرتبہ دوہرائیں۔.

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •